لاپتہ بلوچ اسیران و شہداء کے اہل خانہ کی بھوک ہڑتال 2234دن ہوگئے

جمعرات 3 ستمبر, 2015

کوئٹہ (ہمگام نیوز) لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کی بھوک ہڑتالی کیمپ کو 2234دن ہوگئے اظہار یکجہتی کرنے والوں میں میر محمد آصف ایڈوکیٹ جے ڈبلیو پی کے سیز عہدیدار میر نصیب اللہ شاہوانی نے لاپتہ بلوچ شہید کے لواحقین سے اظہار ہمدر دی اور بھرپور تعاون کا یقین دلایا انہوں نے کہاکہ بلوچ وطن جو خون کی ہولی کھیل رہے ہیں و تاریخ کا سیاہ باب ہے گوادر پسنی جیوسنی تربت منگچر مستونگ کوئٹہ ڈیرہ بگٹی سے تاردم تحریر کئی بلوچ فرزندوں کی ناقابل شناخت لاشیں برآمد ہوئے ہیں کئی خواتین بچے بزرگ بمباریوں کی وجہ سے جام شہادت نوش کر چکے ہیں ہزاروں بلوچ فرزندوں کو اغواء کرکے غائب کیا گیا ہے پورے بلوچ وطن میں لاکھوں گھرانوں کی بمباری سے تباہ ہوچکے ہیں اور لاکھوں بلوچ فرزنداپنی گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہوچکے ہیں دنیا میں موجود بظاہر ا نسانی حقوق کے علمبردار دنیا کے دوسرے ممالک میں ہونے والے بے گھر افراد کا ذکر ضرور کرتے ہیں لیکن وطن میں ہونے والے بربریت سے بے گھر افرد ان کی نظروں سے اجھل ہیں وائس فار مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اگست کا سورج فرزندوں کی لعل خون کا کہکشان اآسمان پر پھیلاتے ہوئے غروب ہوا آج بلوچستان کے طول و عرض میں دیکھنے کو مل رہاہے جہاں بلوچ سیاسی و عوامی حلقوں کے مطابق بلوچ حق آجوئی کے جد وجہد سے ہمددری اور وابستگی رکھنے والوں اغواء کرکے لاپتہ کرنے کا عمل تیزی سے جاری ہے ۔ ماما اقد بلوچ نے کہاکہ فورسز کے ہاتھوں عام لوگ اور انکا مال و متاح نشان ہ بننے جبکہ مشکے و دیگر علاقوں میں عام آبادیوں کے شنانہ بسنے کی وجہ سے مقامی لوگ کے بھاری و جانی نْقصانات کی اطلاع عات سامنے آرہی ہیں ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0