لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1776دن ہوگئے

جمعہ 31 اکتوبر, 2014

کوئٹہ ( ہمگام نیوز)لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1776دن ہوگئے لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنیوالوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کے مرکزی عہدیداروں کا ایک وفد لاپتہ افراد شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھرپور تعاون کا یقین دلایا اور انہوں نے گفگو کرتے ہوئے کہاکہ دنیا میں بہت سی غلام قومیں اپنی آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں اگر تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو بلوچ قوم گذشتہ 65سالوں سے اپنے قومی تحریک کی جنگ لڑرہے ہیں اور بلوچ نوجوان اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کررہے ہیں اپنے مادر وطن بلوچستان کی کاطر اپنے قوم کے مستقبل کی خاطر قربانیاں دیتے آرہے ہیں چونکہ 27مارچ 1948سے بلوچستان کے قبضے کے بعد ہو یا پہلے انگریز دور ہو اسی دن سے بلوچ قوم قربانیاں دے رہے ہیں ان شہیدوں کی ذکر کرتے ہیں جن کو پاکستانی آرمی نے 15جولائی 1958کو جھالاوان کے پہاڑ سے قرآن کا واسطہ دے کر پھر بابو نوروز کے ساتھ گرفتار کرکے ان سب کو حیدرآباد جیل میں رکھا پھر ان چھ ساتھیوں کو شہید بابو نوروز خان کے آنکھوں کے سامنے پھانسی پر چھڑایا ان کے نام اس طرح ہیں ساول خان موسیانی بٹے خان زرکزئی جمال خان نیچاری سبزل خان زرکزئی اور ولی محمد زرکرزئی کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا اسی طرح 22جولائی 2007کو قبضہ گیر ایران نے بلوچ فرزند حمید بلوچ کو پھانسی دے کر شہید کردیا شہیدوں کے نام اور قربانیوں کا ذکر کریں گے جوکہ مکمل نہیں تو ابھی تک یہ سلسلہ جاری ہے انہوں نے مزید کہاکہ پہلے ہم صرف یہ سن چکے تھے کہ لوگوں کو اغواء کیا جاتا تھا اذیتیں دی جاتی ہیں سالوں سال ٹارچر کیا جاتا ہے لیکن یہ پتہ نہیں تھا کہ کس لئے اور کیوں اس طرح گھناؤنی حرکتیں انسان انسان کے ساتھ کیا کرتے ہیں ایسے میں پتہ چلا کہ انسان کے اندر احساس کے جذبے ہوتے ہیں اور وہ جذبہ انسان کے ساتھ جڑے ہوئے ہوتے ہیں چاہے وہ جذبہ قومی جذبہ ہو احساس غلامی کا جذبہ ہو یا ہر وہ ظلم وجبر کے خلاف اٹھنے والا جذبہ قومی تحریک جیسے میں آج اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ما ما قدیر بلوچ اور جنرل سیکرٹری فرزانہ مجید بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بلوچ فرزندان کی شکل میں ایک طالب علم سے لیکر ایک مزدور یا بزگر چرواہا سے لیکر ادیب شاعر ڈاکٹر انجینئر اور معاشرے سے تعلق رکھنے والے ہر بلوچ فرزند اس احساس غلامی کے جذبے سے سرشار دشمن کی ہر آنے والی کالی رات کو کو برداشت کرکے آنیوالی روشن صبح کے انتظار میں کاٹ رہے ہیں انہی غلامی کی آگ نے ایک مزدور کو بھی نہیں بخشا جو آج بھی ریاست کی ٹارچر سیلوں میں اذیت برداشت کررہا ہے شاید ایک مزدور ہونے کیساتھ ساتھ وہ بھی ایک بہن کی بھائی ایک ماں کا بیٹا اور ایک بھائی کا بھائی ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ایک بہن کی بھائی ذاکر مجید بلوچ ایک بیوی کا خاوند زاہد کرد بلوچ ایک پانچ سالہ کمبر کرد کا باپ بھی ہے ایک ایسی ماں کا لخت جگر جو آج بھی اپنے فرزند کو دیکھنے کیلئے ایک امید کی آس لئے خون کی آنسو روتے ہیں ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0