لاپتہ بلوچ اسیران و شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو2248دن ہوگئے

ہفتہ 19 ستمبر, 2015

کوئٹہ (ہمگام نیوز) لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو2248دن ہوگئے اظہار یکجہتی کرنے والوں میں دانشور وں صحافیوں کا ایک گروپ لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ حقیقی اورصحیح معنوں میں ادیب دانشور اور شاعر معاشر کے و طبقہ ہے جو معاشرے کے دیگر لوگوں سے زیادہ حساس ہو نے کے ساتھ ساتھ علم کی طاقت بھی رکھتا ہے اگر دنیا کی تاریخ پہر نظر دوڑائی جائے تو یہ بات سامنے آجاتی ہے کہ اس طبقے نے ہمیشہ ظلم اور جبر کے خلاف آواز بلند کی ہے کہ اور اس وقت انکی آواز بلند ہوجاتی ہے جب ظلم جبر اور نا انصافی سے معاشرہ انتشار کا شکار ہوجاتا ہے جب کہیں تبدیلی کی ہوا چلتی ہے اور جب لوگوں سے جینے کا حق چھین لیا جاتاہے جب ہم اپنے معاشرے اور اپنی سرزمین پر موجود تبدیلی اور انقلاب پر نظر دوڑا تے ہیں تو ہاں ہمیں ان کی کردار کچھ زیادہ حوصلہ آفزا نظر نہیں آتا جوکہ اس طبقے کا ایک بڑا حصہ اپنی ذمہ داریوں کا ادراک رکھتے ہوئے ظلم کے خلاف آواز بلند کر رہاہے ، یہاں تک کہ اپنی جانیں بھی قربان کر رہاہے ان کی لاشیں بھی ویرانوں پر ملتی ہے ٹار چر سیلوں میں بھی اذیتیں برداشت کررہے ہیں جیسے صباء شتیاری ارشا د مستوئی او ر دیگر ادیب دانشور شاعروں نے جام شہادت نوش کرتے ہوئے یہ پیغام دی اہے کہ ہم ظالم کے آگے ک بھی بھی سر نہیں جھکائیں گے وائس فار مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو یاتوں خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں یا اپنی مجبوریوں اور مصلحتوں کا رونا روتے ہوئے حکمران طبقہ کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے اس کے ظلم و جبر میں حصہ دار بنتے ہوئے نظر آتے ہیں جس سے ظالم حکمرانوں کی پالیسیوں کو تقویت مل رہی ہوتی ہے اور غلامی کی زنجیر یں کچھ اور مضبوط ہورہی ہوتی ہیں اس قسم کے دانشور اور ادبیوں شاعروں کی مثالیں دنیا میں بہت ملتی ہیں جنہوں نے ذاتی گروہی مفادات اور مصلحت کے تحت اپنے ضمیر کاسودا کرتے ہوئے وہ کردار ادا کیا جس سے معاشروں میں تبدیلی کا عمل سست روی کا شکار رہا۔ اور ان طاقتوں کو وقتی طور پر تقویت ملی جو محکوم قوموں کو غلام بنانے میں اپنی پوری طاقت استعمال کر رہے تھے ان ادیب دانشور وں اور شاعروں کو تاریخ میں سرکاری اور درباری شاعر اور دانشور وں ادبیوں کے نام سے یاد کیا جاتا رہاہے ۔ْ

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0