لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1783دن ہوگئے

جمعہ 7 نومبر, 2014

کوئٹہ ( ہمگام نیوز)لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1783دن ہوگئے لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنیوالوں میں تحصیل مچھ ضلع بولان سے سی ایچ آر سی کے چیئرمین عامر یوسفزئی اور ان کے ساتھی خدائے رحیم بلوچ عمران بلوچ نے لاپتہ افراد شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور انہوں نے کہاکہ بلوچ گلزمین بھی ان خطوں میں شمار ہونے لگا ہے جہاں انسانیت صرف کتابوں میں رہ گئی ہے لیکن دنیا کے دیگر خطوں میں چند عرصے بعد عالمی انسانیت کو اپنے رویوں پر شرمندی ہوئی اور انہوں نے انسانی وقار کو بچانے کیلئے اپنا کردار ادا کیا لیکن یہ تو بلوچ گلزمین ہے اسے کب بلوچوں کی گل زمین کی حیثیت سے جانا گیا پہچانا گیا جنوری 2013کے آخری ہفتے میں ایک ایسا المیہ ہوا کہ سفاکیت کا بول بالا ہوگیا قبریں دریافت ہوئی لیکن ان میں ہزاروں سال پرانی نعشیں برآمد نہیں ہوئیں بلکہ ان کی معیاد پہلی سول آمریت سے لے کر دوسری سول آمریت کے ادوار کی ہیں انہوں نے مزید کہاکہ چلو اب تو عالمی ضمیر جاگ جائے گی اور بلوچ کا نصیب بھی کھل اٹھے گا کیونکہ دو دہائی پہلے مشرقی یورپ میں بھی اجتماعی قبریں دریافت ہوئی تھیں اور ان کا مقدر تبدیل ہوا لیکن نصیب تبدیل ہونے کی بات دور بلوچوں کے غم پر ہمدردی کے دو بول بولنے کیلئے بھی عالمی ضمیر سویا رہا بلوچ دوست رہنما حیر بیار مری نے توتک خضدار میں اجتماعی قبروں کی دریافت پر ر د عمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ توتک سے ملنے والی اجتماعی قبروں کی دل ہلا دینے والی انسانیت کے علمبرداروں کی خاموشی حکمرانوں کو بلوچ قوم کے خلاف مزید اپنی درندگی وحشت اور ظلم وجبر بڑھانے کیلئے حوصلہ فراہم کررہا ہے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے ووائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ سیکرٹری جنرل فرزانہ مجید بلوچ نے وفد سے سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ توتک اور دوسرے جگہوں پر اجتماعی قبروں کے ملنے پر وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کسی صورت خاموش نہیں بیٹھے گی ۔اس میں بھی جو بھی ملوث ہیں انہیں فوری گرفتار کیا جائے ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0