مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کے عمل میں پچھلے سالوں سے زیادہ تیزی لائی گئی ہے، نصراللہ بلوچ

ہفتہ 29 اگست, 2015

کوئٹہ(ہمگام نیوز) وائس فاربلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے جبری گمشدگی کے عالمی دن کے موقع پروی بی ایم پی کے رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہاکہ اس سال بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فورسز کی کارروائیوں کے دوران حکومتی اداروں کے ہاتھوں بلوچوں کولاپتہ کرنے اورپہلے سے لاپتہ کئے گئے بلوچوں کی مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کے عمل میں پچھلے سالوں سے زیادہ تیزی لائی گئی ہے صوبائی ووفاقی حکومتیں بھی لاپتہ کئے گئے بلوچوں ،مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی اوران کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہے افسوس سے کہناپڑتاہے کہ عدالتی سطح پربھی لاپتہ افراد کی بازیابی مسخ شدہ لاشوں کی روک تھام کیلئے عملی اقدامات نہیں کئے گئے سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کے کیس کوایک سال ہونے کوہے کے کیسز کی باقاعدہ سماعت نہیں ہورہی جس کی وجہ سے حکومتی ادارے آئین وقانون اورانسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے لوگوں کولاپتہ کرنے اوران کی مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کی عمل کوجاری رکھے ہوئے ہیں فورسز کارروائیوں سے متاثرہ علاقوں میں بہت سے وفود وائس فاربلوچ مسنگ پرسنز کے عہدیداروں سے ملے انہوں نے شکایت کی کہ ہمارے پیاروں کوگھروں سے گرفتارکرنے کے بعد ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکی گئی ان آپریشنوں کے دوران متاثرہ علاقوں سے سینکڑوں کی تعدادمیں عام لوگوں کوگرفتاری کے بعد غائب کرنے اورپہلے سے لاپتہ کئے گئے بلوچوں کی مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کی شکایت بھی وی بی ایم پی کوموصول ہوئی ہے اوربہت سے لاشوں کوزیادہ مسخ ہونے کی وجہ سے وہاں کے لوگوں نے امانتاََ دفنایاہے وی بی ایم پی کولاپتہ افراد کی لواحقین سے پرشکایات بھی موصول ہوئی کہ انہیں ایف آئی آردرج کرنے عدالت میں کیس دائرکرنے اوراحتجاج کرنے سے بھی حکومتی ادارے روک رہے ہیں انہوں نے کہاکہ لواحقین نے یہ شکایت بھی کی ہے کہ لاپتہ افراد کی کیسز میں چشمدیدگواہ اپنے پولیس کودئیے گئے 161کی بیان کمیشن کے سامنے دئیے گئے حلفہ بیان اوراپنے ہاتھوں سے لکھے گئے بیانوں سے ڈرکی وجہ سے منحرف ہورہے ہیں ان حالات میں وائس فاربلوچ مسنگ پرسنز حکومت پاکستان سے پرزورمطالبہ کرتی ہے کہ آئین میں دئیے گئے شہریوں کی بنیادی حقوق جبری گمشدگیوں اورمسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی کوفوری طورپرروک دیں پہلے سے لاپتہ کئے گئے لوگوں کوفوری طورپرمنظرعام پرلائے جس پرکوئی الزام ہے توانہیں عدالتوں میں پیش کیاجائے یقیناََ لوگوں کوجبری طورپرلاپتہ کرنااوران کی مسخ شدہ لاشیں پھینکناانسانیت کیخلاف جرم ہے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0