لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1777دن ہوگئے

ہفتہ 1 نومبر, 2014

کوئٹہ (ہمگام نیوز)لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1777دن ہوگئے لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنیوالوں میں بی ایس او پجار نوشکی کے عہدیدار نصیب اللہ بلوچ عصمت اللہ بلوچ اور خان بلوچ نے لاپتہ افراد شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان میں ریاست کے ہاتھوں اغواء ہونے والے بلوچ فرزندوں کی مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی معمول بن چکی ہے جس میں کسی علاقے کا لحاظ نہیں ہوتا لیکن کچھ عرصے سے بلوچ فرزندوں کی حراستی قتل کے بعد ان کی لاشوں کو مسخ کرکے کراچی کے مختلف علاقوں میں پھینکا جارہا ہے قوم پرست حلقوں کے مطابق ایک طرف تو ریاستی فورسز کراچی میں موجود بلوچ عوام خوف وہراس میں مبتلا کرنے کی کوشش کررہے ہیں تو دوسری طرف عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کیلئے بلوچ فرزندوں کی مسخ شدہ لاشوں کو کراچی میں پھینکا جارہا ہے تاکہ کراچی کی بدامنی کے شو روغل میں ریاستی فورسز اپنی بربریت کو چھپا سکیں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ فرزندوں کی مسخ شدہ لاشین بمباریوں کے شکار ویران بستیاں قدم قدم پر قابض فورسز کا وجود اور عالمی سامراج کی للچائی نظروں نے بلوچ سرزمین کو خون آلود کردیا ہے جس کا شعور رکھتے ہوئے بلوچ قوم اپنی بقاء اور قومی تحریک کیلئے جدوجہد کے ہر مرحلے سے سرخ رو ہونے کو تیار ہوچکی ہے ریاست نے بلوچ قوم کی نسل کشی میں اپنی تمام قوت کو میدان میں اتار دیا ہے جو تمام دنیا کی برابری کیلئے جدوجہد کررہے تھے جو انسانیت کے دعویدار تھے جو انسانیت کیلئے لڑتے لڑتے امر ہوگئے اور ہم سب کا سر فخر سے بلند کردیا اب وہ دن دور نہیں کہ غلامی کی یہ تاریک رات ڈھل کر قومی تحریک کی ایک نئی کرن میں تبدیل ہوگا اور ایک خوشحال اور آزاد معاشرے کا قیام ہوگا ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0