لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1784دن ہوگئے

ہفتہ 8 نومبر, 2014

کوئٹہ ( ہمگام نیوز)لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1784دن ہوگئے لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنیوالوں میں بلوچستان نیشنل عوامی پارٹی قلات کے سینٹرل کمیٹی کے ممبر میر عبدالعزیز مغل بلوچ نے اپنے ساتھیوں سمیت لاپتہ افراد شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور قلات کے عوام کی طرف سے بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان میں بلوچ نوجوانوں کا اغواء اور مسخ شدہ لاشوں کا سلسلہ گذشتہ ایک دہائی سے تسلسل کیساتھ جاری ہے وزیراعلیٰ بلوچستان اور ان کی جماعت کے رہنماؤں کی طرف سے بارہا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں اس بات کا برملا اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ ان کی صوبائی حکومت میں شمولیت کی بنیادی شرائط یہ رہی ہے کہ وفاقی حکومت بلوچستان میں جاری خفیہ اداروں کے کردار کو کم کرے اغواء شدہ نوجوانوں کی بازیابی کے عمل کو یقینی بنائے اور مسخ شدہ لاشوں کا سلسلہ بند کرائے اور اگروفاقی حکومت اس اہم مسئلے کی طرف متوجہ نہیں ہوگی تو ہم بلوچستان حکومت چھوڑنے پر غور کریں گے ۔نیشنل پارٹی مسلم لیگ ن اور پختونخوا کی نوزایدہ حکومت اب تک اس مسئلے کو حل کرنے میں کسی طرح سے بھی کامیاب نظر نہیں آرہی ۔اور تضادات سے پر وزیراعلیٰ بلوچستان کی طرف ابہام بیانات کا سلسلہ بھی چل پڑا ہے جس میں کبھی وزیراعلیٰ ناکامی اور مایوسی کااظہار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور کہین اختیارات نہ ہونے کا روانا رویا جاتا ہے ۔تو کہیں سے بااکتیار ہونے کا نعرہ بلند کیا جاتا ہے بلوچستان حکومت اس میں شامل بلوچ قوم پرست جماعت تذبذب کا شکار ہے بدقسمتی سے پاکستان میں طاقت کبھی بھی پارلیمنٹ کو حاصل نہیں رہی ۔وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ قیام پاکستان سے لیکراب تک اس ملک کا مقتدر اعلیٰ فوج ہی ہے اس تناظر میں یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے تو یہ نراع کا مسئلہ ہے مسخ شدہ لاشوں اور اغواء کا سلسلہ تاحال جاری ہے ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0