لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1744دن ہوگئے

جمعرات 2 اکتوبر, 2014

  کوئٹہ(ہمگام نیوز) لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1744دن ہوگئے لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنیوالوں میں چاغی شہر کے میر محراب بلوچ کی سربراہی میں طلباء کا ایک وفد لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھر پور تعاون کی یقین دہانی کرائی اور انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان اور ایران بلوچستان پر اپنی قبضہ گیریت کو دوام دینے کیلئے بلوچوں پر مشترکہ مظالم ڈھا رہے ہیں 1948سے لیکر تاحال بلوچ قوم پر ظلم وزیادتی کا سلسلہ برقرار ہے بلوچستان میں پاکستان اور ایران انسانی حقوق کی پامالی اور اخلاقی مذہبی اور بین الاقوامی قوانین اور اقدار کو پاؤں تلے روند رہے ہیں بلوچ نوجوان مائیں بہنیں بزرگ اور بچے ہوائی جہازوں سے گرائے گئے ہیں بہت سارے لاپتہ لوگاور کئی شہید کرکے ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکی گئی ہیں انہوں نے کہاکہ تربت پیدوارک سے درجنوں لوگ اٹھائے جانے کے بعد ان کی لاشیں سڑک کے کنارے پھینک دی گئی ہے توتک میں اجتماعی قبروں کی برآمدگی انسانی تاریخ میں سیاہ باب کا اضافہ ہے بلوچوں کو اغواء اور شہدی کرنے کا سلسلہ تاہنوز جاری ہے آج ریاست بلوچ قومی جہد سے انتہائی خوف زدہ ہوکر بلوچ قوم کی نسل کشی میں تیزی لائے ہوئے ہیں جو اس کی روز اول کی پالیسیوں کا سلسلہ ہے جس میں اب قدر ے تیزی لائی گئی ہے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ لاپتہ بلوچوں کی عدم بازیابی ان کی مسخ شدہ لاشوں کو ویرانوں میں پھینکنے اور ان کی اجتماعی قبروں کی دریافت سمیت انسانی حقوق کی بدترین پامالی ونسل کشی کے جنگی جرائم جیسے پیدا ہونے والے انسانی المیوں پر لب کشائی کو شجرہ ممنوں قرار دیا جاچکا ہے ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0