لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1772دن ہوگئے

منگل 28 اکتوبر, 2014

کوئٹہ(ہمگام نیوز)لاپتہ بلو چ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنیوالوں میں بلوچ یکجہتی کونسلکےمرکزیکعہدیداروں نے لاپتہ افراد شہداء کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی ااور بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بلوچوں کو لاپتہ ااور ان کی تشدد زدہ مسخ شدہ لاشیں پھینکنے والے پاکستانی خفیہ ادارے ہیں جو اس حقیقت کو بے رحمانہ ریاستی دہشتگردی کی تاریکی میں چھپا کر رکھنا چاہتے ہیں اور جو بھی اس تاریکی میں سچائی کی شمع جلانے کی کوشش کرتا ہے تو اسے سفاکانہ تشدد اور قتل وغارت گری کا نشانہ بنا کر دوسروں کے خوف ودہشت کا پیغام دیا جاتا ہے یہی سچائی اب تک بلوچ بیان کرتے آرہے ہیں مگر اس پر کوئی کان دھرنے والا نہیں تھا دوسرا پہلو یہ ہے کہ بالادست قوتیں بلوچستان کی حقیقی تصویر کو کسی بھی صورت پنجاب سمیت مختلف قوموں کے عوام کے سامنے لانے پر تیار نہیں ہے انہیں خدشہ ہے کہ حقائق تک رسائی فورسز وخفیہ اداروں کی غیر انسانی اور غیر جمہوری بلوچ نسل کشی پالیسیوں پر اندرونی تنقید اور دباؤ کو جنم دے سکتی ہے جو جاری سیاسی بحران میں مزید اضافہ کرے گی وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ جنرل سیکرٹری فرزانہ مجید بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اس کے علاوہ درنددہ صفت سفاکیت کا چنگیزی عمل پاکستانی بالادست طبقے کا بلوچ قوم کے خلاف گہری نفرت اور عداوت کو بھی آشکار کرتا ہے اس پہلے حاجی رزاق سمیت بلوچستان خاص کر مکران سے درجنوں بلوچوں کو اغواء کرکے ان کی لاشوں کو کراچی کے مختلف علاقوں میں پھینک دیا جاتا تھا یہ عمل کچھ دن رک گیا

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0