لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1773دن ہوگئے

بدھ 29 اکتوبر, 2014

کوئٹہ ( ہمگام نیوز)لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1773دن ہوگئے لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنیوالوں میں نوشکی سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینئر عہدیدار میر خورشید احمد جمالدینی اپنے ساتھیوں کے ساتھ لاپتہ افراد شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور انہوں نے کہاکہ بدلتے وقت کے ساتھ قوموں اور قبائل کو آسمانی عذابوں وقدرتی آفات سے زیادہ زمینی بدی کی قوتوں کا سامنا کرنا پڑا یہ بدی کی طاقتیں وہ جابر اقوام وقبیلے اور انسانی گروہ تھے جنہوں نے کمزور اور پسماندہ اقوام وقبائل کے زمین اور وسائل پر بزور طاقت قبضہ کرتے ہوئے وہاں کے لوگوں کو اپنا غلام بنالیا یہ سماجی ارتقاء میں ایک ایسا مرحلہ تھا جہاں بھینٹ چڑھنے کا مقام اور طریقہ بدل گیا اب سربراہ اور بادشاہ کو اپنی قوم اور قبیلے کیلئے کسی مخصوص مستقل میں جاکر قربان نہیں بنا ہوتا تھا بلکہ اسے بیرونی قبضے جارحیت کے خلاف میدان جنگ میں لڑتے ہوئے جان دینا ہوتی تھی قربانی کا یہ نیا ڈھونگ سے قربان ہونے والوں کو قدیم دور میں دیوتاؤں کی خوشنوودی کیلئے بھینٹ چڑھنے والوں سے کہیں زیادہ عزت واحترام اور بلند مرتبہ عطا ہوا ان اقوام میں بلوچ بھی شامل ہے جس کے مخصوص مزاج اور روایات وتمدن نے ہمیشہ بیرونی جارحیت اور قبضے کی کوشش کے خلاف ناقابل فراموش دلیرانہ جدوجہد اور قربانیوں کی نئی تاریخ رقم کی وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ سیکرٹری جنرل فرزانہ مجید بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ آو ان خوابوں کو حقیقت میں تشکیل دینے کی جانب چند قدم بڑھائیں جن کیلئے خوبصورت اور مکسان بھرے بلوچ شہیدوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا وہ زندہ ہیں شہیدوں کو مردہ مت کہو وہ زندہ ہیں ان کی خوبصورت رو میں آزاد مملکت کے سورج کو طلوع ہوتے دیکھنے کیلئے بیتاب ہیں او آپنی خواہش آزاد مملکت کیلئے وقف کردیں ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0