لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1785دن ہوگئے

اتوار 9 نومبر, 2014

کوئٹہ ( ہمگام نیوز)لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1785دن ہوگئے لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنیوالوں میں تربت کیچ سے سیاسی وسماجی کارکنوں کا ایک وفد لاپتہ افراد شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور تربت کے عوام کی طرف سے بھر پور تعاون کا یقین دلایا انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ نام نہا د جمہوری حکومت کے دور میں نہ صرف جبری گمشدگیوں کی پالیسی جاری ہے بلکہ ریاستی عقوبت خانوں میں زیر حراست بلوچ فرزندوں کو قتل کرکے تشدد سے مسخ ان کی لاشیں پھینکنے اور چور ڈاکو کرایہ کے قاتل ودیگر جرائم پیشہ افراد اور طاقت دولت واثر رسوخ کے بھوکے بعض بلوچ غداروں کوفورسز وخفیہ ادارے کی زیر نگرانی اسلحہ راہداریاں اور بھاری رقوم دیکر ڈیتھ اسکواڈ ز کی شکل کھڑی کرنا بھی اسی نام نہاد جمہوری دور کی لعنتیں ہیں گوکہ پی پی پی کے سابق وزیراعظم یوسف رضا نے ایک بار لاپتہ بلوچ فرزندوں کی رہائی کا اعلان کیا تھا مگر فوج اور خفیہ اداروں نے اس کے اس اعلان کے ساتھ ہ ی جبری گمشدگان تشدد زدہ مسخ لاشیں پھینکنے میں تیزی لاکر موصوف کو اس کی اوقات سمجھا دی وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ عہد قدیم سے عصر حاضر تک قلم کتاب اور سوچ وفکر ہمیشہ سے طاغوتی قوتوں کے زیرعتاب رہے ہیں قرون وسطی کے مطلق المنان آمر بادشاہوں سے لیکر موجودہ حکمرانوں کے دور کے طاقتور حکمران تک سب میں ایک چیز مشترک نظر آتی کہ انہوں نے اس سوچ جو ان کی مفادات کے خلاف جاتا ہو پر قدغن لگانے کیلئے کوئی حربہ ہاتھ سے جانے نہ دیا کبھی سوچ کو زندہ جلانے تو کبھی زندہ غائب کرنے یا پابند سلاسل کرنے سمیت ہر طرح کے منفی حربے آزمانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی جو ہنسوز کائنات کے مختلف خطوں میں مختلف اشکال میں جاری ہے سوچ وفکر پر قدغن لگانے کی کوششوں کا ایک واقعہ اس وقت پیش آیا جب 1نومبر 2014کو علی احمد ولد محمد بلوچ عمر 21سال 11بجے دن دیہاڑے ہاؤس نمبر58گلی ن مبر5اسٹریٹ 3نیو کالونی کراچی سے درجن بھر افراد کے بارونق علاقے سے پولیس اور سادہ وردی میں خفیہ اداروں کے اہلکاروں کو رائی کا ر نمبر میں LEE.3628نے گن پوائنٹ پر اغواء کرکے لے گئے جن کا تاحال اتا پتہ نہیں ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0