لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 2200دن ہوگئے

جمعہ 31 جولائی, 2015

کوئٹہ ( ہمگام نیوز )لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 2200دن ہوگئے ۔ اظہار یکجہتی کرنے والوں میں بی این پی عوامی کے سینٹر ل کمیٹی کے ممبر میر نور احمد بلوچ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھرپور تعاون کا یقین دلایا ۔ اور انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ لاپتہ بلوچوں کی عدم بازیابی کا مسئلہ حل ہونے کے بجائے نہ صرف طولالت اختیار کررہاہے بلکہ اس تعداد میں ہر آنے والے دن کے ساتھ تیزی سے اضافہ ہورہاہے بلوچستان میں خفیہ اداروں کے اہلکارووں کے ہاتھوں بلوچ فرزندوں کے اغواء اور انہیں لاپتہ کرنے کا سلسلہ دسمبر 2004سے باقاعدہ فورسز آپریشن کے آغاز سے شروع ہوا ابتداء میں اغوا ء نما گرفتاریوں کا سلسلہ خفیہ حراست میں رکھنے تک رہا مگر بلوچ قومی تحریک میں اانے والی شدت اور طلباء نوجوانوں سمیت ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے بلوچوں کی تحریک سے گہری وابستگی نے حکمران قوتوں کی جارحیت اور سفاکانہ پالیسیوں کو مزید وحیشیانہ بنا دیا ۔ اس وحشت و درندگی کا مظاہرہ فورسز خفیہ اداروں کے ہاتھوں ماورائے عدالت گرفتار لاپتہ کئے جانے والے بلوچوں کی تشدد ز دہ مسخ شدہ لاشوں کو ویرانوں میں پھینکنے کے صورت میں کیا گیا درندگی کے ان مظاہرے نے لاپتہ بلوچوں کی زندہ سلامت بازیابی کی امیدوں کو سو سو ں خدشات اور بے یقینی میں بدل دیا وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئیے انہوں نے کہاکہ کہ حکمرانوں کے ان عالمی سامراجی قوتوں سے گٹھ جوڑ کر قرار دیا جارہاہے جن کے مزموم مفادات کے تحفظ کیلئے اقوام متحدہ نے قسم کھائی ہوئی ہے ورنہ 35000ہزار سے زائد بلوچوں کو غیر قانونی طورپر غائب کرنے اور ان میں سے ہزاروں کو بد ترین درندگی آمیز تشدد سے ان کی لاشوں کو ویرانوں میں پھنکنے کے انسانیت سوز اور دل ہلادینے والے المیو اور جنگی جرائم پر بڑے بڑے پتھر دل بھی پگھل جاتے ہیں۔ ماما قدیر بلوچ نے کہاکہ عدالتوں میں انصاف کا گلہ گھونٹا جائیگا۔ اس وقت لاپتہ افراد کے کسیز سپریم کورٹ میں چل رہے ہیں اور جن کو بھی لاپتہ کیا جائیگا اس کو بھی سپریم کورٹ میں پیش کیاجائے ۔ 

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0