لاپتہ بلوچ اسیران اور شہداء کے لواحقین کی پریس کلب کے سامنے ہڑتال جاری

پیر 3 نومبر, 2014

کوئٹہ(ہمگام نیوز)لاپتہ بلوچ اسیران و شہداء کے لواحقین کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے لگائے گئے ہڑتالی کیمپ میں 1779ویں روز بھی ہڑتال جاری رہی پیر کو کو بی ایس او آزاد قلات زون کے ایک وفد نے کیمپ آکر ہڑتال پر بیٹھے افراد سے اظہار یکجہتی کیا۔ اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے وفد نے کہا کہ حق ،انصاف ،قانون ،آئین برابری مساوات تعلیم ،صحت ،حقوق انسانیت جیسی باتوں اور مطالبوں کی پاکستان میں نہ اہمیت ہے اور نہ ہی کوئی گنجائش موجود ہے آج بلوچ قوم کی سیاسی معاشی ، سماجی ،تعلیمی اور نسلی نسل کشی کی جارہی ہے بلوچ قوم کو دہشت گرد قرار دیا جارہا ہے بلوچ قوم کو غدار قراردیا جاررہا ہے را اور موساد کے ایجنٹ قرار دیکر بلوچ تعلیم یافتہ نوجوانوں سیاسی کارکنوں ،دانشوروں ، ادیب ،شاعر ، اساتذہ ،طالب علموں ،سماجی کارکنوں کو چن چن کر اغواء کرکے انکی مسخ شدہ لاشیں پھینکی جارہی ہیں اوراس کیلئے یہ جواز پیش کیا جاررہا ہے کہ بلوچ ریاست کے خلاف بندوق اٹھاکر قومی تحریک اور علیحدگی کا مطالبہ کر رہے ہیں ریاستی فورسز پر حملہ کر رہے ہیں ۔اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ بلوچ قومی تحریک کے چالیس سالہ جدوجہد بلوچ قومی نوجوانوں کی شہادت ظالم کے سامنے نہ جھکنے ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے اور اپنے خون سے ایک نئی انقلابی تاریخ لکھنے کی صدائے باز گشت ہے جو اسلام آباد کے ایوانوں سے ٹکرا رہی ہے کیونکہ پرامن اور جمہوری انداز میں دلیل اور منطق کی جنگ ہارنے کے بعرد ریاست نے اپنی پوری قوت بلوچ قومی آواز کو دبانے کیلئے تاریخ کے بھیانک ترین آپریشن کی شکل میں جھونک دی ریاستی سرپرستی میں ڈیٹھ اسکواڈ بناکر بلوچ سیاسی رہنماوں کارکنوں کا قتل عام کیا پرامن جمہوری لوگوں کو ہزاروں کی تعدادمیں تعلیم یافتہ نوجوانوں طالب علموں ،بزرگوں اور بچوں کی مسخ شدہ لاشیں ویرانوں ،سرکوں پر غیرانسانی طریقے سے پھینک دی گئیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0