لاپتہ بلو چ اسیران کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1813دن ہوگئے۔

جمعرات 4 دسمبر, 2014

کراچی (ہمگام نیوز) لاپتہ بلوچ اسیران ، شہداءکے بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنے والوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کے چیئرمین واجہ وہاب بلوچ اپنے ساتھیوں سمیت لاپتہ افراد، شہداءکے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھرپور تعاون کا یقین دلایا اور انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فورسز نے بلوچوں پر عرصہ دراز تنگ کرنے کیلئے عام آبادیوں پر بمباری اور ماروں اور پھینکو کی پالیسی میں تیزی لائی ہے جس کا مقصد بلوچ قوم کو صفحہ ہستی سے مٹا کر بلوچ کی زرخیز زمین کا مالک بننا ہے۔ غرض پاکستان تمام جنگی جرائم کا مرتکب ہوکر انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں ملوث ہے۔ مگر بلوچ نے اپنی بقاءکی خاطر ہر سختی سے گزرنے کا تہیہ کر رکھا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہداءبلوچ کے خون سے سرخ سمندر نوجوانوں کی وہ فکری و نظریاتی ادارہ ہے۔ جس سے سیاہ ترین آمریت سے لیکر ڈیٹھ اسکواڈ فرعونیت سب کا دلیری بہادری کے ساتھ صرف یہ کہ مقابلہ کیا بلکہ ان باطل قوتوں کو تاریخ ساز شکست فاش دے کر قوم اور سرزمین کے ساتھ اپنے دیوانگی کی لازوال تاریخ رقم کی جیل، زندان ،اذیت ،پھانسی ،کوڑا ،اغواء،مسخ شدہ لاشیں مارو پھینکو جیسے ریاستی بھیانک و بدترین فوجی غنڈہ گردیوں کو شہادت تک ہر ریاستی وار کو اپنے نہتے سینے پر مردانگی کے ساتھ برداشت کیا۔ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ جنرل سیکریٹری فرزانہ مجید بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کی صورت حال میں جہاں ریاست کے چہرے سے شرافت کا نام نہاد نقاب ہٹ چکا ہے ۔ نام نہاد جمہوریت کا وہ بوسیدہ دیوار جس کے آڑ میں چپ اور مذہبی جنونیت کو فوجی طاقت کے ذریعے عالمی امن کے راہوں کو معلوم کیا جاتا رہا ہے ۔ وہ بوسیدہ دیوار کے بدولت گرچکی ہے اور آج پاکستان پوری دنیا کی فکری مستقل مزاجی کے ساتھ ساتھ بے لوث قربانیوں کے بدولت گرچکی ہے اور آج پاکستان پوری دنیا کی نظروں میں انسانی بنیادی حقوق شہریوں کے شہری حقوق کے اعتبار اپنی ریاستی وقار کھو چکا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بوکھلا ہٹ میں یہ نام نہاد اور غیر فطری ریاست اپنے ضد کی دلال میں دھنستا چلا جارہا ہے ۔ آج قومی تحریک کی آوازیں اس ریاست کے تمام ستونوں سے بلند ہوتے ہوئے صاف طور پر سنائی اور دکھائی دے رہے ہیں۔ یقینا یہ صورت حال معجزاتی نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے کی وہ طویل اور صبر آزما بلوچ قومی تحریک کی شدت ہی کارفرما ہے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0