لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1745دن ہوگئے

پیر 13 اکتوبر, 2014

کوئٹہ ( ہمگام نیوز)لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1745دن ہوگئے لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنیوالوں میں خضدار کے سیاسی وسماجی کارکنوں کا ایک وفد میر مٹھا خان بلوچ کی قیادت میں بڑی تعداد میں لاپتہ افراد شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان میں قابض ریاست کی جانب سے ظلم وجبر اور بربریت کا سلسلہ جاری ہے بلوچ سیاسی کارکنوں نوجوانوں کو ماورائے آئین قانون گرفتار ولاپتہ اور ان کی گولیوں سے چھلنی لاشیں پھینکنا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی روز کا معمول ہے جبری العاق کو بلوچ قوم نے روز اول سے قبول نہیں کیا اور اس کے خلاف برسر پیکار ہے لیکن قابض ریاست نے بلوچ قومی تحریک کا راستہ روکنے کیلئے جہاں ریاستی دہشتگردی کا سہرا لیا ہے وہیں بلوچستان میں مذہبی منافرت انتہا دہشتگردی کو بھی فروغ دیا جارہا ہے اور بلوچستان میں قتل عام کیا جارہا ہے تاکہ بین الاقوامی سطح پر بلوچ قومی تحریک کا راستہ روک سکے لیکن ہم عالمی برادری کی توجہ اس جانب مبذول کرانا چاہتے ہیں مذہبی دہشتگردی کے پس پردہ خود پاکستان کے خفیہ ادارے ملوث ہیں وہ ان تمام جہادی تنظیموں کی ہر قسم کی کارروائی کے بجائے مختلف ممالک اور عالمی برادری اس کا ساتھ دے رہے ہیں جو باعث تشویش ہے جس کی تازہ مثال چین کی بلوچستان میں بڑھتی ہوئی دلچسپی ہے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان میں لوگوں کو اٹھایا جارہا ہے گرفتاریوں گمشدگیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے ریاستی ظلم وجبر اور بربریت کی وجہ سے لاکھوں افراد کو نقل مکانی پر مجبور کیا گیا ہے ہم نے ہر فورم پر آواز اٹھائی ہے اور عالمی اداروں کی توجہ اس جانب مبذول کرالی ہے ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0