مسجد کی لکڑی نا جلانے کا نا رکھنے کا ۔تحریر۔ نود بندگ بلوچ

منگل 30 ستمبر, 2014

مسئلے کو سمجھنا اور مسئلے کو سمجھ کر مقصد کا تعین ایک بات ، اس مقصد کے حصول کیلئے ہم فکروں کی تشکیل ایک الگ بات ، لیکن یہ تمام عوامل شعوری ہیں یعنی یہ وجود تو رکھتے ہیں بس انکا سمجھنا ضروری ہوتا ہے انہیں جاننے کی دیر ہوتی ہے ، انکا وجود ہمارے ادراک کا محتاج نہیں ہوتا۔ یہ سب دریافت ہیں ایجاد نہیں لیکن اصل بات وہاں آتی ہے جب مسئلہ کو سمجھنے ، مقصد کا تعین کرنے اور ہم فکروں کی تشکیل کے بعد آپ میں اور مقصد کے حصول میں جو فاصلہ بچ جاتا ہے اسے کیسے طے کیا جائے ، مقصد کا تعین اور اس کے حصول کے بیچ کی مسافت ہی جدوجہد یا تحریک کہلاتی ہے۔ تحریک نا پہلے سے موجود شے ہے اور نا ہی پہلے سے بنا ہوا کوئی رستہ کہ اس پر آپ رختِ سفر باندھ کر آنکھیں بند کرکے چل پڑیں بلکہ یہ مکمل طور پر آپ کے عقل ، ادراک ، شعور ، سمجھ اور پرکھ پر منحصر ہوتا ہے۔ پانی پر چل کر اور ریگستان میں تیر کر مسافت طے نہیں ہوسکتی بلکہ بے پناہ قوت لگانے کے باوجود ناکامی اٹل ہے ، سائنسی طریقہ کار کیا ہے صرف یہی کہ میں سادہ سے مشاہدہ سے یہ سمجھ سکوں کہ پانی پر چلا نہیں جاسکتا بلکہ تیر کر پار کرنی ہوتی ہے اور ریگستان پر چل کر پھر سفری تقاضوں کو سمجھ کر حسبِ ضرورت رختِ سفر باندھنا۔ مقصد کے حصول کی کوشش یا تحریک بھی اسی سفر کی طرح ہے یہ بھی ہم سے ایک سادہ سے سائنسی مشاہدے کا متقاضی ہوتا ہے کہ اس سفر کو کیسے طے کیا جائے ، اگر ذمینی حالات کو سمجھ کر اس کے تقاضوں کے مطابق چلا جائے تو جلد یا بدیر سفر کٹ ہی جاتی ہے لیکن اگر نا اہلی یا سفر کو اپنے ذاتی غرض سے نتھی کرکے صحیح طرح نہیں سمجھا گیا تو پھر آپ بس فطرت کے رحم وکرم پر ہی ہوتے ہیں کوئی حادثہ یا اتفاق آپ کو منزل تک پہنچانے کا موجب بنے تو الگ بات ورنہ پہنچنا ناممکن ہوتی ہے۔ بس یہی وہ دقیقہ ہے گر شعور کے قید میں آجائے تو بات بن جاتی ہے بصورتِ دیگر خون بہتی ہے ، پسینہ بہتا ہے لیکن سفر نہیں کٹتی۔
اسے نا اہلی کہیں ، سمجھ کا قحط یا انسانی منفی شعور کا حاصل کہ بلوچ قومی آزادی کے حصول کیلئے تشکیل پانے والی پارٹیاں اور تنظیمیں اس صلاحیت سے یکسر محروم ہوچکے ہیں کہ وہ قومی تحریک کے ضروریات کو سمجھیں اور اس کے مطابق چلیں بلکہ میں یہ کہوں گا کہ وہ کبھی بھی یہ سمجھنے کے قابل ہی نہیں ہوئے تھے۔ ہر جلسے ، جلوس ، سرکل اور تربیتی مواد میں ڈھنڈورا پیٹ کر ہر اول دستے ، انقلابی پارٹی، ریڑھ کی ہڈی کے داعی ان تنظیموں کے گذشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے کے کاموں کا حاصل حصول دیکھیں کیا تھا اور کیا ہے ؟ کیا واقعی بی ایس او ایک ہر اول دستہ رہا ہے ؟ ذرا غور کریں 2001 سے پہلے جب مزاحمت کا آغاز نہیں ہوا تھا تو پھر بی ایس او کے اندر اتنی صلاحیت کیونکر مجتمع نہیں ہوسکی کے وہ یہ بیڑ اٹھائیں؟ ، بی ایس او کا جب قیام عمل میں آیا تو بلوچ سیاست کا رخ پارلیمنٹ کی طرف تھا تو بی ایس او کے چیئرمین تک پارلیمنٹ کے رکن بن گئے جب 70 کی دہائی میں مزاحمت شروع ہوگئی اور سیاست کا رخ پارلیمنٹ سے ہٹ کر جنگ کی طرف آگئی تو بی ایس او کا قبلہ بھی بدل گیا اور اس وقت کے چیئرمین تو جنگی کمانڈر بن گئے ، افغانستان کو اپنا آماجگاہ بنا لیا لیکن جب اس مزاحمت نے دم توڑ دیا اور 90 کے دہائی کے پارلیمانی دور نے جنم لیا تو ایک بار پھر بی ایس او مینگل و حئی کے جھنڈے گاڑنے لگی لیکن 21 ویں صدی کے آغاز میں جب ایک بار پھر مزاحمت نے جنم لیا تو ایک بار پھر بی ایس او کاروان میں شامل ہوگئی اور حیرت میر کارواں کا دعویٰ کرنے لگی ، اس پر بھی طرہ یہ کہ جب مزاحمتی تنظیمیں باہر سے ایک لگتی تھی تو بی ایس او بھی ایک ہوکر سب کا حمایت کررہا تھا جب ان تنظیموں کے بیچ تضادات شروع ہوئے تو بی ایس او بھی تضادات کا شکار ہوگیا ، اب آگے معلوم نہیں یہ مزاحمت کس سمت کروٹ لیتی ہے آزادی ، پارلمینٹ یا خانہ جنگی لیکن اتنا پتہ ہے جس سمت بھی یہ کروٹ لے بی ایس او بنا ہی ایسا ہے کہ وہ ایک چھوٹے بچے کی طرح ہاتھ پکڑ کر پیچھے چل دے گا ایک بار بھی نہیں پوچھے گا کہ کیا ، کیوں اور کیسے؟ اور سب سے بڑی مذاق کی بات یہ ہے کہ اس دوران بی ایس او خود ہی اپنا سب سے زیادہ تشہیر کرکے خود کو آزادی کا ہر اول دستہ قرار دیتا رہا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ اتنے بڑے مقصد \” آزادی \” کے حصول کیلئے کوشاں کسی تنظیم جس کا کام راہوں اور منزل کا تعین ہوتا ہے ، جسے بتانا ہوتا ہے کہ منزل کس جانب ہے اس کا معیار یہ ہوتا ہے ؟ وہ تنظیم جس کے ذمہ قومی آزادی کا حصول ہو ، جسے مقصد کیلئے ہزاروں نوجوان اپنی مرضی ، اپنی صلاحیتیں ، اپنا وقت حتیٰ کے اپنی جان تک اس کے حوالے کردیں اسکا معیار یا ساخت یہ ہو کہ اسے موم کی ناک کی طرح کسی بھی طرف موڑا جائے ، جس میں اب تک خود یہ صلاحیت نہیں ہو کہ وہ اپنے قبلے کا تعین کرے ، تو پھر کیا وہ تنظیم قومی آزادی کا یہ بار اپنے کندھوں پر اٹھانے کا لائق ہے ، کیا اتنی جانیں ، صلاحیتیں ، جذبات ، وقت اور محنت آنکھیں بند کرکے اسکے حوالے کرنا اس قومی تحریک کی ناکامی نہیں ؟ اب یہاں مسئلہ یہ ہے کہ بی ایس او کی طرز سیاست ہی اسی طرح تشکیل پاچکی ہے کہ اسکے کام کا تمام محور گھوم پھر کر یہ ہوتا ہے کہ نوجوانوں اور عوام کے ذہنوں میں ایک بات ڈالتی ہے کہ جو کچھ ہے وہ بی ایس او ہے ، شہیدوں کی تنظیم ہے ، تحریک کا ہر اول دستہ ہے فلانہ ہے اور یہ باتیں ذہنوں میں اسطرح نقش کی جاتی ہیں کہ کارکن اس صلاحیت سے ہی محروم ہوجاتے ہیں کہ پوچھیں کہ کیا واقعی ؟ حالانکہ بی ایس او کے حاصل حصول پر غور کریں وہ کیا ہے ، جب مزاحمت شروع ہوئی تو عوام کے ذہنوں میں سوال اٹھنے لگا کہ یہ کون ہیں کیا چاہتے ہیں ، پہلی بار مزاحمتی تنظیموں کی طرف سے آزادی کا دو ٹوک اور واضح موقف آتا ہے تو عوام کو سمجھ آجاتی ہے پھر بی ایس او اسی موقف کے پشت پر چل پڑتی ہے ، مزاحمت زور پکڑتی ہے تو اپنائیت کی وجہ سے لوگوں میں ایک جذباتی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور لوگوں کی حمایت آزادی کی طرف ہوجاتی ہے ، اس دوران مزاحمتی تنظیمیں تو نظروں میں نہیں ہوتی لیکن وہی نعرہ سرفیس پر جب بی ایس او لگاتی ہے تو وہ نظروں کے سامنے آجاتا ہے اس لیئے لوگ ان پر بھروسہ کرکے انکے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ بی ایس او کے دوسرے دھڑوں کے مقابلے میں بی ایس او آزاد کے پیچھے لوگ اس لیئے نہیں چلے کہ بی ایس او آزاد نے کوئی کامیاب حکمت عملی اپنائی تھی یا سالوں سے محنت کی تھی بلکہ یہ سب سرمچاروں کے بندوق سے نکلے گولیوں کا مرہونِ منت تھا۔ جب جذبات کی وجہ سے لوگوں کا رجحان اس جانب ہوا تو پھر ایک سرفیس سیاسی پارٹی کا بنیادی کام یہی ہوتا ہے کہ ان جذبات کو ایک شعوری شکل دے ، انہیں منظم کرے اور عظیم تر مقصد کے حصول کیلئے تیار کرے اور اسی حساب سے بروئے کار لائے لیکن یہاں ہمیں صورتحال بالکل الگ دکھائی دیتی ہے ان جذباتوں سے بی ایس او نے صرف خود کو عارضی طور پر مضبوط بنایا ، ایک بہت مضبوط اور بڑی تنظیم بن کر ابھری لیکن جب دشمن نے اپنا ڈنڈا چلانا شروع کیا تو جذبات پر خوف حاوی ہونے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ عوامی حمایت اور جذبات کا سیلاب بہتے ہوئے کہاں نکل گیا کچھ پتہ ہی نہیں چلا ، جو کام سرفیس پارٹیوں کا ذمہ تھا یعنی عوام کو منظم کرنا وہ اس میں بری طرح ناکام ہوگئے ، وہ عوام کو کیا سنبھالتے خود کو تک نہیں سنبھال سکے۔ 2006 سے لیکر 2010 تک بی ایس او کا سنہری دور کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا اس دوران ان جذبات کے طفیل بی ایس او ہر گلی ، کوچے ، شہر اور گاوں تک پہنچ گیا لیکن آج جہاں ہم کھڑے ہیں صرف ایک بات پوچھ سکتے ہیں کہ وہ سب کچھ کہاں ہوا ہوگیا ؟ مجھے امید ہے کہ اس دور کے چیئرمین بشیر زیب بلوچ میں اتنی اخلاقی جرات ضرور ہوگی کہ وہ اس بات کو مان لے کہ وہ ہم نے ضائع کردیا ، ہم اس عوامی سیلاب کو کوئی شکل دینے اور منظم کرنے میں مکمل ناکام ہوئے۔ اگر ان جذبات سے فائدہ نا اٹھانے کی دو سادہ مثالوں پر ہی غور کریں تو بات آسانی سے سمجھ میں آجائیگی کہ جب اکبر بگٹی اور بالاچ مری شہید ہوئے تو عوام از خود ہر طرف سے نکلے حکومتی مشینری جام کردیا لیکن اس وقت ہمارے سیاسی جماعت اس کیفیت کو کوئی ٹھوس شکل دینے میں مکمل ناکام ہوئے اور وہی ہوا جو دشمن امید کررہا تھا یعنی کچھ دن عوام جذبات میں بھڑکیں گے اور جلد ٹھنڈے ہوکر بیٹھ جائیں گے۔ 2010 کے بعد سے لیکر ابتک کے کارہائے نمایاں تو اور بھی بدتر ہیں، جب تضادات نے سر اٹھایا تو بی ایس او بھی حسبِ امید اسکا شکار ہوگیا اور ایک مسلح گروہ کی من پسند لابی نے اس پر قبضہ کرلیا ، پھر اس سوچ سے اختلاف رکھنے والا جو بھی شخص تھا انہیں ایک ایک کرکے نکالا گیا یا نکل جانے پر مجبور کیا گیا ، بی ایس او کا طفیلی ہونے کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ آج وہ ہر اس جگہ نظر آتا ہے جس جگہ اسکا قبضہ گیر مسلح تنظیم بی ایل ایف ہے ، بی ایل ایف جتنی پھیلی گی بی ایس او بھی پھیلے گا ، بی ایل ایف جتنا سکڑے گا یہ بھی اتنا ہی سکڑے گا ، پہلے میں اور اب میں فرق یہ ہے کہ پہلے بی ایس او کو تمام مسلح تنظیموں سے فائدہ ہوتا تھا لیکن اب صرف ایک تنظیم سے مثال کے طور پر اب بی ایل ایف ختم ہوجاتا ہے تو پھر بی ایس او کی بھی یہ آزادی پسند سیاست ختم ہوجائے گی پھر اس کا ظہور کسی اور نعرے کے ساتھ کسی اور کونے سے ہوگا۔ ذرا سوچیں اس دوران بی ایس او کا کام کیا رہا ؟ وہی سب کچھ جو پہلے کرتا رہا ہے ایک رستہ پر چل کر نقصان اٹھانے کے باوجود یہ گرتا ہے ٹوٹتا ہے پھر کپڑے جھاڑ کر اسی رستہ پر چلنا شروع کردیتا ہے پھر مار کھاتا ہے پھر گرتا ، ذرا سوچیں بی ایس او زندہ کیسے رہ رہا ہے جب اس کے ناکام پالیسیوں پر تنقید ہوئی تو روایتی ٹوٹکے آزما کر رضا جہانگیر کو بھاگ دوڑ کروایا کہ روایتی جذباتی تقریروں اور کارکنوں کو جذباتی بلیک میلنگ لیکچروں سے ساتھ رکھا جائے ، وہ شہید ہوا تو اس کے شہادت سے حاصل ہونے والے جذبات پر بی ایس او نے کچھ وقت خود کو گھسیٹا جب بلاک بن گیا پھر وہ پتھرا گیئے اس بار زاہد کو بھگایا وہ پکڑا گیا تو پھر کچھ وقت اسکی وجہ سے حاصل شدہ جذبات سے سانس لے رہا ہے ، آگے بھی کچھ نہیں ہوگا یہ اثر کم ہوگا کوئی اور جائے گا یہی سلسلہ چلتا رہے گا ، ایسا کیوں ہورہا ہے ؟ کیونکہ انہیں دوسرے رستے پر چلنا ہی نہیں آتا یا یہ ایسے بنے ہیں کہ یہ کسی دوسرے رستے پر چلنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔ اب جس ہٹ دھرمی سے اسی غیر مفید رستے پر چلنے کی ضد صرف اسلئے ہے کیونکہ اس رستے پر چل کر آپ جذبات ابھارتے ہو اور ان جذبات پر محل کھڑا کرنے کی کوشش کرتے ہو وہی کام جو بی ایس او چار دہائیوں سے زائد عرصے سے کررہا ہے۔ اس دوران جتنے کارکن شہید ہوئے انہیں صرف ریاستی جبر قرار دیکر اسکے پیچھے چھپنا سراسر ایک غیر سائنسی رجحان ہوگا حالانکہ اگر غور کیا جائے تو ان شہادتوں کا جتنا ذمہ دار ریاست ہے اتنی ہی ذمہ دار خود بی ایس او اور اسکی روایتی سیاست ہے کیونکہ انجام معلوم ہونے کے باوجود بھی وہ اسی رستہ پر بضد رہا ہے اور اس احمقی کو اس جملے میں چھپاتے ہیں کہ \” آجوئی ہون لوٹی \” اتنا سوچنے کی فرصت کس کو ہے کہ سوچے کہ کیا جتنا خون ہم نے دیا اس کے برابر فائدہ بھی ملا؟۔ حقیقت یہ ہے کہ بی ایس او میں یہ صلاحیت ہی نہیں کہ وہ ایک تعین شدہ سیاسی مدار کے گردش سے باہر نکلے ، کچھ عرصے پہلے میری نظر 80 کے دہائی کے بی ایس او کے ایک میگزین پر پڑی غالباً اسکا نام استار تھا، جسے پڑھ کر اس دور کے بی ایس او کے کاموں کا کچھ اندازہ ہوا یقین کریں اس وقت بھی بی ایس او اسی ہی قسم کے جلسے کرتا تھا ، ایسے ہی مظاہرے کرتا تھا ، ایسے ہی سرکلیں لگاتا تھا اس میگزین کے اگر تاریخ بدل کر پڑھا جائے تو بالکل بھی پتہ نہیں چل سکتا کہ وہ آج کی ہے یا یا 20 سال پرانی ، اور مجھے امید ہے اس سے بھی پرانا ریکارڈ اٹھا کر دیکھا جائے بھی تو کوئی تبدیلی نظر نہیں آئیگی سوائے موقف کے۔ اب صرف اتنا سوچا جائے کہ کیا 80، 90، 2000، اور آج 2014 کے حالات کے بیچ فرق ہے یا نہیں تو یقیناً جواب اثبات میں آئے گی لیکن وہی تبدیلی بی ایس او میں ڈھونڈنا ناممکن ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ اس میں وہ صلاحیت ہی نہیں کہ خود کو بدل سکے ، ذکر بی ایس او کے حاصل و حصول کا ہورہا تھا اب اس کے لٹریچر یا تربیتی سرکلوں پر ایک نظر دوڑائیں تو حیرانگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ بی ایس او کا تربیتی لٹریچر آج بھی وہی ہے جو تنظیم کے قیام کے وقت تھا ہر میگزین اٹھا کر دیکھ لیں ہر تربیتی سرکل کے باتوں پر غور کریں تو وہ ماو ، لینن ، چین روس ، کیوبا اور چی گویرا سے ہوتے ہوئے بھڑک بازی پر جاتی ہیں پھر کسی شخص کو ہیرو یا ولن بنانے پر ختم ہوتی ہے ، اور پھر کارکنوں کی تربیت کا معیار کیا ہے انہیں صرف اور صرف تابعداری سکھائی جاتی ہے حالانکہ تربیت تو یہ ہے کہ آپ اسے یہ سکھاو کہ عوام کو کیسے متحرک کیا جاسکتا ہے ، ان حالات میں محفوظ طریقے کونسے ہیں ، عوام سے کیسے رابطہ میں رہا جاسکتا ہے ، عوام کے سامنے ہر آنے والے حالات اور مسائل کی تشریح کیسے کی جاتی ہے ، انہیں تحریک کا ہمدرد اور معاون بنائے رکھنے کیلئے کیا کیا جاتا ہے ، وقتِ ضرورت انکے جذبات کیسے بھڑکائے جاتے ہیں وغیرہ لیکن یہاں ایسا نہیں ہوتا ایک تنظیم کا کام ہوتا ہے کہ وہ اپنے ہر کارکن کو لیڈر بنائے تاکہ وہ معاشرے کو کسی بھی جگہ اور کسی بھی حالت میں لیڈ کرسکیں لیکن ہمارے تنظیموں کا حالت یہ ہے کہ وہ کارکن کو ہی عوام سمجھتے ہیں ، ایک سیاسی کارکن اور عام عوام میں بنیادی فرق یہی ہوتا ہے کہ کارکن کے جذبات کو شعور کے تابع کرکے اسے حقیقت پسندی کے ساتھ صحیح حالات سمجھا کر اسی حساب سے تربیت دی جاتی ہے لیکن عوام کی تعداد کثیر ہوتی ہے ہر ایک کو فرداً سمجھانا ممکن نہیں ہوتا اس لیئے وہاں دنیا کے ہر تحریک نے جذبات کا سہارا لیا ہے ، انہوں نے جذباتی کیفیت پیدا کرکے پھر ان کی قوت کو منظم کرکے مقصد کیلئے استعمال کیا ہے لیکن یہاں وہی جذباتی ٹوٹکے کارکنوں کیلئے استعمال کیا جاتے ہیں ، انکے جذبات بھڑکا کر استعمال کیا جاتا ہے اسی لیئے جب بھی کوئی بحرانی کیفیت پیدا ہو یا اکبر بگٹی کے شہادت جیسا واقعہ ہماری اصلیت کھل کر سامنے آجاتی ہے ، اس دوران عوام کو لیڈ کرنے اور منظم کرنے والا کوئی بھی نہیں ہوتا۔ یعنی گذشتہ 15 سال کے دوران بی ایس او کا حاصل یہ رہا کہ وہ قوم کو ایک موقف نہیں دے سکی بلکہ خود ہی مسلح تنظیموں کے موقف کو اپنا کر بڑھا ، قوم کے جذبات کو شعوری شکل دیکر ایک طاقت بنانے کی جو ذمہ داری اس پر عائد تھی اس میں وہ بری طرح ناکام ہوکر اس عوامی حمایت کو کوئی بھی شکل دینے میں ناکام رہا ، اپنے کارکنوں کی تربیت جدید خطوط اور معروضی حالات کے مطابق کرنے کی جو ذمہ داری اس پر تھی اس میں بھی وہ ناکام ہوکر کارکنان کو صرف وہ جذباتی سبق رٹاتا رہا اور تابعداری سکھاتا رہا ، مجموعی طور پر آپ جتنا بھی سوچیں کہ حقیقت پسندی سے بی ایس او کا ایک بھی بڑا کارنامہ نکالیں تو کچھ بھی سامنا نہیں آتا ، جو کچھ آج بی ایس او اپنا حصول قرار دیتی ہے وہ دوسروں کے سامان پر شب خون مار کر قبضہ کرنے والا مال غنیمت ہے۔ الٹا طلبہ و قوم کو سنبھالنے میں ناکامی کی وجہ سے بی ایس او نقصاندہ ضرور ثابت ہوا ہے لیکن کارآمد نہیں ان سب کے باوجود مجھے حیرت ہوتی ہے کہ لوگ بی ایس او کو ناگزیر سمجھتے ہیں ، لوگوں کو ایسا لگتا ہے کہ بی ایس او کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم ہمیشہ سطحی طور پر صرف یہ دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ بی ایس او کیا کررہا ہے ہم کبھی یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ
بی ایس او کو کیا کرنا چاہئے اور وہ کیا کیا کرسکتا ہے۔ جب میں بی ایس او کہہ رہا ہوں تو میرا مراد صرف کریمہ کا بی ایس او ، زاہد کا بی ایس او یا بشیر زیب کا بی ایس او نہیں بلکہ گذشتہ 15 سال میں بی ایس او مجموعی طور پر ہے۔اگر گذشتہ 15 سال کے بلوچ معروضی حالات ، عالمی حالات ، عوامی حمایت ، قربانیوں اور مسلح کامیابیوں کے تناظر میں آپ تجزیہ کرکے اندازہ لگائیں تو پھر بہت آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے کہ ہمیں جہاں ہونا چاہئے تھا ہم وہاں سے بہت زیادہ نیچے ہیں اور اسکی سب سے بڑی وجہ ہماری سیاسی تنظیمیں ہیں ، وہ ان سب عوامل کو شکل دیکر کامیابی کی طرف لیجانے میں یکسر ناکام ہوئے ہیں ، اس دوران ان کے قوت اور محنت کا محور صرف اپنی تنظیمی بقا رہا ہے ، کیونکہ بقاء آزادی کے نعرے میں پنہاں تھا اس لئے فرضی کارروائیاں ضرور پوری ہوئیں ہیں۔ خاص طور پر بی ایس او تحریک کیلئے ایک زینہ نہیں بلکہ اپنے نااہلی کی وجہ سے ایک رکاوٹ ثابت ہوا ہے۔ اس نا اہلی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بی ایس او کے اسٹریکچر سے لیکر اس کے تربیتی اداروں ، طرز سیاست ، سیاسی ذہنیت ، سیاسی رویوں تک سب قومی تحریک کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہیں۔ اب یہی باتیں بی ایس او کے کسی بھی کارکن یا لیڈر کے سامنے رکھیں تو وہ ان تمام باتوں پر نہیں تو ان میں سے نصف سے ضرور اتفاق رکھے گا لیکن جب آپ اسے یہ کہیں کہ بی ایس او کے نام ، اسٹرکچر اور رویوں سے لیکر ہر چیز کو تبدیل کرکے وقت کے تقاضوں کے مطابق بنائیں تو اسکا جواب صرف یہ ہوگا کہ اگر یہ سب تبدیل کردیا تو بی ایس او ، بی ایس او ہی نہیں رہے گا۔ یعنی اس وقت بی ایس او خود ہی بی ایس او کے سامنے رکاوٹ ہے ، خود کو بدل کر جب بی ایس او ، بی ایس او نہیں رہے گا تو وہ فوراً ان سستے جذبات سے محروم ہوجائیگا جو 40 سال سے ایک بی ایس او کا دوسرے بی ایس او کو دی جانے والی واحد وراثت ہے۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ کچھ ہی سالوں میں بلکہ کبھی کبھی سوچتا ہوں اب ہی قوم کو آزادی یا بی ایس او کے بیچ میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑے گا۔ بی ایس او گوکہ آج ایک ایسے گروہ کے ہاتھ میں گروی ہے جن کا کردار قومی مفادات اور مقصد سے متصادم ہے لیکن یہ انکی ملکیت نہیں ہوسکتا ہے کہ کل کو کوئی بھی باشعور شخص بی ایس او کو دوبارہ سے آزاد کرلے لیکن بی ایس او آزاد ہوبھی جائے جب تک وہ اس حالت میں ہے وہ اپنی بہترین شکل میں بھی قومی تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
بی ایس او کا ذکرِ طویل اسلئے نہیں کہ وہ آج ڈاکٹر اللہ نظر کے نرغے میں ہے اسلئے کہ خوش قسمتی یا بد قسمتی سے بی ایس او بلوچوں کی ابتک کی سب سے بڑی تنظیم رہی ہے جب ہم دوسرے تنظیموں کی طرف نظر دوڑائیں تو حالت اس سے بھی بدتر ہیں۔ بی ایس او کے بعد بی این ایم کو دیکھیں اور سوچیں کہ بی این ایم نے آج تک کیا کام کیا ہے ؟ اس وقت ماس پارٹی کا دعویدار بی این ایم ماس کجا اپنے ضروری افرادی قوت کیلئے پوری طرح بی ایس او کا محتاج ہے کہ وہاں کوئی طالبعلم اپنا وقت پورا کرنے کے بعد خوش قسمتی سے پھر بھی اپنا آزادی پسند سوچ برقرار رکھ سکا تو پھر وہ بی این ایم میں آجائے اور دوسری طرف مسلح تنظیموں کے کاروائیوں کی وجہ سے اگر نوجوانوں کے علاوہ کوئی شخص متاثر ہوا جو کہ بہت کم ہوتے ہیں انہیں دبوچ لیں۔ اس دوران بی این ایم نے کیا کِیا ہے؟ اور ایک ماس پارٹی کیا کرتا ہے ؟ ان دو سچائیوں کے بیچ کے خلیج کو دیکھ کر بے اختیار دل میں آتا ہے کہ بلوچ کو ایک یتیم قوم کہوں۔ بی آر پی اور بی آر ایس او تو قابلِ ذکر ہی نہیں۔ براہمداغ بگٹی جسے ایک لیڈر کیا ایک یونٹ سیکریٹری تک کا تجربہ نہیں وہ کسی مملکت کے بادشاہ کی طرح پارٹی کے تاحیات چیئرمین بن چکے ہیں۔ اب دو طریقوں سے کچھ کارکن جمع کررہا ہے کارکنوں کا پہلا حصہ بگٹیوں پر مشتمل ہے جو صرف قبائلی حیثیت سے ساتھ ہیں اور دوسرا حصہ صرف مراعات اورعہدے کی خاطر موجود ہے۔ ( گنے چنے آٹے میں نمک برابر مخلصوں سے معذرت کے ساتھ) ایک کڑوی بات کرتا ہوں حال ہی میں بی آر پی کے دو کارکنوں کو کچھ مسئلہ ہوگیا ، ایک کو خرچے کا مسئلہ تھا اور دوسرے کا ویزہ مسئلہ تھا ، جنہیں بی آر پی نے حل نہیں کیا ، مذکورہ اشخاص نے دن رات فیس بک پر بی آر پی کے خلاف لکھنا شروع کیا ، وہی باتیں کرنے لگیں جو دوست تنقید کی صورت میں عرصہ دراز سے کررہے تھے ، جب بی آر پی نے وہ مسئلہ حل کردیا تو اب دوبارہ \” براہمداغ ترا سلام \” بن گئے ہیں، ایک نشاندہی کرنا چاہوں گا اس وقت تحریک کے اندر مراعات کے حصول کا ایک گھناونا کاروبار بھی شروع ہوگیا ہے ، بہت سے لوگ دیکھتا ہوں مقصد بلوچستان نہیں ذات ہے ، اپنی ایک قیمت بھی رکھی ہوئی ہے جو بھی پارٹی یا لیڈر زیادہ بولی لگا کر ان کے خدمات حاصل کرے ، اور اس رجحان کو پیدا کرنے کا سہرا پوری طرح بی آر پی اور براہمداغ بگٹی پر جاتا ہے لیکن اب یہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ باقی بی آر پی کا کام صرف یہ رہ گیا ہے کہ یورپ میں براہمداغ کا ایک قد آور تصویر لیکر کھڑے ہوجاتے ہیں کچھ تصویریں کھینچ کر قومی خدمت پورا کرتے ہیں ، اور دنیا کو بیوقوف بنانے کیلئے بلوچستان کے جھنڈے کو اپنا پارٹی جھنڈا بنایا ہوا ہے اور بلوچستان میں ہونے والے تمام کاموں کا سہرا اپنے سر پر سجاتے ہیں۔ حتیٰ کے ابتک وہ اپنے موقف تک میں واضح نہیں کہ بلوچستان کا مسئلہ قابض کا غیر مشروط انخلاء ہے یا ریفرنڈم ، پارلیمنٹ پرست بی این پی اور اس کے ذیلی جماعتیں دوست ہیں یا دشمن۔ ماما قادر بلوچ کا بلوچ وطن موومنٹ اب تک اس کسوٹی تک پر پورا نہیں اترتا کہ اسکو جانچا جائے اور اس پر کچھ لکھا جائے، بلوچ انڈیپینڈنٹ موومنٹ اور گہار موومنٹ کو ایک پارٹی کے عمر کے حساب سے تولہ جائے تو پھر کہہ سکوں گا کہ ابتک وہ اس بچے کی طرح ہیں جو گھٹنوں کے بل بھی نہیں چل سکتے ، تھوڑا بڑا ہوجائیں تو دیکھتے ہیں کہ اس قابل ہیں کہ نہیں کہ قومی بوجھ اٹھاسکیں لیکن قیام کے جواز کی پولیو زدہ ٹانگوں سے زیادہ امیدیں بھی نہیں رکھ سکتا، ہوسکتا ہے میں غلط ہوں کوئی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہے۔ باقی اور بہت سے چھوٹے موٹے نام پڑھنے کو ملتے ہیں وہ سب ڈھکوسلہ ہیں۔
کیونکہ موضوع سیاسی جماعتیں ہیں مسلح تنظیمیں نہیں اسلئے مسلح تنظیموں کے کارستانیوں پر فی الحال صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ بلوچ مسلح تنظیمیں کبھی بھی اس حد تک قابلِ تعریف نہیں رہے ہیں جتنا کہ سمجھا گیا ہے لیکن وہ سرفیس سیاسی تنظیموں سے بہتر رہے ہیں۔ قبائلی سوچ ہمیشہ سے ایک مسئلے کی طور پر موجود رہا ہے لیکن ضروری عسکری ڈسپلن کی وجہ سے کسی حد تک کنٹرول میں تھا ، ہمیشہ سے یہی امید رکھی جاتی تھی کہ جب تحریک عوامی سطح پر مزید مضبوط ہوگی تو سیاسی سوچ کے مالک بلوچ زیادہ سے زیادہ مسلح سیاسی محاذ کی جانب آئیں گے تو یہ سیاسی سوچ اس قبائلی سوچ کو بدلنے میں معاون ثابت ہوگا اور مزید بہتری آئیگی لیکن ہوا بالکل برعکس یہاں سیاسی سوچ کے مالک انسان ضرور آئے لیکن وہ ایک مثبت سیاسی سوچ کے ساتھ نہیں آئے بلکہ ان کا دین بلوچ سیاست کے منفی پہلو ہی رہے یعنی انہوں نے گمنام مسلح محاذ میں سیاسی پارٹیوں کی بیماریاں شوقِ لیڈری ، گروہ بندی ، لا بی ازم ، ہیرو ازم ، جوڑ توڑ ، سربراہی کیلئے چالبازیاں ، بھڑک بازی ، دروغ گوئی وغیرہ پھیلائیں۔ اس کا اعلیٰ مثال ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ ہے جس نے مسلح تنظیموں میں سربراہ اعلیٰ یعنی چیئرمین بننے کا رواج لے آیا پھر اس سربراہی کیلئے کتنے توڑے کتنے جوڑے سب کے سامنے ہے۔ پہلے بی ایل اے اور بی ایل ایف کے جدا جدا شناخت کا گمان تک نہیں تھا صاحب نے جدا جدا کیا اچھا خاصہ انہیں آمنے سامنے کردیا ہے۔ اب گروہ کو تقویت دینے کیلئے کس کس حد تک جاسکتے ہیں وہ بی ایس او پر قبضہ اور عصا
ظفر کو فون پر دھمکی دیکر بی این ایم کے قبضے کی صورت میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے ، گروہیت کی ایک مثال دوں گا ڈاکٹر صاحب کا کہ کچھ ایسے علاقے ہیں جہاں بی ایل ایف کی پہنچ تو نہیں لیکن سیاسی جماعتوں کے طفیل انہیں کچھ کارکن مل گئے ، اب انہی علاقوں میں بی ایل اے کا اچھا خاصہ اثر ہے ، بی ایل ایف انہیں نا رابطہ میں رکھ سکتی ہے اور نا ہی مڈی فراہم کرسکتی ہے لیکن انہیں بی ایل اے کی جانب جانے سے روکے رکھنے کیلئے ڈاکٹر صاحب نے ریزرو آرمی کا اصطلاح ایجاد کیا ہوا ، یعنی وہ کام کچھ نہیں کریں گے لیکن بی ایل ایف کے سپاہی ہیں تاکہ وہ بی ایل اے کی طرف نہیں جائیں اور اپنا گروہ مضبوط سے مضبوط ہوتا جائے حالانکہ وہی لوگ اگر بی ایل اے میں ہوں تو بآسانی انہیں مڈی بھی پہنچ سکتی ہے اور رابطہ بھی قائم رہ سکتا ہے ، لیکن کیا کریں قومی کاز کیلئے کسی اور تنظیم میں کام کرنے سے ڈاکٹر اللہ نظر کے گروہ بی ایل ایف کو کیا فائدہ ہوگا اس لیئے ضائع ہورہے ہیں۔ ابتداء میں بی ایل اے نے پھر بھی یہ پالیسی اپنائی کہ انہیں مڈی فراہم کی جائے گی بھلے وہ بی ایل ایف کے نام سے کام کریں تاکہ یوں ضائع نا ہوں یعنی بی ایل اے خرچہ بھی کرے گا لیکن اسکے گروہ کو کوئی فائدہ بھی نہیں ہوگا لیکن انہوں نے یہ قدم اس لیئے اٹھایا کیونکہ اس میں قومی کاز کو فائدہ ہے لیکن بعد میں بی ایل ایف کے گروہی اور منفی رویوں کی وجہ سے وہ امداد مشروط کردیا گیا۔ بات کہنے کا مقصد یہ ہے کہ سیاسی لوگوں سے مثبت توقعات تھے لیکن ان کی حالت اس مثال سے ظاہر ہے کہ انہوں نے مسلح تنظیموں کو بھی بی ایس او کے ان دو دھڑوں کی طرح بنالیا جو ہاسٹل کے کمروں کے اوپر لڑتے ہیں ، یہ بھی ہمارے اس سیاسی سوچ کی ناکامی ہے۔اس دوران یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر یہ سیاسی پارٹیاں ناکام ہیں تو پھر ان کے صفوں میں سے کچھ اچھے انقلابی کیسے پیدا ہوئے ؟ انفرادی صلاحیت اور سوچ کو کبھی بھی خارج نہیں کیا جاسکتا ، آج تک اگر ہمیں کہیں کوئی اچھا انقلابی یا کوئی اچھا کام نظر آیا ہے تو اسکے پیچھے اس شخص کا انفرادی سوچ کارفرما رہا ہے یا اس کام کے پیچھے کسی شخص کی انفرادی کوشش ، تنظیموں نے ہمیں کچھ نہیں دیا ہے۔ یہاں سر فیس سیاسی تنظیموں کی ناکامیوں کے ذکر کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ میں سرفیس سیاست پر مسلح سیاست کو ترجیح دے رہا ہوں یا سرفیس سیاست کو مسترد کرتا ہوں۔ سرفیس سیاست اور مسلح سیاست دونوں اپنی اپنی جگہ انتہائی اہمیت رکھتے ہیں ہر وقت نہیں تو زیادہ تر اوقات یہ لازم و ملزوم بھی ہوتے ہیں۔ یہاں اصل ناکامی ہمارے سیاسی تنظیموں کی ساخت ، بناوٹ ، طرز سیاست ، سیاسی ذہنیت ، طریقہ کار اور رویوں کی ہے۔ اس وقت ان کی حالت براہوی کے ایک محاورے کی طرح مسجد کی لکڑی کی طرح ہوچکی ہے جسے تعظیم کی وجہ سے جلایا بھی نہیں جاسکتا اور بوجھ کی وجہ سے رکھا بھی نہیں جاسکتا۔یاد رکھیں کہ تحریک اور مقصد تنظیموں سے نہیں ہوتی لیکن تنظیمیں تحریک اور مقصد کیلئے ہوتی ہیں اب اگر قومی تحریک اور قومی آزادی کے سامنے تنظیمیں رکاوٹ بن جائیں تو انہیں ایک بوسیدہ عمارت کی طرح مکمل طور پر توڑ کر نئے سرے سے تعمیر کرنا ناگزیر بن جاتا ہے کیونکہ جب عمارت کی دیورایں اور بنیادیں کمزور ہوں تو ان کے اوپر نئی عمارت کھڑی نہیں کی جاسکتی ، اس گاڑی کی صلاحیت بس ہمیں اس اسٹیشن تک لانے کا تھا اب اس سے آگے جانا ہے تو پھر یا تو نئی گاڑی کرنی پڑے گی یا پھر اس گاڑی کو اس قابل بنانا پڑے گا کہ وہ آگے سفر کرسکے ورنہ موجودہ حالت میں یہ گاڑی یہیں گول گول گھومے گی اور ہم خوش ہونگے کے سفر جاری ہے۔
پوچھا جاسکتا ہے کہ یہ غلط تو پھر صحیح کیا ہے ؟ یقیناً آپ جب کسی بھی آزمودہ عمل کو غلط کہتے ہیں تو آپ کے پاس ایک معیار ہوتا ہے جس پر
جانچ کر ہی آپ اس کے عدم افادیت اور غلط ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں ، آپ صحیح کو جان کر ہی غلط کو سمجھ سکتے ہیں ، آج اس صحیح کا ادراک ان تمام لیڈروں اور تنظیموں کو بخوبی ہے لیکن پھر بھی انہوں نے غلط اور پرانے طرز کو صرف اسلئے وطیرہ بنایا ہوا ہے کیونکہ تبدیل کرنے سے انکے گروہی اور ذاتی مفادات کو نقصان پہنچے گا ، وہ آج اس تبدیلی کے سامنے اتنی بڑی روکاوٹ بن چکے ہیں کہ ناکامی کو دعوت دے رہے ہیں اور اس پر بھی ستم یہ کہ ان کی پوری کوشش اس چیز میں لگی ہے کہ وہ موجودہ نظام کے توسط سے اپنے دستیاب عہدوں ، نام ، اثر اور تنظیموں سے تبدیلی اور جدت کو سازش ، مکر ، گمراہی ، اور غداری تک قرار دے رہے ہیں اور یہ سب صرف اسلئے کہ موجودہ ناکام طرز سے ان کے ہاتھ جو گروہ ، نام اور قوت آئی ہے وہ جانے نا پائے۔ وہ اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کے عوض پوری قوم کی ناکامی خریدنے پر بخوشی راضی ہیں۔ میں صرف اتنا کہوں گا کہ عقل کا تقاضہ یہ ہے کہ مسجد کی جو لکڑی بوجھ بن چکی ہے روایتی تعظیم کے پردوں کو عقل سے ہٹا کر انہیں جلانا بہتر اور فائدہ مند ہے۔ جہاں تک بات ہے کہ پھر صحیح کیا ہے تو دشمن کو پیش نظر رکھ کھل کر بیان نہیں ہوپائے لیکن ایک خیالی خاکہ ضرور پیش کروں گا۔
ملک فری لینڈ میں ایک تنظیم ہے ،ایک ایسی تنظیم جس کا کوئی نام نہیں ہے ، اس میں کوئی عہدہ نہیں ہے ، صرف ذمہ داریاں ہے ، ہر کوئی اپنے تفویض شدہ ذمہ داریوں کے حد تک جانتا ہے اور ان پر کام کرتا ہے ، یہ ذمہ داریاں اس طرح ترتیب دی گئی ہیں کہ ہر ایک کا کام دوسرے کے کام کو مضبوط کرتا ہے اور وہ کام خود ہی ربط اور رابطہ بن جاتا ہے۔ تنظیم کو کوئی شخص یا اشخاص نہیں چلاتے بلکہ شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم پالیسیاں چلاتی ہیں ، اور یہ پالیسیاں ماو اور لینن کے کتابوں سے چھاپی نہیں جاتی بلکہ اپنے زمین اور حالات کے صفحوں کو پڑھ کر بنائی جاتی ہیں ، ہر شخص صرف چند لوگوں کو جانتا ہے وہ بھی کام کی حد تک اس کے بعد اتنا جانتا ہے کہ وہ کس کو ذمہ داریاں تفویض کرے گا اور اسے کون ذمہ داریاں تفویض کرے گا ، وہ کس پر چیک اینڈ بیلنس رکھے گا اور اس پر کون چیک اینڈ بیلنس رکھے گا ، اسی طرح پاکٹوں میں بکھرہ ایک نظام ہے لیکن انکا کام بکھرہ نہیں ہے سب کے کام کا آوٹ پوٹ ایک ہی جگہ جمع ہوتا ہے، کسی فرد کا محنت اور کام اس شخص کو مضبوط نہیں کرتا بلکہ اس سسٹم اور تحریک کو مضبوط کرتا ہے۔ تربیت کا مطلب کتابوں سے مضمون رٹ کر انہیں رٹانا نہیں ہے بلکہ انہیں تحفظ ، رازداری ، کم سے کم نقصان میں زیادہ سے زیادہ فائدہ سکھانا ، اپنے معاشرے کو اندرے سے متحرک کرنا سکھانا ہے۔ جلسے ، جلوس ، احتجاج کی ضرورت پڑے تو وہ شارٹ کٹ راستہ اختیار کرکے خود جمع نہیں ہوتے بلکہ محنت کرکے ایسے حالات بناتے ہیں کہ عوام خود نکل کر جمع ہوجائے پھر وہ بس انہیں منظم کرکے تحریک کے حق میں کوئی رخ دیتے ہیں۔ فری لینڈ میں انکو کوئی نہیں جانتا ، انکے ماتھے پر کسی گروہ کا ٹھپہ نہیں ، لیکن انکا کام ایسے ترتیب پارہا ہے کہ انکے کام کو سب جانتے ہیں ، ان کے اس طریقہ کار سے ایک ساتھ گروہیت اور انفرادیت کی نفی ہورہی ہے ، انکا ارادہ یہی ہے کہ جب تک ایک مضبوط اور تربیت یافتہ قوت تشکیل نہیں دی جاتی تب تک نا کوئی نام ہوگا اور نا ہی لیڈر اور جب کام کا یہ حصہ تکمیل پاگیا پھر دونوں سامنے آئیں گے چاہے اس میں 1 سال لگے یا 10۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0