لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1775دن ہوگئے

جمعرات 30 اکتوبر, 2014

کوئٹہ( ہمگام نیوز)لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1775دن ہوگئے لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنیوالوں میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی عہدیدار میر امان اللہ زہری نے ٹیلیفون پر لاپتہ افراد شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ جب ایک ریاست خود ترقی اور جدت سے بھاگتا ہے تو ہمیں کیسے ترقی دے گا یہاں ترقی کا نام صرف ٹارگٹ کلنگ اغواء شدت پسندی مذہبی منافرت دہشتگردی لاقانونیت لوٹ مار کرپشن اور رشوت معصوم انسانوں کا قتل عام مذہب کے نام پر اقلیتوں کا قتل عام بے روزگاری چوری ڈکیتی ہے میر امان اللہ زہری نے مزید کہاکہ قوم پرستی انسان کا ایک ایسا دلچسپ روپ ہوتا ہے جو اسے اس کے سرزمین کی ہوا مٹی اور پانی سے ملتی ہے انسان جب چھوٹا ہوتا ہے تو وہ کچھ بھی سمجھ بوجھ نہیں رکھتا ہے ماں باپ کی انگلی پکڑ کر چلنا سیکھتا ہے اور پھر بڑا ہونے لگتا ہے تو وہ اپنے وطن اور اپنے ارد گرد ہونے والے ظلم وبربریت کی ہر ایک کے چیلنج وپکار اور ان پر ہونیوالے ظلم کو برداشت نہ کرتے ہوئے ایک سوچ وفکر اور ایک جذبہ دل میں لئے سامراج کو شکست دینے کیلئے سرپر کفن باندھ کر گھومتا پھرتا ہے کیونکہ غلامی کے خلاف بیداری اس کی زندگی ہوتی ہے انہوں نے کہاکہ یہ دنیا کا دستور ہے کہ یہاں انہی لوگوں کو یاد رکھا جاتا ہے جو اپنے منشور نظریہ پر ڈٹے رہتے ہیں اور وہ اپنی زندگیاں غربت پریشانی میں گزار کر بھی اپنے مقاصد میں کامیاب ہوجاتے ہیں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ اور جنرل سیکرٹری فرزانہ مجید بلوچ نے میر امان اللہ زہری سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ قومی شعور آپ کو قومی تشکیل کی طرف لے جاتا ہے جہاں پر ایک ایسے قوم کا وجود دیکھنے کو ملتا ہے جو اکیسویں صدی کے عین مطابق انسانی بنیاد پر قائم کی جاسکے جہاں سے انسانوں کے ہاتھوں کا استحصال نہ ہوں انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہ ہو ایک طرف میرے وطن میں بے گور وکفن لاشیں بلوچ گدانوں پر بم یارمنٹ گھروں کا جلانا بلوچوں کو زندہ جلانا اجتماعی قبروں کا ملنا ہزاروں لاپتہ افراد اور بلوچ نسل کشی کا مارکیٹ لگا ہے ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0