مرکز پر قابض گروہ تنظیم کو چلانے کی اخلاقی و سیاسی جواز کھو چکی ہے ، بلاک میں شمولیت کا اعلان کرتے ہیں۔۔بی ایس او آزاد اوتھل زون

منگل 21 اکتوبر, 2014

کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن زاد اوتھل زون کی طرف سے گزشتہ دنوں سنیئر باڑی اجلاس منعقد کیا گیا جسمیں تنظیمی کارکردگی سیاسی صورتحال اور تنظیمی بحرانی سلسلے پر غور و خوض کیا گیا جسمیں دوستوں نے مرکز کی غیر سیاسی اور منافقانہ رویوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ مرکز پر قابض گروہ کے رویوں میں سیاسی دلیل کی بجائے کاروباری لین دین کی رویئے زیادہ مضبوط ہیں لہذا جو بھی انکی زات کو فائدہ پہنچائے وہ انکے لیئے تن تنہا قابلِ قبول ہوجاتی ہے مگر مدلل بنیادوں پر رکھی ہوئی دسیوں کارکنوں کی باتوں کو بالکل بھی خاطر میں نہیں لایا جاتا اسکی واضح ترین مثال یہ ہیکہ محض ایک ممبر کے طرف سے ہمارے ایک مرکزی ممبر کے خلاف مرکز کو ڈرافٹ ارسال کیاگیا تھاجو کہ مرکز نے نہ صرف من و عن تسلیم کرلیا بلکہ اسکی بنیاد پر کاروائی کرتے ہوئے اس مرکزی ممبر کو تنظیم بدر کردیاہم پہلے بھی واضح کرچکے ہیں کہ اس ڈرافٹ سے ہمارے زون کا کوئی تعلق نہیں ہے اور ہم آج بھی اس بات کو عام عوام اور کارکنوں کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں ہم بی ایس او آزاد کے مخلص کارکنوں کو یہ بھی بتانا چاہتے ہیں کہ ایک مادر تنظیم کو کس طرح سے کاروباری خطوط پر کچھ لے کچھ دے کی پالیسیوں کے زریعے چلایا جارہا ہے علاو ہ ازیں مرکز کی طرف سے بارہا ہمارے کارکنوں کو سوال کرنے اور کھڑا موقف اختیار کرنے پر نظر اندا ز کرنے کے ساتھ انکی باضابطہ کردار کشی بھی کی گئی جو کہ اس امر کی بین دلیل ہے کہ مرکز پرقابض گروہ ہر طرح کی ہٹ دھرمی پر اترنے سے باز نہیں آتی اسی طرح جب تنظیم میں مسائل سر اٹھانے لگے اور ہماری مجموعی سیاسی منظرنامے نے ایک بحرانی کیفیت کی شکل اختیار کی تو بجائے مسائل کو حل کرنے کے مرکزی گروہ نے تنظیم کو باقاعدہ ایک فریق بناکر ایک محاز کے ساتھ اور دوسرے کے خلاف کھڑا کردیا جو کہ سیاسی بالیدگی سے عاری قدم تھی اور آج بھی اس طرح کے رویوں کی روک تھام کی بجائے مرکز بڑی ڈھٹائی سے اپنی غیر سیاسی حرکتوں کی دفاع کرتے ہوئے عام کارکنان کی زہنی استحصال کررہی ہے تمام جمہوری اقدار کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آج یہ گروہ آمریت پسندی کا شکار ہوچکی ہے جہاں کارکنوں کو اپنی رائے رکھنے کی کوئی حق نہیں دیا جارہا ہے اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تنظیم میں جو بحرانی مسائل چل رہے ہیں وہ نہ صرف حقیقی ہیں بلکہ انکا بنیادی زمہ دار بھی مرکز پر یہی قابض گروہ ہے اور بار بارہمیں یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے کہ کانسٹیٹیوشنل بلاک تنظیم کو توڑنے کے لیئے ایک منظم سازش ہے مگر ہمارے زون کے ساتھ مرکزی رویوں کو دیکھ کر یہ کہنا بالکل بجا ہوگا کہ مسائل حقیقی ہیں اور بلاک میں شامل تمام زون تنظیم کو ان مسائل سے نجات دلانے کے لیئے کمر بستہ ہیں اسی تناظر میں گزشتہ مہینے ایک اجلاس بلایا گیا تھا جس میں متفقہ طور پر مرکزی گروہ کی بائیکاٹ کا فیصلہ کرتے ہوئے زونل معاملات کو چلانے کے لیئے دو رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی پھر اس مہینے اوتھل زون کی سنیئر باڑی اجلاس میں کانسٹیٹیوشنل بلاک میں شمولیت کا باضابطہ فیصلہ لیا گیا اور مزید کہا گیاکہ کانسٹیٹیوشنل بلاک کے تحت کام کرنے والے دوستوں کے ساتھ ملکر تنظیمی کاموں کا آگے لے کر جائیں گے ۔۔ 

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0