لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1778دن ہوگئے

اتوار 2 نومبر, 2014

کوئٹہ ( ہمگام نیوز)لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1778دن ہوگئے لاپتہ بلوچ اسیران شہداءکے بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنیوالوں میں بانک مائیکان ابابکی بلوچ اپنے ہم سفر سہیلی کے ساتھ لاپتہ بلوچ اسیران شہداءکے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور انہوںنے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ دنیا کہتی ہے انسان ترقی خوشحالی کی راہ پر گامزن ہے مگر ہم کہتے ہیں دنیا پر اب بھی وحشی نسلوں کی حکمرانی ہے آج ہمارا وہی حال ہے جو غاروں میں رہنے والے انسانوں کا تھا آج سامراج اپنی مفادات کی خاطر انسانوں کا خون پانی کی طرح بہار رہا ہے جیسا کہ آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ گذشتہ 14سالوں سے بلوچستان میں خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے بلوچوں کا خون پانی کی طرح بہایا جارہا ہے پاکستانی خفیہ ادارے ایف سی بے لگام گھوڑے کی طرح بلوچستان کے کونے کونے میں ظلم کے پہاڑ گرارہی ہے بلوچوں کو اغواءکیا جارہا ہے مسخ اور تشدد شدہ لاشیں ویرانوں سے مل رہی ہیں بلوچ آبادیوں پر بمباری ہورہی ہیں ریاستی لشکر گھروں میں گھس کر بلوچ روایات کو پامال کررہے ہیں خواتین اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں گھروں میں لوٹ مار کے بعد گھروں کو جلا رہے ہیں بلوچستان سے اجتماعی قبروں کا ملنا انسان دوستوں مہذب ملکوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے اب تک اکیس ہزار سے زیادہ بلوچ سیاسی ورکر زندہ درگور ہیں چار ہزار سے زائد بلوچ نوجوانون بچے بوڑھوں کی مسخ شدہ لاشیں ویرانوں سے مل چکی ہیں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ جنرل سیکرٹری فرزانہ مجید بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہزاروں بلوچ ریاستی ایجنسیوں میں تشدد سہہ رہے ہیں مگر افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ دنیا خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہے مہذب دنیا کو انسان دوستی کی بنیاد پر پاکستان کے ظلم کے خلاف آواز بلند کریں ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0