لاپتہ افراد کے لیئے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 2244دن ہوگئے

پیر 14 ستمبر, 2015

کوئٹہ(ہمگام نیوز )لاپتہ افراد شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 2244دن ہوگئے اظہار یکجہتی کرنے والوں میں سول سوسائٹی وکلاء بردادری کی بڑی تعدا دنے لاپتہ افراد ، شہداء کے لواحقین سے اطہار ہمددری کی اور بھر پور تعاون کا یقین دلایا انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ آجبلوچستان ایک غیر رسمی سیکورٹی نظام کے مابین باقاعدہ ربط دہم آہنگی کے زریعے کہا جاسکتا ہے تاکہ بلوچستان میں غیر محفوظ برادریاں اپنی حفاطت اور دفاع خود کر سکیں وہ بلوچ الشمس اور البدر کے قیام کامطالبہ کر رہے ہیں جسے 71میں بنگلہ دیش میں استعمال کیا گیا وہ بلوچستان میں بھی اسی طرح کی نسل کشی کا ارتکاب کرنا چاہتے ہیں جس کی انہوں نے بنگلہ دیش میں کوشش کی تھی وہ چاہتے کہ ایک غیر رسمی سیکورٹی کا نظام ہو جوکہ لوگوں کی حفاظت کے لئے اور لوگوں کی طرف سے بنائی گئی ہو اس کو اس طرح سمجھیں کہ بلوچ کے ذریعے بلوچ کو قتل کروانا ، وہ بھو ل جاتے ہیں ڈیتھ سکواڈ جیسے لوگ پہلے ہی سے ان کا یہ غلیظ کام سرانجام دے رہے ہیں تو تک کی اجتماعی قبریں اسٹابلشمنٹ کے تحفظ کے تحت کام کرنے والے انہیں قاتل دستو ں کی کارستانیاں تھیں وائس فار مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدید بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بلوچوں کے اندرونی دشمنوں سمیت عالمی سرمایہ داروں نے اختیار کی ہے و قومی تحریک کی حقیقی جد وجہد کو ختم کرکے پھر سے اپنی من مانی اور لوٹ مار جا ری و ساری رکھنے کی امید رکھے ہوئے ہیں و پالیسی ظالم وجبر کشت و خون خوف ، ہراس بدا منی بے چینی وغیرہ پھیلانا ہے مگر وہ اچھی طرح ذہن نشین کرلیں کہ بلوچ نے قومی تحریک کی جنگ اپنی قومی غلامی اور اس میں رسوائی تباہی پسماندگی فضول موت اور اندرونی ، بیرونی بد معاشوں کی بدمعاشی سمیت تمام برے کردار وں اور مظالم کے خلاف شروع کی ہے اور وہ فضول کی تباہی و بربادی جو بلوچ قوم کو صدیوں سے ملتی آرہی ہے اسے مسترد کرچکی ہے اسی طرح اس نے ہمارے بہت سارے لیڈروں و کارکنوں کو آغواء کرکے ان میں سے کسی کو شید کرکے ان کی لاشیں پھینک دی ہیں اور کئی کو ٹارگٹ کلنگ کا شکار بنا کر قتل کی ہے اس سے بلوچ جد جہد میں شاید ان کی عہدیوں کی جگہ خالی نہ ہومگر ان کے کرداروں کی کمی نے ضرور ہمیں نقصان پہنچایا ہے ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0