مالی کے ہوٹل پر حملے میں ’170 افراد یرغمال‘

جمعہ 20 نومبر, 2015

باماکو(ہمگام نیوز) مسلح افراد نے مالی کے دارالحکومت باماکو کے ایک ہوٹل پر حملہ کر کے 140 افراد اور عملے کے 30 اراکین کو یرغمال بنا لیا ہے۔

ہوٹل کے مالک نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ دو مسلح افراد نے 170 افراد کو ریڈیسن بلو ہوٹل میں قید کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پولیس نے ہوٹل کا گھیراؤ کر لیا ہے۔ حملہ آور اللہ اکبر کے نعرے بلند کر رہے ہیں اور گولیاں برسا رہے ہیں۔

اگست میں مالی کے ایک اور ہوٹل میں حملہ ہوا تھا جس میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں اقوامِ متحدہ کے اہلکار بھی شامل تھے۔

ہوٹل کے مالک نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ دو افراد نے 140 مہمانوں کے علاوہ 30 ملازمین کو یرغمال بنا لیا ہے۔

ہوٹل میں موجود ایک چینی باشندے نے چینی خبر رساں ادارے شن ہوا کو موبائل ایپ کےذریعے بتایا کہ انھیں بھی یرغمال بنا لیا گیا ہے۔

سکیورٹی ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ چند ایسے یرغمالیوں کو رہا کیا جا رہا ہے جو قرآن کی تلاوت کر رہے تھے۔

حملے کے وقت وہاں موجود ہوٹل کے مالی نے بتایا کہ ’وہ ایک گاڑی میں آئے جس پر ڈپلومیٹک لائسنس پلیٹ لگی ہوئی تھی اور انھوں نے چہرے پر ماسک پہن رکھے تھے۔ ہوٹل کے گیٹ پر سکیورٹی گارڈ نے انھیں روکنے کی کوشش کی تو انھوں نے فائرنگ شروع کر دی۔ ہم وہاں سے بھاگ گئے۔‘

قطری الجزیرہ ٹی وی نے ہوٹل میں یرغمال بنانے والے گروہ کی شناخت انصار الدین کے نام سے کی ہے۔

چینل کے مالی میں نامہ نگار کے مطابق انصار الدین ایک شدت پسند گروہ ہے جو مالی میں شریعت کا نفاذ چاہتا ہے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0