لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1786دن ہوگئے

پیر 10 نومبر, 2014

کوئٹہ ( این این آئی)لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1786دن ہوگئے لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنیوالوں میں ناگ رخشان سے سیاسی وسماجی کارکنوں کا ایک وفد مقبول احمد بلوچ کی قیادت میں لاپتہ افراد شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں لامحدود ہوتی جارہی ہیں اس خطرہ ارض پر نہ صرف ہر طرح کی سیاسی زمین تنگ سے تنگ کردی گئی ہے جہاں عدم تحفظ کے احساس کو لے کر ہر کوئی بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہے جبکہ جان ومال عزت وآبرو کے ساتھ کھلواڑ تو روز کا معمول بن چکا ہے اس ساری صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے دنیا کی بے حسی اور مجرمانہ غفلت کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا قطعی طور پر مشکل نہیں کہ مستقبل قریب میں پاکستان وایران کی ریاستی وحشت وبربریت اور ظلم وناانصافی کے نہ چھٹنے والے یہ گہرے سالے بلاشک ایک بہت بڑی انسانی بحران جم دینے کا موجب بن سکتے ہیں اگرچہ پاکستانی کھلی جارحیت کی تاریخ بہت پرانی ہے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی نوعیت اور شدت بھیانک صورت اختیار کرتی جارہی ہے انسان وانسانیت کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے نہتے بلوچ سیاسی ورکروں اور عام آبادیوں کو جس بے رحمی سے کچلا جارہا ہے اسے دیکھ کر روح انسانی کانپ اٹھتا ہے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ 7نومبر 2014کو ناگ رخشان میں ایف سی نے صبح سے شام تک سرچ آپریشن کیا اور 20آدمی اٹھا کرلے گئے 15کو دوسرے دن چھوڑ دیا باقی پانچ جن میں ڈاکٹر امجد بلوچ ظفر عالم بلوچ امان اللہ بلوچ نواز بلوچ اور نعیم بلوچ آج تک لاپتہ ہیں بلوچ عوام کے خلاف ریاست پاکستان کی کریک ڈاؤن آج کی نہیں ۔بلکہ اس کا باقاعدہ آغاز 2008سے ہوگیا تھا ۔آپ چاہے حق کی ب ات کریں یا حق ہی کا گلہ گھوٹنے کی کوششیں کریں ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0