ماضی کے غلط فیصلوں کا نتیجہ اور آج کے دگرگوں حالات: آرچن بلوچ

ہفتہ 15 نومبر, 2014

ایک نفیس اور شفیق نوجوان دوست، جو ہر طرح کی سماجی برائیوں سے صاف و مبرا، بھرپور علمی اور ٹیکنیکل صلاحیتوں کا مالک جب بھی مجھے سے فون پر بات کرتا ہے تو ہمیشہ مجھ سے یہی سوال کرتا ہے کہ ‘بلوچستان کب آزاد ہوگا‘۔۔ بلوچستان کدی آزاد بیت؟‘۔۔
اور میں ہمیشہ اسے یہی کہتاہوں کہ بلوچسان آزاد ہوگا مگر صبر اور جدو جہد کے ساتھ !
مگر دل ہی دل میں، میں اس ‘صبر اور جدجہد‘ کی تلقین کو لیکر اپنی ضمیرکو ملامت کرتا رہتا ہوں کیونکہ میں ‘صبر اور جدوجہد‘ کے ساتھ جزلاینفک ‘قومی اتحاد‘ کی فقرے کو جوڑ نہیں سکتا کیوں کہ غیرضروری تضادات سے پُرموجودہ بلوچ سیاسی سماج میں قومی اتحاد کے فقرے کا استحصال حد سے زیادہ ہوچکی ہے۔ اب اس پر اعتبار کرنا جوے شیر لانے کا مترادف ہے۔ اورہم سب جانتے ہیں کہ قومی اتحاد کے بغیر ہم دشمن کو پیچھے دھکیل نہیں سکتے اس دگرگوں صورتحال کے پیچھے بلوچ سیاسی تاریخ میں وہ تمام غلط فیصلے کارفرما ہیں جو انفرادی اور اجتماعی طور پر، ہمارے مرضی کے بغیر، ہمارے قسمت کے کھاتے میں ڈالے گئے ہیں۔ پچھلے ادوار کے بزرگ لیڈروں سے لیکر موجودہ نوجوان خودساختہ انقلابی لیڈروں تک نے اپنی انفرادی شوقیانہ غلط فیصلوں کے ذریعے قومی اتحاد کے تمام امکانی راستوں کو مسدود کردیا ہے پُرامیدی کے طور پر بلوچ نیشنل فرنٹ کی شکل میں ایک اتحاد تھا جسے بہت سی رکاوٹوں کے با وجود شہید غلام محمد بلوچ نے پتہ نہیں کن مصیبتوں کے ساتھ تشکیل دیا، مگراسے بھی ایسا تباہ کردیا گیا جس کا اب کوئی نام تک لینے والا نہیں ملتا
متعصب قبائلی اور غیرقبائلی ذہنیت کے زیر سائے، غیردانشمندانہ پارٹی فیصلوں سے لیکر انفرادی طور پرالفاظ کی غیرمحتاط ادائیگی تک یار دوستوں نے بلوچ قوم کی امانت ‘ممکنہ قومی اتحاد‘ کو ایک ایسے مقام تک لاکھڑا کیا ہے، جہاں صبر اور صبر کے سوا تعین شدہ منزل کا تصور دھندلا سا لگ رہا ہے۔درپیش مسائل کو حل کرنے کی سعی جن کواٹروں کے طرف سے متوقع تھی یا ہے وہ اب بالکل یا تو جذباتی پن کا مظاہرہ کررہے ہیں یا وہ سوچ بچارکرنے سے زیادہ الارمسٹ Alarmist بن چکے ہیں۔ حال ہی میں واجہ منصوربلوچ کا ایک تحریرمیری نظرسے گزرا جسے سوشل میڈیا کے ایک دوست نے مجھے ٹیگ کیا تھا، ان کے ساتھ ٹویٹر میں بہت سارے معاملات کے بارے سابقہ دور کے تمام فیصلوں کے متعلق بحث ہوئی، انہیں توجہ دلاتے ہوے میں نے کہا کہ اگر واجہ منصوربلوچ ان سارے غلط فیصلوں کا تجزیہ کرتے فریقیں کی کمزوریوں کو سامنے لاتے ہوے ان سے کہتے کہ بھائی یہ آپ کی غلطی ہے اسے صحیح کرو تب بات بنتی۔ مگر یہ اختلافات تو 2008 سے پہلے شروع ہوچکے ہیں 2010 تک مجھ جیسے ایک ادنیٰ کارکن کو بھی پتہ نہیں تھا، کہ واجہ خیربیار نے ایک اخباری بیان کے زریعے عوام کو آگہی دیتے ہوے کہا کہ قومی تحریک میں لیڈرشپ کے سطح کی اختلافات پیدا ہوچکے ہیں۔ تو ایسے میں منصوربلوچ جیسے دانشوروں کی ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ ان تمام معاملات کا تحقیق و تجزیہ کرتے ہوئے غلط فیصلوں کی نشاندہی کرتے!
2008 میں جب بی ایل اے نے بی ایل ایف کو دعوت دی کہ قوم کی امانت یعنی اجتماعی قومی قوت کے تمام وسائل کو یکجاہ کریں تاکہ بہتر طور منصوبہ بندی اور مزاحمت کی طاقت میں اضافہ ہوسکے۔ مگر اس دعوت کو اس لیے رد کیا گیا کہ بی ایل اے کا کنٹرول سردار زادوں کے پاس ہے ان کا کیا بھروسہ وہ شاید کل پھر پاکستانی سیاست کے حصہ بنیں گے۔ یہ باتیں اس وقت مجھے ایک دوست کی توسط سے معلومات ہوئیں کہ بی ایل اے نے اتحاد و انضمام کیلئے دوستوں کو بولان بلوایا ہے اور ان کے درمیان بات چیت جاری ہیں، اس دوست کا کہنا تھا کہ کمانڈ کونسل کی طرف سے تحفظات کا یہ نقطہ مدنظر ہے کہ کل کلاں اگرسردار پاکستانی پارلمانی سیاست میں مراجعت کرگئے تو ہم نظریاتی سرمچار یعنی (بی ایل ایف) مزاحمتی تحریک کو جاری رکھیں گے۔ ان بے بنیاد تحفظات کی صحت پر مجھے شروع سے یقین نہیں رہا اور ہمیشہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا یہ ساری باتیں خود ساختہ مڈل کلاس کی غیرصحت مند شک شبہات پر مبنی تونہیں؟، لہذا ان کا حقائق سے کیا تعلق بنتا ہے۔ اگر بی ایل اے ایک قبائلی فورس تھا تو بی ایل ایف کے حمایتی ان کے لڑنے والوں کو آزادی پسند کیوں کہتے تھے؟ اگر بی ایل اے کی رہنما قبائلی تھے اور ان کے نیتوں پر شک تھا تو انہیں فکری سنگت کیوں کہتے تھے اور ان سے مالی اور دوسرے وسائل کی مدد کیوں لیتے تھے ؟ پارلیمانی مراعات کی فراوانی تو ہمیشہ رہا ہے۔ مگر انہوں نے اس راستے کو کیوں نہیں چنا؟
بحیثیت ایک لکھاری میں نے اصل صورتحال جاننے کیلئے 2009 کے وسط میں ایک دوست کی توسط سے ایک دفعہ ماسٹر سلیم صاحب سے ملاقات کی، کیوں کہ وہ خود ان ملاقات و بات چیت میں براہ راست شامل تھا توان کے سامنے میں نے یہ سوال رکھی کہ میڈیا میں دشمن کے مخالف پروپگنڈوں کے کا تدارک کے لیے بی ایل ایف اور بی ایل اے کیوں بعض معاملات پرمشترکہ بیان جاری نہیں کرتے جن کا تعلق بین الاقوامی امور سے ہو تاکہ ناتفاقی کی تاثر ابھر نہ سکے اور اشتراک عمل یا ورکنگ رلیشن کی مثال قائم ہو؟۔ میری بات کی اصل مدعا کو سمجھتے ہوئے سلیم صاحب نے بھی بی ایل اے اور بی ایل ایف کے درمیان انضمام کے بارے مذاکرات کی ناکامی کی سبب انہی تحفظات کو گردانا جن کا تعلق قبائلیت اور پارلیمانی سیاست سے تعلق تھا۔ قومی تحریک سے وفاداری کے حوالے اس نے یہ تک مثال دی کہ غنی پرویز جیسے پڑھے لکھے زانتکارنے بھی اپنی لوگوں کا ایک تنظیم تشکیل دیا ہوا ہے تاکہ بلدیاتی الیکشن اور پارلیمان پرست پارٹیوں سے مراعات حاصل کرسکے۔ اور یہ اعتراف بھی کیا کہ نظریاتی وابستگی اورقومی کاز سے وفا کا تعلق مڈل کلاس جیسے نعروں تک مخصوص نہیں۔ سماج میں سردار سے لیکرمتوسط طبقہ کا عام پڑھا لکھا آدمی بھی قومی خیانت کا مرتکب ہوسکتا ہے۔ بہرحال انضمام کی ناکامی کے حوالے وہ تسلی بخش جواز
پیش نہ کر سکے۔ ان غیرصحت مند تحفظات کی باز گشت آپ کوآج بھی ڈاکٹراللہ نظر صاحب کے حالیہ انٹریومیں بھی سنائی دیتی ہے جو سنگرویب سائٹ میں موجود ہے۔ دیوار کی ایک چھوٹی سی دراڑ کئی اور دراڑوں کو پیدا کر دیتی ہے، انگریزی میں کہتے ہیں کہ One thing leads to another thing۔ آج ہم بد سے بدترکے راستے پر گامزن ہوچکے ہیں۔ اب تقریباً تمام آجوئی پسند قوتیں متضاد رویوں کے شکار ہوچکے ہیں۔ ایک غلط ایکشن کی صورت میں تو دوسرا غلط ریکشن کی صورت میں۔ اور اسی ایکشن اور ریکشن کے دائرہ میں قومی تحریک کی ہڈی پسلیاں سنڈویچ ہورہی ہیں۔ اب ضدوانا، سیاسی mileage حاصل کرنے کی دوڑ، ایک دوسرے کو نیچھا دکھانے کی سعی، یہ تمام حرکتیں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ ہماری تمام کی تمام حرکتیں (غلط یا صحیح) معاملات کو بگھاڑ exacerbation کی طرف لے جارہے ہیں۔ ملاحظہ کیجیے 13نومبر کی یوم شہداء کے حوالے سیاسی پارٹیوں کی حرکتوں کو! حالانکہ اپنے تئیں بی ایس او آزاد نے 11 سے لیکر 13 نومبر تک شٹر ڈون ہڑتال کی کال دیکر مسنگ پرسن کی بازیابی کیلے ایک مثبت قدم اٹھایا ہے مگر13 نومبر آزادی پسند شہدا کویاد کرنے کی مہم کو ناکامیاب کرنے یعنی کاؤنٹر کرنے کی ایک منفی عمل ثابت ہورہاہے۔ تیرہ نومبر تو سال میں ایک دفعہ آتا ہے مگر مسنگ پرسن کا کوئی مخصوص دن تو مقرر نہیں، بلوچ وائس فار مسنگ پرسن کا احتجاج تو سالوں سے جاری ہے۔ شہدا کے دن کو کاؤنٹر کرنے کے بجائے بی ایس او آزاد کے رہنما اگر ماما قدیربلوچ اورگہار فرزانہ مجید بلوچ کے کیمپ کے احتجاج کو لیکر کسی دن اور ایک ہفتے تک کی بھی کال دیتے تو اشتراک عمل کی شروعات ہوتی اور سیاسی ماحول میں بھی بہتری آتی۔ لیکن سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی ڈوردھوپ میں ہم ایک دوسرے کی مثبت عمل کو کاؤنٹر کررہے ہیں۔ پتہ نہیں یہ ہمارے لوگ کس طرح کی سوچ سوچتے ہیں؟ بلوچوں کی تاریخی وسیع النظری اور وسیع القلبی کی اوصاف کہاں گم ہوگئیں؟
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ناگزیر طور پر اگر اتحاد کی ضرورت پڑی تو کیا پچھلے وہ تمام غلط فیصلے جن کی وجہ سے قومی اتحاد کے امید وامکانات پارہ پارہ ہوچکے ہیںreconsider یا زیرغور و تصحیح ہوسکتے ہیں؟ جی ہاں، یہ بالکل قابل زیرغور اور قابل تصحیح ہیں۔ اور میں یہ بھی کہ سکتا ہوں کہ یہ Reversible بھی ہیں۔ مگر شرط یہ ہے کہ ہم دنیا کے تمام مہذب اقوام کی جمہوری اوصاف کے وہ تمام زریں اصولوں کو اپناتے ہوے اپنی اصلاح کریں۔ یعنی ہماری ذہنیت مائل باقوم ہو ناکہ مائل باقبائلیت ومتوسط طبقہ، وپارٹی بازی! اور ہاں وقت کی فیکٹر کو نہ بھولیے گا۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0