لندن ، ٹورنٹو اور واشنگٹن میں افغان نوجوانوں کی پاکستان کے خلاف احتجاج، بلوچوں کی شرکت

بدھ 10 دسمبر, 2014

(لندن)گذشتہ دنوں افغان نوجوانوں نے پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی اور اسکے بنائے ہوئے دہشت گرد تنظیموں کی افغانستان میں دہشتگردی کے خلاف بالترتیب لندن ، ٹورنٹو اور واشنگٹن میں احتجاجی مظاھرہ کئے ۔ لندن میں احتجاجیوں نے برطانوی حکومت سے اپیل کی کہ وہ پاکستان اور اسکے خفیہ اداروں پر دباو ڈالیںکہ وہ طالبان کی حمایت اور خفیہ معاونت بند کردیں جن کی دہشتگردانہ کاروائیوں سے حال ہی میں سینکڑوں افغان شہری شہید ہوچکے ہیں ۔ لندن میں مقیم آزادی پسند بلوچ سیاسی کارکنوں نے افغان عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے پشتون نوجوانوں کے احتجاجی مظاھرے میں شرکت کی ۔ اس موقع پر نوبت مری بلوچ نے کہا کہ ” بلوچ اور افغانوں کے تاریخی تعلقات ہیں ، ہم ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کی مدد کرتے آئیں ہیں ، افغان عوام کو کھل کر بلوچ قومی تحریکِ آزادی کی حمایت کرنی چاہئے کیونکہ صرف آزاد و خودمختار بلوچستان ہی افغانستان میں امن کی ضمانت ہوسکتا ہے ،جب بلوچستان اپنی آزاد حیثیت بحال کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو پھر بلوچ اپنی سرزمین افغان عوام کے خلاف دہشگردوں کی گذرگاہ بننے کی اجازت نہیں دے گا “، مانچسٹر سے لندن مظاھرے میں شرکت کیلئے آنے والے گلیوالی پاسرلے نے ریڈیو آشنا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ” پاکستان اور اسکے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کو اب معصوم افغانوں کے خون بہانے کا سلسلہ ختم کرنا چاہئے ، پاکستان اس ضمن میں دو غلی پالیسی رکھتا ہے ایک طرف تو اسکے ہاتھ افغان عوام کے خون سے رنگے ہوئے ہیں اور دوسری طرف وہ افغانوں سے دوستی کا داعی ہے “مظاھرے میں شرکت کرنے والے ایک اور نوجوان احسان اللہ حیات کا کہنا ہے کہ ” آج کے اس مظاھرے کا مقصد اپنے لوگوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ ہمارے بیچ طویل ذمینی فاصلے ہوسکتے ہیں لیکن ہمارے دل افغان سر زمین سے جڑے ہوئے ہیں ، تمہاری خوشی ہماری خوشی ہے اور تمہارے مصائب ہمارے مصائب ہیں ۔
اسی دن ہزاروں کی تعداد میں افغان نوجوان کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں پاکستانی قونصل خانے کے سامنے جمع ہوئے اور افغانستان میں پاکستانی مداخلت کے خلاف شدید احتجاج کیا ، احتجاج میں شریک داود احمد زئی نے کہا کہ ” ہمارے احتجاج کا مقصد لوگوں کو افغانستان میں ہونے والی خونریز تبدیلیوں کے بارے میںآگاہی دینا ہے جو آگے بھی اسی طرح چلتے رہیں گے ، حالیہ مہینے میں افغانستان کے بدامنی میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے خاص طور پر کابل میں جہاں گذشتہ ماہ کے دوران گیارہ سے زائد خود کش دھماکے ہوئے جن میں درجنوں معصوم شہری شہید اور دسیوں زخمی ہوئے “۔دریںا ثناءامریکہ کے شہر واشنگٹن ڈی سی میں بھی افغان نوجوان کانگریس بلڈنگ کے سامنے جمع ہوگئے اور احتجاج کرتے ہوئے پاکستان پر اور اسکے خفیہ ایجنسیوں پر الزام لگایا کہ وہ وہ دہرہ کھیل کھیلتے ہوئے ہزاروں افغانوں کے قتل میں ملوث ہیں۔اس موقع پر خسرو پائز نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ” ان پر امن مظاھروں کا مقصد ان لوگوں کے ساتھ اظہارِیکجہتی ہے جنہوں نے پاکستان کے حمایت یافتہ دہشتگردانہ کاروائیوں میں اپنے پیاروں کو کھودیا ہے ، ہم افغان عوام کی یہ آواز دنیا تک پہنچانا چاہتے ہیں کہ ہم مزید کوئی جنگ نہیں چاہتے ، ہم مزید دہشتگردی کا شکار ہونا نہیں چاہتے ہم نے گذستہ تیرہ سالوں میں بہت قربانیاں دی ہیں “ انہوں نے مزید کہا کہ ہم امریکی حکومت اور کانگریس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کو جنگ کے مد میں مزید امداد نا دے ۔ اس موقع پر ایک اور احتجاجی منیر احمد نے کہا کہ ایک انسان اور ایک افغان ہونے کی حیثیت سے وہ فطری طور پر ان دہشتگردانہ کاروائیوں کی شدید مذمت کرتا ہے جنہوں نے بے گناہ انسانوں کی جانیں لے لی، ایسے حملوں کی وجہ صرف افغانستان کے اتحادی حکومت کو کمزور کرنا ہے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0