مذہبی شدت پسندی اور بلوچستان

اتوار 21 دسمبر, 2014

مذہبی انتہا پسندوں کے کاروائیوں کی نئی لہر جس میں پشاور اسکول پر حملے کے نتیجے میں 130 نوعمر بچوں سمیت 142 افراد ہوئے نے ایک نئے بحث کا آغاز کردیاہے ، اسکے ساتھ ہی پاکستانی حکام اور فوج متحرک نظر آتی ہے ، حکومت نے فالفور پھانسی کے سزا کو بحال کرکے صرف تین دنوں میں ہی اس پر عمل در آمد شروع کردی اور دوسری طرف فوج نے کاروائیاں کرکے تین دنوں کے اندر 160 سے زائد مذہبی شدت پسندوں کو مبینہ مقابلوں میں مارنے کا دعویٰ کیا ، ماہرین کہتے ہیں کہ اگر فوج کی انٹیلی جنس اتنی تیز ہے کہ وہ تین دن کے اندر ہی اتنی تعداد میں شدت پسندوں کا پتہ لگا کر انہیں مار سکتی ہے تو پھر اتنے وقت سے وہ ایسی کاروائیاں کیوں نہیں کررہے تھے ، اس عمل سے ان اندازوں کو تقویت مل رہی ہے کہ یہ شدت پسند فوج کے پیرول اور مرضی سے ہی رہ رہے تھے جن کے بارے میں خفیہ اداروں کو مکمل معلومات تھی یہ سب پاکستانی خفیہ اداروں کے تزویراتی اثاثوں کے زمرے میں آتے تھے اس لیئے فوج ان کے بابت خاموش تھی ، اب جبکہ فوجیوں کے اپنے بچے ان کاروائیوں کا شکار ہوگئے تو پھر وہ فوراً حرکت میں آگئے ، دوسری طرف کئی ماہرین پشاور واقعے سمیت حالیہ ان کاروائیوں کو امریکہ امداد سے جوڑتے ہوئے انکا فالفور اور یقینی حصول گردانتے ہیں ، اندازے جو بھی لگائیں جائیں لیکن اس امر میں اب شبہے کا امکان بہت کم رہ گیا ہے کہ اس خطے میں جو بھی مذہبی شدت پسند دہشتگرد یا دہشتگردی ہے اس سے پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کے تانے بانے ملتے ہیں اور یہی فوج انکی پرورش کردہ ہے ۔
بلوچستان میں حقیقی قوم پرست آزادی پسند حلقے گذشتہ طویل عرصے سے دنیا کی توجہ اس امر پر مبذول کرانے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ پاکستانی فوج ایک خاص منصوبے کو لیکر بلوچستان میں مذہبی شدت پسندی پھیلانا چاہتا ہے اور یہاں فوج کے خاص سرپرستی میں مذہبی شدت پسندوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کیئے جارہے ہیں جو ناصرف یہاں معتدل بلوچ معاشرے کو مذہبی جنونیت کے زھر سے پراگندہ کرنا چاہتے ہیں بلکہ بلوچ آزادی پسند سیکیولر سیاسی کارکنوں کے شہادت و اغواء میں بھی ملوث ہیں ۔ اسی تناظر میں اگر بلوچ سماج کو تاریخی پس منظر میں دیکھیں تو ہم بآسانی یہ مشاھدہ کرسکتے ہیں کہ بلوچ ہمیشہ سے مذہبی طور پر روادار اور معتدل مزاج رہے ہیں ، تقسیم ہند کے وقت جب پورے خطے میں ہندووں کا قتل عام چل رہا تھا اس وقت بھی یہاں ہندو اقلیت مکمل آزادی اور تحفظ کے ساتھ باہوٹ کی حیثیت سے رہ رہے تھے ، بلوچستان کے تاریخ میں ہمیں کبھی بھی فرقہ واریت یا مسلک کے بنیاد پر کوئی فساد نظر نہیں آتا ، ایک اور پہلو پر ہم غور کریں کے آج تک بلوچستان سے کوئی بھی مذہبی شدت پسند گروہ یا مذہبی پارٹی ابھر کر سامنے نہیں آیا ، مذہبی حوالے سے آج تک اگر بلوچستان کے سر زمین پر کوئی پارٹی بنی ہے تو وہ بلوچ علماء کونسل ہے ، جو از خود آزادی پسند اور روشن خیال علماء پر مشتمل ہے ، باقی جمیعت علماء اسلام ، جماعت اسلامی سمیت لشکر جھنگوی وغیر ہ ہمیں نظر آتے ہیں ، انکا بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ قابض پاکستان میں بنے ہوئے تنظیمیں ہیں اور یہاں خفیہ اداروں کی سرپرستی میں زبردستی لائے گئے ہیں ۔ بلوچستان کے یہی سیکیولر اور روشن خیال افکار ہمیشہ سے پاکستان کے قیام کے نظریہ اسلام کے سامنے رکاوٹ بنے رہے ہیں اور ہزاروں کوششیں کرنے اور کئی آپریشن کرنے کے باوجود پاکستان بلوچوں کو اپنے نظریئے کے قالب میں ڈھالنے میں ناکام رہا ہے ، اسی لیئے آج قابض پاکستان مکمل یکسوئی کے ساتھ ان شدت پسندوں کو بلوچستان میں آباد کرنے کی کوشش کررہا ہے ، جس کی سب سے بڑی مثال گذشتہ سال بلوچستان کے ضلع آوران میں آنے والے زلزلے کے وقت باقی تمام تنظیموں کے امداد پر پابندی لگاکر جماعت اسلامی کے الخدمت فاونڈیشن اور ممبئی حملوں کے ذمہ دار عالمی دہشتگرد حافظ سعید کی تنظیم جماعت الدعوہ کو کھلی چھوٹ دی گئی ، بلوچستان کے طول و عرض میں اسکولوں کو بندکرنا اور بلوچ اساتذہ کے قتل عام کے بعد چپے چپے میں مدارس کا نیٹ ورک بچھانا، بلوچستان کے علاقوں مستونگ ،زھری ، فیروز آباد اور باڈڑی وڈھ میں مذہبی دہشت گردوں کے جنگی کیمپ خفیہ اداروں کے سر پرستی میں قائم کرنا اسی سازش کی کڑیا ں ہیں ۔
پاکستان کے اچھے طالبان ، برے طالبان اور تزویراتی گہرائی کے فلسفے کو پرکھا جائے تو اس میں اب کوئی بھی شک نہیں رہا ہے کہ پاکستان فوج اس خطے میں دہشت گردوں کی پرورش کرنے اور پروان چڑھانے کا سب سے بڑا ادارہ ہے ، اسی لیئے ان حقائق کو ہرگز مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستانی فوج ایک مذموم سازش کے تحت وہی کھیل بلوچستان میں کھیل رہا ہے ، ایسے عالم میں مزید امریکی امداد یقیناًاس خطے میں بسے بلوچ جیسے روشن خیال اور سیکیولر قوتوں کیلئے ایک لمحہ فکریہ ہے ، قوم پرست قوتیں ان مہذب ممالک کے ٹیکس دہندہ عوام کی توجہ اس جانب مبذول کرانے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ انکا دیا ہوا ٹیکس پاکستانی امداد کے صورت میں ان لوگوں کے ہاتھوں میں جارہی ہے جو ہر وقت انکے بچوں کی قتل کی سازشوں میں مصروف رہتے ہیں ، ان حقائق کو ملحوظ خاطر رکھ کر یہ کہنا غلط نہیں کہ بلوچ آزادی پسندوں کا یہ مطالبہ کہ شدت پسندی کے سامنے کردوں کی طرح اس خطے میں بلوچ ہی بند باندھ سکتے ہیں ، اسلئے اقوام عالم دہشت گردوں کے پناہ گیر پاکستان کے بجائے بلوچ آزادی پسند سیکیولر قوتوں کی حمایت کریں ورنہ پاکستانی خفیہ ادارے نا صرف اپنے ان دہشت گردانہ توسیع پسندانہ عزائم سے امن عالم کو زک پہنچاتے رہیں گے بلکہ بلوچستان کو دہشت گرد انتہاء پسندوں کیلئے ایک پناہ گاہ بنالیں گے ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] اداریئے. RSS 2.0