لکھوی کا وائس سیمپل ہندوستان کو دینے سے انکار

اتوار 12 جولائی, 2015

ویب ڈیسک

ممبئی حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ ذکی الرحمان لکھوی نے اپنے آواز کے نمونے ہندوستان کو فراہم کرنے سے انکار کردیا۔
ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ہندوستانی سرزمین پر 2008 میں ہونے والے دہشت گرد حملے میں ذکی الرحمان لکھوی کے ملوث ہونے کے حوالے سے ہونے والی تحقیقات کے لیے آواز کے نمونے طلب کیے گئے تھے۔ذکی الرحمان لکھوی کے وکیل رضوان عباسی نے ہندوستانی میڈیا کو بتایا کہ پاکستانی قوانین کے مطابق آواز کے نمونوں کے لیے ملزم کی رضامندی ضروری ہے ” میرے مﺅکل نے ماضی میں بھی اس سے انکار کیا اور آئندہ بھی ایسا ہی کریں گے”۔ذکی الرحمان لکھوی کا انکار اس وقت سامنے آیا ہے جب دو روز قبل ہی پاکستان اور ہندوستان کے وزرائے اعظم نے روس میں ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے ممبئی حملہ کیس کی کارروائی کو تیز رفتاری سے بڑھانے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ذکی الرحمان لکھوی کو رواں برس اپریل میں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے اس وقت رہا کیا گیا جب ایک عدالت نے اوکاڑہ کے ڈی سی او کی جانب سے 14 مارچ کو جاری کیے گئے نظر بندی کے احکامات کو مسترد کردیا۔پنجاب حکومت اس سے قبل انٹیلی جنس اداروں کی فراہم کردہ ‘ حساس معلومات’ کی بنیاد پر نظربند کرتی رہی تھی۔ہندوستان کی جانب سے ذکی الرحمان لکھوی کی رہائی کی مذمت کرتے ہوئے اسے ممبئی حملے میں ہلاک افراد کی ” توہین” قرار دیا گیا تھا ہندوستانی وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے کہا تھا ” یہ بہت مایوس کن اعلان ہے۔ یہ ممبئی حملوں کے متاثرین کی توہین ہے۔ عالمی برادری کو دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے دہرے رویے کا سخت نوٹس لینا چاہئے”۔ذکی الرحمان لکھوی سمیت سات افراد پر 2008 کے ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی اور امداد فراہم کرنے کا الزام ہے، چھد دیگر افراد اڈیالہ جیل میں ممبئی حملوں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر ٹرائل کے مرحلے سے گزر رہے ہیں جن میں حماد امین صادق، شاہد جمیل ریاض، یونس انجم، جمیل احمد، مظہر اقبال اور عبدالماجد شامل ہیں۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0