لاپتہ بلوچوں کے لیئے بھوک ہڑتالی کیمپ کو2246دن ہوگئے

بدھ 16 ستمبر, 2015

کوئٹہ (ہمگام نیوز) لاپتہ بلوچوں کے لیئے بھوک ہڑتالی کیمپ کو2246دن ہوگئے اظہار یکجہتی کرنے والوں بلوچستان نیشنل پارٹی، بی این پی وڈھ کا ایک وفد لاپتہ بلوچ شہیدا کے لواحقین سے اظہار ہمددری کی وار بھر پور تعان کا یقین دلایا اور انہوں نے گفتگو کرتی ہوئے کہاکہ سرکار نے اپنی پوری فورسز طاقت کا بلوچ آبادیوں پر بلا دریغ استعمال کرکے مستونگ جوہان، زمگ ناگ رخشان راغے بسیمہ اور گردنواح میں قیامت خیز ااپریشن کے ساتھ آبادیوں کو زمین ی وفضاء فورسزطاقت سے لہولہان کردیا درجنوں گھروں کو لوٹنے کے بعد جلادیا گیا خواتین بچوں پر ظلم کی نئی داستانیں رقم کی گئی درجنوں بلوچو نوجوانوں بزر گوں کو اغواء کیا گیا وزیر اعظم نے فوراًکوئٹہ کا دورہ اور ایجنسی کے زیر دست پارٹیوں کا آل پارتیز کانفرنس بلایا اس سے قبل گورنر ہاوس میں وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ سمیت خفیہ اداروں کی قیادت سے گورنر کی موجودگی میں ملاقات کی اور ضرب عضب کو بلوچستان میں تیزی سے پھیلانے کے ساتھ جاری آپریشنوں کا جائزہ اور اسی اجلاس میں جیٹ طیاروں اور فضائیہ کی بلوچستان میں استعمال کا فیصلہ کیا گیا مستونگ گردنواح آپریشن کے دوران ساٹھ سے زاہد افراد کو اغوا کیا گیا جو مستونگ میں فورسز کے ہاتھوں اغواء کئے جانے والے افراد میں سے چارکی مسخ شدہ لاشیں پھینکی گئیں اسی طرح ایک جون سے قلات اور ودڈھ والے لاش کی شناخت سفر خان کے نام سے ہوئی وائس فار مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماماقدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ سرزمین بلوچ پر غروب ہوتا سورجاور ظلم وجبر کی تاریخ رقم کرکے لہو بلوچ فرزندان کی چمکتی سرخی سے غرو ب ہوتا سورج ظلم وجبر بلوچستان پر ہر طلوع ہوتی سورج جہد کاروں کو منزل کی جانب ایک قدم بڑھانے کادر س شہید ا کے انقلابی لہو کی خوشبو سے معطر کردیتی ہے گرم موسمی تپش کے ساتھ فورسز نے اپنی بربریت کی تپش میں تیزی لاتے ہوئے بلوچ آبادیوں کو اپنی زمینی وفضائی جارحیت سے لہولہان کردیا مگر تاریخ گواہ ہے کہ علم حقو اور سچائی کی آواز کوکبھی لہولہا ن کرکے اس آوا ز یا قلم کو خاموش نہیں کیا جاسکتا ، مقامی انتظامیہ طاقت کو بلوچ مختلف مکاتب فکر کے خلاف استعمال کر رہی ہے خاص کرصاحب علم اہل قلم سامراجی فورسز کے نشانے پر ہیں۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0