لاپتہ بلوچ سیاسی کارکنوں کے اہل خانہ کی ہڑتال 2252ویں روز بھی جاری رہی

جمعرات 24 ستمبر, 2015

کوئٹہ(ہمگام نیوز)بلوچستان سے لاپتہ بلوچ اسیران و شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں 2252ویں روز بھی لاپتہ افراد کے اہل کانہ کی ہڑتال جاری رہی جمعرات کو بی این ایم قلات ہنکین کے ایک وفد نے کیمپ آکر ہڑتال پربیٹھے افراد س اظہار یکجہتی کیااور اپنے تعاون کا یقین دلایا۔ وفدنے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں ریاستی درندگی کا راج مسلسل قائم اور آپریشن تواتر سے جاری ہے فورسز جب جہاں چاہیں بلوچ قومی تحریک کے خلاف آپریشن کے نام پر سول آبادی کو نشانہ بناکر بلوچ عوام کا قتل عام کر رہی ہیں اور بلوچ قومی تحریک کے ہاتھوں پسپائی کے بعد اپنی ناکامی کا غصہ عام آباد پر اتار کر نہتے بلوچ نوجوانوں کو گرفتار کرکے لے جاتے ہیں اور بعد می انہیں غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کا ایجنٹ قرار دیکرانکی مسخ شدہ لاشیں پھینک دی جاتی ہیں اس موقع پر وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست اپنی مکارانہ چالوں سے عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے اوران کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے بلوچستان میں جاری قومی تحریک کو بیرونی ایجنسیوں کی مداخلت قرار دیکر اپنی نو آبادیاتی تسلط کو برقر ارکھنا چاہتی ہے ریاستی وحشت پر پردہ ڈال کر اصل حقائق سے منہ موڑتے ہوئے فورسز کی بے بنیاد اور من گھڑت دعووں کی تائید و حمایت کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پارلیمانی پارٹیاں صوبائی حکومت کی نمک حلالی کی وجہ سے بلوچ عوام پر ریکارڈ توڑ ظلم و جبر کے حربے آزمائے جارہے ہیں قلات مستونگ کے آپریشن میں آپریشن بلوچ عوام کیلئے کھلا پیغام تھا ریاست کو بلوچ سے کوئی سروکار نہیں انہیں بلوچ سرزمین اوراسکے ساحل و وسائل کی ضرورت ہے لہذا بلوچ قومی بھی فیصلہ کرچکی ہے کہ وہ اپنی ہزاروں سالہ پرانی تاریخ ثقافت اور روایت کو روند کر قبضہ گیر کی درندگی کے سامنے تسلم خم نہیں کریگی۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0