مسخ شدہ لاشوں کو ڈی این اے ٹیسٹ کے بغیر دفنانا غیرانسانی فیل ہے.نصراللہ بلوچ

بدھ 9 ستمبر, 2015

کوئٹہ( ہمگام نیوز)وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا ہے کہ سوراب سے ملنے والی 4 مسخ شدہ لاشوں کو ڈی این اے ٹیسٹ کے بغیر دفنانا غیرانسانی فیل ہے بلوچستان میں اکثر و بیشتر جو لاشیں ملتی ہیں وہ پہلے سے جبری طورپر لاپتہ کی جاتی ہیں جو بلوچوں کی ہوتی ہیں اور ان لاشوں کو اسی طرح دفنانے کی وجہ سے لاپتہ افراد کے لواحقین شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں کہ کہیں یہ ہمارے پیارے تو نہیں تھے اپنے جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا کہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ اگر کوئی مسخ شدہ لاش ملے تو اس کے شناخت کے تمام ذرائع استعمال کریں تاکہ وہ مسخ شدہ لاشیں لواحقین کو ملیں اور اسے انسانی تقدس کیساتھ دفنا دیں اور زندگی بھر کی اذیت سے نتائج مل سکے انہوں نے کہا کہ یہاں سپریم کورٹ کے احکامات بھی صوبائی حکومت مسخ شدہ لاشیں کی شناخت کیلئے کوئی ذرائع استعمال نہیں کرتی اس سے پہلے نوشکی سے ملنی والی مسخ شدہ لاشوں کے ڈی این اے نمونے کے حوالے سے صوبائی حکومت کو باقاعدہ درخواست دے دی تھی لیکن 4 ماہ گزرنے کے باوجود ان کا ڈی این اے ٹیسٹ نہیں کرایا گیا صوبائی حکومت کا یہ رویہ لاپتہ افرادکے زخموں پرنمک پاشی کے متراد ف ہے ایک بار پھر حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مسخ شدہ لاشوں کا مسئلہ انسانی مسئلہ ہے ان لاشوں کو ڈی این اے کے نمونے لئے بغیر نہ دفنایا جائے اوران کی شناخت کیلئے تمام ذرائع استعمال کئے جائیں اور جو پہلے کے ڈی این اے کے نمونے لئے گئے ہیں ان کا فوری طورپر ٹیسٹ کیا جائے ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0