لاپتہ بلو چ اسیران کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1804دن ہوگئے۔

منگل 25 نومبر, 2014

کراچی(ہمگام نیوز) لاپتہ بلو چ اسیران کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1804دن ہوگئے۔ اظہار یکجہتی کرنے والوں میں کراچی لیاری کے سیاسی ،سماجی کارکنان کے ایک وفد نے لاپتہ افراد ، شہدائ کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھرپور تعاون کا یقین دلایا اور انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انسان اپنے ارادے سے تاریخ کا موڑ بدل دسکتا ہے۔ انسان اپنی عقل و فہم کی وجہ سے باقی جانوروں سے مختلف ہے۔ انسان اپنے ذہنی صلاحیتوں کی بدولت ایسے معاشرے میں لازوال کام سرانجام دیتا ہے اور کامیابی سے ہمکنار ہوجاتا ہے۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ صلاحیتیں ہر انسان میں پاٹی جاتیں ہیں۔ مگر باصلاحیت انسان ا±سے قرار دیا جاتا ہے جو اپنی بقا ئ اور انسانی آزادی کی خاطر میدان میں صف اول نظر آتے ہیں اور جو تمام معاملات کو بخوبی حل کرتے ہیں۔ اکثر و بیشتر انسان غیر معمولی ہوتے ہیں کیونہک وہ ہر طرح کی تکلیف اور د±کھ کو برداشت کرتے ہیں اس لئے وہ تمام انسانوں کی رہنمائی کرنے کے اہل ہوتے ہیں کیونکہ وہ اپنی صلاحیتوں کی بدولت ہی مقصد کی خاطر سب کچھ برداشت کرتے ہیں۔ جس راہ پر چل پڑے ہیں اس کی مشکلات کو خاطر میں لائے بغیر یکسوئی کے ساتھ آگے بڑتے جاتے ہیں۔ کسی مقصد کی خاطر محض جذبہ رکھنے کی وجہ سے کوئی لیڈر نہیں بن سکتا۔ کچھ ماحول کا اثر اور قدرتی صلاحیت کا بھی دارومدار ہوتا ہے اور کچھ وقت کی پرورش اور سیاسی اداروں کی تربیت کا اثر ان انسانوں کی تخلیق کا سبب بنتی ہیں۔ وہ سوچنے سمجھنے میں نئی رائیں تلاش کرتے ہیں۔ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ جنرل سیکریٹری فرزانہ مجید بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سختیوں آزمائشوں اور کٹھن مسافتوں سے گذر کر ہی قومیں شاندار اور لازوال تاریخ کے مالک بن جاتے ہیں۔ وقت ہی جو ایک قوم کی زندگی اور موت کا تعین کرتی ہے کوئی بھی قوم اپنی ماضی سے بے خبر حال سے لاتعلق مستقبل سے لاپرواہ ہو تو وقت کی بہتی طاقت ا±سے بکھیردیتی ہے۔ بلوچ قوم جو اپنی یکتا تاریخ آب و ہوا تہذیب و ثقافت جغرافیہ زبان و بیان محبت و نفرت کے لازوال داستانوں کو سمیٹتے ہوئے صدیوں سے مختلف آزمائشوں اور کٹھن مسافتوں کے بعد آج 2014 ؁ئ کے سائنسی اور ٹیکنالوجی کے تیز رفتار دور میں اپنی بقائ اور آزادی کی جدوجہد میں مصروف عمل ہے۔ پچھلے 12 سالوں سے قومی تحریک کے حالیہ ا±بھارنے قبضہ گیر ریاست کے پول کھولے ہیں۔ ریاست کے رکھوالے جو مختلف ریاستی اداروں ایجنسیوں سیاسی اور مذہبی پارٹیوں ڈیٹھ اسکواڈوں میڈیا گرپس کمیٹیوں اور لشکروں پر مشتمل ہیں۔ خوف لالچ اور پروپیگنڈوں کے ذریعے بلوچ قوم کو زیر کرنے کی غیر انسانی ایجنڈے پر عمل پیرا ہو کر رائے عامہ کو گمراہ کرکے اپنے جرائم چھپانا چاہتے ہیں۔ نبیل بلوچ کی بہن ماہ پارہ بلوچ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج نبیل بلوچ کی سندھ ہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر اے آئی جی سندھ آپریشن غلام قادر تھیبو پیش ہوئے انہوں نے بتایا کہ متعلقہ ایجنسیاں انکے بارے میں معلومات فراہم نہیں کررہے ہیں جس پر عدالت نے آئی۔ ایس۔ آئی۔ آئی۔ بی اور ایم آر آئی کے نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت 18 ؍دسمبر کو رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کیا۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0