لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1733دن ہوگئے

اتوار 21 ستمبر, 2014

کوئٹہ ( ہمگا نیوز)لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1733دن ہوگئے لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنیوالوں میں دالبندین سے تعلق رکھنے والے سیاسی سماجی کارکن میر علاو الدین بلوچ میر محمد ابراہیم بلوچ اور عبدالظاہر بلوچ نے لاپتہ افراد شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پاکستانی ریاست بلوچ سرزمین پر اپنے قبضے کو دوام دینے کیلئے روز نت نئے حربوں کیساتھ بلوچ فرزندوں کی اغواء نسل کشی سول آبادیوں پر بمباری میں اضافہ کررہی ہے گویا اب تو یوں لگ رہا ہے جیسے ظلم بربریت مسخ لاشوں فرزندوں کے اغواء عام آبادیوں پر بمباری آئے روز پاکستانی فوج کی خواتین وبچوں پر تشدد سے چولی دامن کا ساتھ ہو اب ریاستی جبر بھی بلوچ قوم کی زندگی کا حصہ بن چکی ہے ان تمام ریاستی جبر سے ایک شے بلوچ قوم کو اعلیٰ بنا چکی ہے وہ ہے اس طویل غلامی کے خلاف جہد آزادی کے اس فیز میں بہترین انقلابی شکل اختیار کرکے قوم میں غلامی کے خلاف جہد آزادی اور شعور کو اجاگر کیا ہے جو اس جہد کو کامیابی وکامرانی کی جانب لے جارہی ہے پاکستانی حکومت نے بلوچ جدوجہد قومی تحریک کو داخلی وعالمی سطح پر کاؤنٹرکرنے کیلئے ملٹری ذرائع کے استعمال کیساتھ ساتھ اپنی خفیہ اداروںں ونام نہاد سیاسی ٹولز کا بھر پور استعمال کیا ہے اور کررہا ہے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ ن ے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب بارہ سالوں کے دوران بلوچ تحریک کے جیالوں نے دنیا کے سامنے اپنی آزادی کی بات منوائی تو بلوچستان کا مسئلہ عالمی وبین الاقوامی ایوانوں میں گونجنے لگا پاکستان اور اسکی مشینری اور دیگر ریاستی اداروں میں بیٹھے ارباب اقتدار کے ہوش وحواس اڑ گئے کیونکہ بلوچستان کا مسئلہ اب ان کے ہاتھوں سے نکل کر جمہوریت پسند اور مہذب اقوام کے سامنے واضح ہوگیا پاکستانی ریاستی اداروں نے مختلف اددوار میں مختلف حربے استعمال کرکے بلوچ قومی تحریک کا راستہ روکنے کی کوشش کی کبھی اسے مذہبی رنگ میں رنگنے کی کوشش کی ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0