لسبیلہ یونیورسٹی میں کرپشن اور بدعنوانیاں عروج پر پہنچ چکی ہے:بی ایس اے سی اوتھل زون

بدھ 14 فروری, 2018

اوتھل(ہمگام نیوز) بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی اوتھل زون نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ لسبیلہ یونیورسٹی میں کرپشن اور بدعنوانیاں عروج پر پہنچ چکی ہے کیونکہ اس کی واضح مثال یونیورسٹی کے حالیہ لیکچرار کے پوسٹون میں نظر آ رہی ہے کہ وہ امیدوار جو ٹیسٹ کے دوران این ٹی ایس ٹیسٹ میں فیل ہو چکے ہیں ابھی یونیورسٹی انتظامیہ انہی ہی فیل امیدواروں میں سے ان کو کنٹریکٹ کی بنیاد پر منتخب کیا جا رہا ہے اور ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو یونیورسٹی اپنی جگہ کالج لیول پر بھی اتر نہیں سکتے اور یہان یونیورسٹی میں وہی لوگ پڑھا رہے ہیں۔حالانکہ ہر ڈیپارٹمنٹ میں زیادہ سے زیادہ قابل اور محنتی لیکچرارون کی ضرورت ہے آخر کیا وجہ ہے کہ ان جگہوں کو خالی چھوڑا جا رہا ہے اور چند مضامین کیلئے ٹیسٹ بھی لیا جا چکا ہے اور ان میں لوگون نے ٹیسٹ بھی پاس کیے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے سلیکشن بورڈ نہیں ہو رہا ہے۔کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ان لوگوں میں یونیورسٹی انتظامیہ کے اپنے من پسند لوگ پاس نہیں ہوئے ہیں۔اب ان خالی آسامیوں کو پر کرنے کیلئے اپنے من پسند افراد کو جو این ٹی ایس ٹیسٹ میں فیل چکے ہیں ان کوہائیر ایجوکیشن کمیشن کے رول کے خلاف کنٹریکٹ بنیاد پر منتخب کیا جا رہا ہے جو کہ انتہائی قابل مذمت اور ناقابل قبول ہے کیونکہ اس طرح کے اقدامات تعلیم دشمنی کے زمرے میں آتے ہیں۔اور آخر کس بنیاد پر کن اصولون کے تحت ان کو کنٹریکٹ بنیاد پرمنتخب کیا جا رہا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کسی بھی ایسے اقدامات کو قبول نہیں کرتی جو تعلیم دشمنی کے ساتھ ساتھ جہان لوگون کی حق تلفی ہو رہی ہو اور ایسے اقدامات کے خلاف ہماری تنظیم پیچھے نہیں اٹھے گی اور بھرپور احتجاج کا حق رکھتی ہے۔لہذا ہم وائس چانسلر اور انتطامیہ سے گزارش کر تے ہیں کہ ایسے فیصلے نہ کرے جس کی وجہ سے ہم مجبور ہو کر احتجاج پر نکلیں۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0