مرکزی اداروں پر قابض گروہ اپنا جواز کو چکی ہے ۔ بی ایس او آزاد کانسٹیٹوشنل بلاک

منگل 4 نومبر, 2014

متنازعہ مرکزسیاسی ساکھ بچانے کیلئے اخباری بیانات اور ہڑتال کی کال کا سہارہ لے رہا ہے ۔
عوام سیاست چمکانے والی اور تنظیم کی تبائی کے زمہ دار گراوہ کا محاسبہ کرے ۔
کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچ اسٹودنٹس آرگنائزیشن آزاد کانسٹیٹیو شنل بلاک کے جانب سے جاری کردہ اخباری بیان میں کہا گیا ہے کہ بی ایس آزاد کے اداروں پرمرکز کے نام پر قابض افراد اپنی سیاسی ساکھ کو ثابت کرنے کیلئے کھوکھلے اخباری بیانات اور ہڑتال کی کال جیسے روایتی حربوں کاسہارہ لے رہی ہیں ۔ بی ایس او آزاد کے اکثریتی زون کے بائیکاٹ اور متنازعہ مرکزی کمیٹی کے ممبران کے استعفوں کے بعد مرکز پر قابض گروہ کی حقیقت عیاں ہو چکی ہے ۔ بلوچ قوم کو گمراہ کرنے کیلئے ہڑتال جیسی کھوکھلی اور مبہم کال دینے کے بجائے مذکورہ گروہ کو چاہیئے کہ وہ تنظیم کے اداروں پر اپنی تسلط کا جواز ثابت کرے ۔ جارہی کردہ اخباری بیان میں کہا گیا کہ کانسٹیٹیوشنل بلاک کے تحت بی ایس او آزاد کو درپیش بحرانوں کے حل کیلئے گزشتہ چھ مہینوں سے تنظیم کے فعال زون اور مختلف شخصیات کے زریعے تسلسل کے ساتھ کوشش کی جاتی رہی ہیں لیکن مرکزی اداروں پر قابض گروہ اپنی ختم ہوتی ہوئی سیاسی مقام کو تنظیم کی قیمت پر بچانے کی کوشش کر تے ہوئے مسائل کے حل کے سامنے رکاوٹ بن چکی ہے۔ متنازعہ مرکز کمیٹی میں موجود ممبران کے پے در پے استعفوں کی حقیقی وجہ اسی گروہ کی ہٹ دھرمی ہے جن کی وجہ سے تنظیم کے اندر پیدا ہونے والے بحران نے فعال زونوں کو مرکز سے بائیکاٹ پر مجبور کر دیا تھا اور اب موجودہ متنازعہ مرکزی کمیٹی کے ممبرا ن بھی اسی ہٹ دھرمی کا شکار ہو کر استعفٰی دےنے پر مجبور ہوئے ہیں ۔ بیان میں کہا گیا کہ مرکز کی ہڑتال کی کال بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے مترادف ہے بلوچستان کی جنگی صورتحال میں 13نومبر جیسے اہم دن کی حساسیت کی وجہ سے رضاکارانہ کاروبار کی بندش کو اپنی سیاسی کھاتے میں ڈالنے کیلئے بی ایس او آزاد کے نام کو استعما ل کیا جا رہا ہے ۔ کانسٹیٹیوشنل بلاک بلوچ عوام کے سامنے واضح کردینا چاہتی ہے کہ تنظیم کے اداروں کے نام پر گمراہ کن سیاست کرنے والے گروہ کا بی ایس او آزاد کے اداروں پر قابض رہنے اور تنظیم کا نام استعمال کرنے کا کوئی جواز باقی نہیں۔ اپنی محدود اورفرسودہ طرز سیاست سے میڈیا میں شو شہ اور چند مخصوص علاقوں میں تنظیم کاری کے غیر حقیقی دعوے کر نے کا مقصد عوام کو گمراہ کر کے تنظیم کے اداروں کا استحصال کرنا ہے ۔ اسی اثناءمیں متنازعہ مرکز ی کمیٹی کے ممبران کے استعفوں کے بعد اخبارات میں کابینہ اجلاس کے نام پر ایک روایتی بیان بھی جاری کیا گیا ہے جس کا مقصد عوام کے سامنے بی ایس او آزاد کے ادارے پر اپنا قبضہ ثابت کرنا ہے لیکن حقائق یہ ہیں کہ اس متنازعہ مرکز ی کابینہ میں سات میں سے اس وقت صرف تین زیلی عہدیدار ہیں جن میںسینئر و جونیئر وائس چیئر پرسن اور جوائنٹ سیکریٹری شامل ہیں جبکہ تنظیم کے تین اعلی عہدے چیئر مین ، سیکریٹری جنرل اور انفارمیشن سیکریٹری کا وجود ہی نہیں ہے ۔ کابینہ کے ساتھ ساتھ متنازعہ مرکزی کمیٹی میں بھی اس وقت چار ممبران کے علاوہ 75فی صد ممبران ایسے ہیں جنہیں اعزازی ممبر کے نام پر صرف خانہ پری کیلئے چور دروازوں سے تنظیم کے اداروں پر براجمان کیا گیا ہے ۔ اسی متنازعہ مرکزی کمیٹی کے استعفٰی دینے والے ایک ممبر کا بیان ثبوت کی حیثیت رکھتا ہے جس کے مطابق انہیں اور دیگر مرکزی ممبران کو ساز باز کے زریعے تنظیم کے اندر اختلاف رائے رکھنے والے ممبران کو خاموش کرانے کیلئے مرکزی کمیٹی کے عہدوں پر لگایا گیا تھا ۔ یہ حقائق بلوچ عوام اور تحریک آزادی کیلئے قربانی دینے والوں کیلئے ایک لمحہ فکریہ ہیں ۔بی ایس ا آزاد جیسے ہراول ادارے کو ساز باز اور گھٹ جوڑ سے چلاتے ہوئے تباہی کو دہانے پر پہنچایا گیا ہے ۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ کانسٹیٹیوشنل بلا ک کی جانب سے اس دوران اخباری بیانات سے گریز کرتے ہوئے قومی تحریک میں شامل نامور شخصیات کے زریعے تنظیمی مسائل کو براہ راست حل کرنے کی کوششیں کی گئی اور مرکز پر قابض گروہ کو موقع فراہم کیا گیا کہ وہ بی ایس او آزادمیں جاری بحرانوں کو حل کرتے ہوئے اپنی ہٹ دھرمی ترک کردےں اور مزیدرکاٹےں پیدا کرنا بند کردےں لیکن مرکزی پر قابض گروہ کی منفی طرز عمل اور تنظیم کے نام سے جاری حالیہ روایتی بیانوں اور متنازعہ مرکز ی کمیٹی کے ممبران کے استعفے یہ ثابت کرتی ہیں کہ تنظیم کی تباہی کے زمہ دار گروہ کو بحرانوں کے حل میں کوئی دلچسپی نہیں ۔ بلوچ عوام سیاسی کارکناں اور قومی آزادی کیلئے تکالیف اٹھانے والے تمام حلقے ریاستی جبرکے سائے تلے جد وجہد کرنے والے تمام لوگ فرزندوں کی شہادتوں اور قومی سطح کے واقعات پر سیاست چمکانے کے عمل کی نفی کرتے ہوئے بی ایس او آزاد جیسے توانا سیاسی تنظیم کی تباہی کے زمہ دار گروہ کا محاسبہ کریں ۔ کانسٹیٹیوشنل بلا ک میں شامل اہم زون متنازعہ مرکز کی کھوکھلی اور روایتی سیاست کے برعکس بی ایس او آزاد کی حقیقی روح اور شہدا ءکے علمی و عملی قربانیوں کے درس کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی تنظیم کاری جاری رکھے ہوئے ہیں جس کے وجہ سے آج بی ایس او آزاد بلوچستان اوربلوچستان سے باہر اہم علاقوں میں اپنی سیاسی وجود کو برقرار رکھ پایا ہے ۔ بلاک میں شامل زون قومی سیاست میں آنے والے اتار چڑاو اور تنظیمی کو تباہی کی جانب لے جانے والے گروہ کے طرز عمل پر گہری نظر رکھتے ہوئے بی ایس او آزاد جیسے انقلابی درسگاہ کی حفاظت اور اس کو مضبوط بنا نے کے نصب العین پر قائم ہیں اور اسے کسی بھی روایتی سیاست کے حربے کی نظر نہیں ہونے دینگے ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0