لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1782دن ہوگئے

جمعرات 6 نومبر, 2014

کوئٹہ ( ہمگام نیوز)لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1782دن ہوگئے لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنیوالوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کے مرکزی عہدیداروں کا ایک وفد لاپتہ افراد شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی انہوں نے کہاکہ 21ستمبر کو خضدار وڈھ سے لاپتہ عزیز مینگل خلیل لانگو عنایت اللہ کی مسخ لاشیں ملیں جنہیں فورسز نے اغواء کیا تھا ایف سی کا ترجمان نے حسب معمول ایک ڈرامہ رچایا کہ خود کی میڈیا کے ذریعے یہاں بسنے والی دیگر اقوام کو بے وقف بنانے کے ساتھ حقائق پر پردہ ڈالا جاسکے جس میں خود ساختہ آپریشن کا ڈرامہ ظاہر کرکے تین بلوچ فرزندوں کی شہادت کو دہشتگردوں کے خلاف آپریشن ظاہر کیا گیا آج فورسز سول آبادیوں پر آپریشن سے لیکر معصوم فرزندوں کی ٹارگٹ کلنگ کو یہی رخ دے کر پاکستان میں بسنے والے اقوام ودیگر خطے کے لوگوں کی آنکھوں میں پٹی باندھنے کی کوشش کررہا ہے مگر حقائق پہ شاید زیادہ دیر تک پردہ ڈالنا ناممکن ہے اس لئے کہ اس ریاست ککی جھڑیں کھوکھلی ہونے کے ساتھ یہاں کوئی بھی قوم پرسکون نہیں اور ہر قوم ان خفیہ اداروں وریاستی بربریت کا کہیں نہ کہیں شکار ہے اور یہ سلسلہ یہاں تک تھمنے والا نہیں اس لئے کہ عالمی دہشتگرد ریاست کی وجود کا مقصد ہی ریاست کے نام پر ایجنٹ کا قیام تھا جیسے ہر دور میں مختلف عوامل اپنی ضرورتوں کے مطابق استعمال میں لاتے ہیں آج یہ ریاستی ایجنٹ خود عالمی دہشتگردی کی منڈی میں مضبوط بنا چکی ہے جو پوری دنیا کیلئے ایک سنگین خطرہ ہے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بلوچ نسل کش کارروائیاں جو جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہے ریاستی جمہوریت اور انسانی حقوق کے دعویدار تمام سیاسی ومذہبی جماعتیں لبرل ودانشور حلقے اور میڈیا مکمل طو رپر خاموش ہیں پاکستانی الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کو دیکھ کر تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے بلوچستان میں امن ترقی وخوشحالی کا دور دورہ اور دودھ وشہد کی نہریں بہہ رہی ہیں ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0