کوئٹہ: لاپتہ افراد کے لواحقین کا عید کے دن احتجاجی ریلی

منگل 7 اکتوبر, 2014

کوئٹہ(ہمگام نیوز)

بلوچ لاپتہ افراد کے رشتہ داروں نے کوئٹہ پریس کلب کے قریب لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے قائم بھوک ہڑتالی کیمپ سے احتجاج ریلی نکالی اور ریلی کے شرکا نے شہر کی مختلف شاہراہوں کا گشت کیا اور اس دوران اپنے مطالبات کے حق میں نعرہ بازی کرتے رہے۔

اس ریلی کی قیادت وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کی اور انہوں نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جن کے رشتہ دار لاپتہ ہوں وہ عید کیسے مناسکتے ہیں۔

بلوچستان کی موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ پہلے کے مقابلے میں اب لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنے اور مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کے واقعات میں کمی آئی ہے۔

مگر ماما قدیر حکومت کے اس دعوے سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کا کہنا تھا کہ پہلے کے مقابلے میں موجودہ حکومت کے دور میں ان واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

ریلی میں خواتین اور بچے بھی شریک تھے جن میں سے ایک خاتون سحر بلوچ کا کہنا تھا کہ معلوم نہیں لاپتہ افراد کس حال میں ہیں اور وہ کس اذیت ناک صورتحال سے دوچار ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جب ان کے پیارے اذیت میں ہوں تو وہ کیسے گھر میں بیٹھ کر عید مناسکتی ہیں۔

ریلی میں شریک ایک اور خاتون مائیکان بلوچ کا بھائی لاپتہ ہے جنہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کے بھائی سردار دارو خان ابابکی سمیت تمام بلوچ لاپتہ افراد کو بازیاب کرایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ملک میں عدالتیں ہیں اگر کسی نے کوئی جرم کیا ہے تو ان کو عدالت میں پیش کیا جائے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0