لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1737دن ہوگئے

جمعرات 25 ستمبر, 2014

کوئٹہ ( ہمگام نیوز)لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1737دن ہوگئے لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنیوالوں میں سول سوسائٹی وکلاء برادری نے لاپتہ افراد شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ تشدد ظالم اور مظلوم کے درمیان پیدا ہونے والا رشتے کا نقطہ آغاز ہے انسانی تاریخ میں مظلوم عوام نے کبھی بھی تشدد کا آغاز نہیں کیا کیونکہ وہ تو خود تشدد کی پیدوار اور تخلیق ہیں کس طرح تشدد کا آغاز کرتے ہیں وہ جو دوسروں کو بطور انسان تسلیم نہیں کرتے ظلم واستحصال کرتے ہیں یہ وہی ہیں جو تشدد کا آغاز کرتے ہیں ظالم کے خلاف لڑنے والے مظلوم عوام کو کبھی مظلوم عوام تصور نہیں کرتے بلکہ انہیں ایرے غیرے بے شعور جاہل بدمعاش تخریب اور تشدد پسند کہنا پسند کرتے ہیں جیسے انسان ہی دراصل وہ ہیرو نہیں جنہوں نے اپنے وقتوں میں آزادی اور اتحاد کی تلاش میں سرگرم سفر ہوکر شہادت پائی نہ کہ وہ جنہوں نے اپنی طاقت کو عوام میں انتشار پیدا کرنے اور حکومت کرنے کیلئے استعمال کیا ظالم اور مظلوم ایک دوسرے کی منہ ہیں اس لئے جو بات ایک طبقے کی مفاد میں جاتی ہے دوسرے کے خلاف ہوجاتی ہے غلبہ حاصل کرنے والے ظالم اپنے آپ کو انسان کے نجات کا دہندہ کے طو رپر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جنہیں انہوں نے خود پستی میں دھکیل دیا ہے تاہم ان کی کردار کی اصل نیت کو نہیں چھپا سکتی انہوں نے مزید کہاکہ امن کوئی ایسی شے نہیں ہے جیسے خریدا جاسکے امن تو اتحاد یگانگت اور محبت بھرے اعمال میں محسوس کیا جانے والا ایک ایسا جذبہ ہے جسے تشدد کے ماحول میں حاصل نہیں کیا جاسکتا وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ سامراجی افواج بلوچستان کے طول وعرض میں بلوچ نسل کشی کے اقدامات کو وسعت دے رہے ہیں تو دوسری طرف عالمی دنیا کو گمراہ کرنے کیلئے کرایہ کے افراد اکٹھا کرکے بلوچ آزادی پسند تنظیموں کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرنے میں مصروف عمل ہے پاکستان اور اس کے گماشتے سیاستدان بلوچستان میں اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو سہارا دینے کی ناکام کوششیں کررہے ہیں ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0