لاپتہ بلوچ اسیران شہداءکے اہل خانہ اور لواحقین کی پریس کلب کے سامنے کیمپ میں ہڑتال جاری

ہفتہ 18 اکتوبر, 2014

کوئٹہ(ہمگام نیوز) لاپتہ بلوچ اسیران شہداءکے اہل خانہ اور لواحقین کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے لگائے گئے کیمپ میں ہڑتالی ہفتہ کو 1759ویں روزبھی جاری رہی ۔ہفتہ کو بلوچ یکجہتی کونسل کے مرکزی رہنماوں نے کیمپ آکر ہڑتال پر بیٹھے افراد سے اظہارر یکجہتی کیا اور بھر پور تعاون کا یقین دلایا۔ اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے تعلیمی اداروں کو بند کرکے ان کو چھاونیوں میں تبدیل کرکے انہیں فورسز کے حوالے کرنے کا عمل بلوچوں کی ترقی کی ضمانت سمجھاجاتا ہے اور نہتے بلوچ طلباءانکے سربراہوں کو دہشت گردی کے مقدمات قائم کرکے اغواءکرنے کے عمل کو بلوچ خوشحالی وترقی کیلئے اہم اقدامات قراردیئے جاتے ہیں ببلوچستان کی آزادی پسند قیادت غلام محمد بلوچ ،شیر محمد بلوچ ،لالہ منیر بلوچ اور رسول بخش مینگل کو بھرے بازار سے اغواءکرکے انکی مسخ شدہ لاشوں کو پھینکنے کے عمل کو ریاستی اداروں نے اللہ کی مرضی و رضامندی کی نیت سے ادا کیا ہے اس موقع پر وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان سے پوچھنا چاہتے ہیں کہاں ہیں کمیشنوں کی رپورٹس کس حوالے سے تم نے کام کیا ہے ذرا بلوچ عوام کو بھی بتادیں مانتے ہین کہ یہ بھی ایجنسی کے سامنے بے بس ہیں لاپتہ بلوچ سیاسی اسیران کے بارے میں جاننے سے گریزاں کیوں جہاں بلوچ سیاسی اغواءہونے واَلے کارکنوں کے ساتھ کیا ہورہا ہے اور بلوچ اپنی قومی آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں جنگ میں گرفتاریاں اغواءشہادتیں نقصانات روایتوں اور تہذیبوں کی پامالی اور انسانی حقوق کی پامالی ہوتی رہتی ہے ہمارا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ بلوچستان کو ایک مقبوضہ علاقہ قرار دیکر یہاں پر عالمی قوانین کے تحت بلوچ جنگی و سیاسی اسیران کے ساتھ سلوک کیا جائے ہم اپنی جنگ لڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں نہ کل کسی پر بھروسہ تھا نہ آج ہے اور نہ کل ہوگا بس بھروسہ ہے تو صرف بلوچ کی طاقت اور اتحاد و اتفاق پر ہے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0