مشرقی تیمور اور بلوچ تحریک ( ایک تقابلی جائزہ): تحریر: شبیر بلوچ

ہفتہ 1 اگست, 2015

 مشرقی تیمور میں آزادی کی تحریک تشکیلِ ریاست ،ریاست کاری اور ملک داری کی حکمت عملی کے تحت کی جانے والی جد و جہد تھی۔ مشرقی تیمور کے ہمسایہ ملک انڈو نیشیا نے جنگ عظیم دوم کے بعد ۵۴۹۱ میں آزادی کاا علان کیا اور اس کے سابقہ قابض نیدرلینڈ نے پہلے تو انڈونیشیا کی اعلان آزادی تسلیم نہیں کی لیکن عالمی دباﺅ کے تحت ۹۴۹۱ میں نیدرلینڈ نے بھی انڈونیشیا کی آزاد ی تسلیم کر لی ۔ بعداز آزادی انڈونےشےا پر مکمل طور پر Javanes نسل کا غلبہ قائم ہوا جو کہ آبادی کے لحاظ سے انڈونیشیا کا سب سے بڑا نسلی گروہ ہے۔ دوسری طرف مشرقی تیمو ر ۶۱ وےں صدی میں پرتگالی کالونی تھی ۔ ۴۷۹۱ میں پرتگال سیاسی عدم استحکام کا شکار تھا جہاں پر فوجی حکومت نے اقتدار پر قبضہ کیا اور مشرقی تیمور کو چھوڑ نے کا فیصلہ کیا ۔ مشرقی تیمور نے ۵۷۹۱ میں پرتگالی انخلاہ کے بعد اور انڈونیشیا کی جاریت کے دوران اپنی آزادی کا اعلان کیا ۔ انڈونیشیا نے مشرقی تیمور پر اس کے اعلان آزادی کے ایک سال کے دوران ہی قبضہ کیا ۔
۰۷۹۱ کے ابتدائی دورمیں مشرقی تیمور کی علاقائی سیاسی ساخت کچھ اس طرح تھی۔
اول: Frente Revolucionária de Timor-Leste Independente (FReTiLIn ) جو کہ ایک بائیںبازو کی تنظیم تھی۔ یہ تنظیم انڈونیشیا کے قبضے سے قبل معرض وجود میں آچکا تھا ۔ اس تنظیم نے پرتگالی قبضہ کے خلاف بھی کردار ادا کیا۔ پرتگال کی انخلا کے دوران یہ تنظیم مشرقی تیمور کی سب سے طاقت ور تنظیم تھی۔
دوئم :União Democrática Timorense (UDT) جو کہ ایک قدامت پسند تنظیم تھی ۔ یہ تنظیم پرتگال میں سیاسی عدم استحکام کے دوران مشرقی تیمور میں وجود میں آئی جو کہ مکمل آزادی کے خلاف تھی اور پرتگال کے زیر سائے رہنا چاہتے تھے ۔ اس تنظیم نے پرتگالی انخلا کے دوران اس وقت FReTiLIn کا ساتھ دیا جب اس تنظیم نے آزادی کی تحریک تیز کردی۔ آزاد مشرقی تیمور پر FReTiLIn کا سےاسی کنٹرول تھا جب انڈونیشیا نے پرتگال کی دست کش ہونے کے بعد مشرقی تیمور پر قبضہ کی تیاری شروع کی تو موقع پرست UDT نے قابض انڈونیشیا کا ساتھ دیا۔
سوئم : Forças Armadas da Libertação Nacional de Timor-Leste (FALINTIL) ، یہ سیاسی پارٹی FRETILINکی مسلح تنظیم تھی جو کہ UDT اور FRETILIN کے درمیان سیاسی تضادات کے دوران وجود میں لائی گئی۔
جب 1975 میں انڈونیشیا ئی فوج نے مکمل طور پر مشرقی تیمور پر قبضہ جمانا شروع کیا تو عین اسی وقت Fretlin نے UDT کو آگھیٹ کرتے ہوئے Dili سے نکال باہر کیا اور مضبوط مزاحمت شروع کیا ۔ دونوں میں سخت لڑائی ہوئی اور انڈونیشیاءنے آخر کار اپنی تمام فوجی طاقت لگاتے ہوئے FRETLIN کو Batugade اور Bilibo سے پیچھے ہٹایا اور سارے علاقے اپنے کنٹرول میں کیے اسی دوران Fretilin نے دو طرفہ حکمت عملی انڈونیشیاءکی قبضہ کے خلاف اپنائی۔ پہلا، تشدد میں اضافہ کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ علاقے کنٹرول کرنا جس میں فوجی ملیشیا Popular Militia of National Liberation تشکیل دینا اور اس میں لوگ بھرتی کرنا ۔ دوسرا ،اس میں مکمل قومی آزادی کا ا علان بھی شامل تھا کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ سیاسی خلا انڈونیشا کو ایک بہانہ دیگا کہ وہ مشرقی تیمور پر قبضہ کریں۔ بہت سے Fretilin کے لوگوں کو یقین تھا کہ آزادی کا باضابطہ اعلان پرتگیزیوں کے جانے کے بعد پیدا ہونے والی خلا کو پر کرے گا CCF کے ممبر Mari alKatiri اور Cesar Maulaka باہر کے ممالک سے واپس آئے تو پارٹی کو یہ کہا کہ 25 ممالک نے ان کی قومی آزادی کو قبول کرنے کی یقین دہانی کی ہے اسی دوران انڈونشیا کی فوج نے Atabae پر قبضہ کیا تو Fretilin کی لیڈر شپ نے کہا کہ اب مکمل آزادی کا اعلان کیا جانا چاہیے 10000 ریگولر آرمی اور 7000 ملیشیا کے ساتھ جنگ لڑی گئی اور جمہوری مشرقی تیمور کا اعلان کیا گیا انکے رہنما نے کہا کہ ۔
“If we must fight and die for our freedom, we will now do as free men and women.”
ترجمہ:(اگر ہمیں بحرحال آزادی کے لیے لڑنا اور مرنا ہے ، تو ہمیںیہ کا م اسی وقت بحیثیت آزاد مرد اور عور ت کرنا ہوگا۔)
دوسری طرف Fretilin کے مخالف پارٹیوں UDT, Apodeti, Kota اور Partido Trabalhista نے ایک الگ مشترکہ اعلان آزادی Balibo Declarationکیا اس متنازعہ قرار داد نے مشرقی تیمور کو انڈونیشیا کا حصہ قرار دیا۔ Falintil مشرقی تیمور میں ایک مسلح تنظیم تھا جنہوں نے اغیار کے خلاف مزاحمت کی مگر وہ کامیاب نہ ہوسکے اور اسی طرح مشرقی تیمو ر کو انڈونیشیاءکا ستائیسواں صوبہ بنادیا گیا ۔ اور مغرب نے بھی اس قبضہ کو قبول کیا بالکل اسی طرح بلوچستان بھی 1948 میں مشرقی تیمور کی طرح انگریز کی غلامی سے نکل کر پاکستانی قبضہ میں چلا گیا۔ اور یہاں آغا عبدالکریم خان نے مزاحمت کی جبکہ دوسری طرف کچھ ننگ ا سلاف نے پاکستان کے ساتھ سمجھوتہ کیا لیکن اکثریت کی رائے کے برخلاف پاکستان نے بلوچستان کی قلب میں محکومیت کا کانٹا چھبو دیا اور بلوچ قوم کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیامشرقی تیمور کی طرح بلوچستان میں بھی انگریز سے آزادی ملنے کے بعد پاکستان نے بلوچستان پر قبضہ جمانے کے لیے سازش شروع کی اور خان قلات پر دباﺅ بڑھایا کہ وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کریں حکومت بلوچستان کے وزیر خارجہ نے الحاق کے مسئلے کو دیوان عام میں پیش کیا اور کہا کہ باقی ماندہ ہندوستان کی ریاستوں کی نسبت بلوچستان ایک الگ ریاست ہے اور یہاں صرف ایک الگ بلوچ قوم آباد ہے اور تاریخی طور سے یہ کبھی بھی ہندوستان کا حصہ نہیں رہا غوث بخش بزنجو نے پاکستان کے ساتھ الحاق کے حوالے سے کہا کہ ہم اتنے بڑے جرم کے مجرم نہیں بن سکتے کہ بلوچ قوم کو غیر بلوچ قوم میں مدغم کر کے ذلیل کریں ( لیکن بعد میں غوث بخش بزنجو کی پاکستان کے ساتھ سیاست زیر بحث نہیں ) اسی طرح مولانا محمد عمر نے الحاق کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے مسلمان کے لیے مناسب نہیں کہ اس کے گھر میں گھس کر اس پر دبا¶ بڑھائے کہ مجھے چودھری مانو ورنہ گھر سے نکل جاﺅ ۔ اس نے کہا کہ اگر چہ ہم کمزور ہیں لیکن اسی طرح ہم بھی ایک کمزور بلی کی طرح ختم ہوں گے مٹ جائیں گے لیکن دشمن کا چہرہ ضرور نوچ لیں گے مرزا خدابخش ملک فیض محمد سمیت بہت سے لوگوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کی مخالفت کی۔ لیکن بعد میں پاکستان نے مکاری اور دھوکہ دہی سے 17 مارچ 1948 کی رات خاران بیلہ اور مکران کے پاکستان کے ساتھ قلات سے ہٹ کر جداگانہ الحاق کروائے حالانکہ خاران بیلہ اور مکران قلات کے علاقے تھے اور مکران میں خان قلات کے بھائی عبدالکریم خان گورنر تھے اسی طرح چالبازی اور مکاری سے بلوچستان پر پاکستان نے قبضہ جمایا اور بلوچ قوم کو غلامی کی اندھیروں میں دھکیل دیا۔
Fretlin اور UDT کے درمیان عوام کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے ریس لگ چکا تھا UDT کے لوگوں نے اپنی ذاتی اثرو رسوخ دولت استعمال کی تاکہ روایتی سیاست کو قا ئم کریں اور روایتی انداز میں جدوجہد کو آگے لے جانے کی کوشش کی اور انھیں حمایت صرف انکے خدم رخشم اور نوکر چاکر سے ملی تھی جبکہ Fretilin کی قیادت کا زیادہ تر تعلق شہری تعلیم یافتہ لوگوں سے تھا اور شہری پڑھے لکھے اور تعلیم یافتہ لوگ زیادہ تر Fretilin میں تھے Fretilin کی لیڈر شپ زیادہ تر صاحب شعور ہوشمند اور واقف کار کے ساتھ ساتھ مسئلے مسائل کو حل کرنے میں بھی ماہر تھے ۔ East Timorese unfinished struggle inside the timorese resistance میں لکھا ہے کہFretilin کے طلبہ تنظیم Unetim اور خواتین ونگ OPMT نے تحریک آزادی میں ایک اہم کردار ادا کیا اسی لیے ان کے زیادہ تر لوگوں کو انڈونیشیاءکی فوج گرفتا رکر کے جیلوں میں تشدد کے ساتھ ساتھ جنسی زیادتی کا شکار بھی بنا تا تھا۔ 1945 میں نیدرلینڈ کے خلاف آزادی کے رہنما اور انڈونیشیاءکے پہلے صدر سکارنوکی پانچ ستون اور پلر والی پالیسی انڈونیشا ئی ریاست آگے لے جارہا تھا جس میں ایک خدا پر یقین ، مہذب وانسانیت ،متحدہ انڈونیشیا ،جمہوریت جسکی رہنمائی عقل اور دلیل کریں، تمام لوگوں کے لیے یکساں انصاف پر مبنی نظام، وغیرہ جبکہ دوسری جانب عملی طور پر مشرقی تیمور میں اسکے برخلاف عمل کیا جاتا رہا ۔ Fretilin نے اپنی Maubere کلچر کو بدنام کروانے والی قبضہ گیریت کے پروپیگنڈے کو بھی خوب کاونٹر کیا اور اپنی قوم اور خود پر بھروسہ و انحصار کرنے والی سماج کی بنیاد ڈالی Maubere لفظ کی لغوی معنی My brother میرا بھائی کے ہیں جبکہ پرتگیز نے اس لفظ کو بدنام کیا اور اسے غلط رنگ میں رنگا کر کم تر کر کے غریب اور کمزور طبقہ کے طور پر مشہور کیا۔ قبضہ کے خلاف Flantil اور Fretlin نے خودد کو لچک رکھنے والے تنظیم کے طور پر ابھارا اور Falintil نے مسلح جدوجہد کیا اور Mauk Maruak اس کا لیڈر بنا اور وہ صرف ا ور صرف Fretlin کو جواب دہ تھا۔ بلوچ قومی تحریک مشرقی تیمور کی طرح مختلف نشےب و فراز سے گزرا خان قلات کے چھوٹے بھائی جو مکران کے گورنر تھے جس کو بائی پاس کرتے ہوئے قابض پاکستان نے میر بائی خان گچکی کو مکران کا نمائندہ منتخب کرتے ہوئے مکران کا پاکستان کے ساتھ الحاق کروایا۔ آغا عبدالکریم ایک بلوچ قوم پرست تھا اس نے اسی دغاباز اور جھانسے کی بنیاد پر الحاق کے خلاف مزاحمت شروع کی۔ پاکستان اور نواب بائی خان گچکی کی اس نازیبا حرکت کو بلوچ قوم نے ناپسندیدہ خیال کرتے ہوئے اسے اپنی قومی آزادی پر سیاہ داغ قرار دیا ۔ سرلٹ کے مقام پر بلوچوں کو آغا عبدالکریم نے جمع کرتے ہوئے مسلح جدوجہد کا اعلان کیا اور پاکستانی قبضہ گیریت کے خلاف جدوجہد کا سلسلہ آغا عبدالکریم خان کی مسلح جدوجہد سے شروع ہوا لیکن وہ جہد کی تسلسل کو قائم نہ رکھ سکا اس کے بعد 1958 میں نواب نوروز خان بعد میں 1962 اور 1973 کی جدوجہد ہوا جو ریاستی بربریت اور ظلم اور نا انصافی کے خلاف جہد تھی ۔ہنری کسنجر نے انڈونیشاءکو مکمل گرین سگنل دیا کہ وہ مشرقی تیمور پر قبضہ کرتے ہوئے پرتگال کی نقل و حمل کو وہاں کم کریں اسی طرح بلوچستان پر قبضہ کے وقت بھی برطانیہ نے پاکستان کو فری ہینڈ دیا ہوا تھا۔ مشرقی تیمور کی تحریک کی ایک سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ ان کے قوم پرستوں نے باقی ماندہ کامیاب تحریکوں سے سبق سیکھتے ہوئے اپنی تنظیم اور حکمت عملی کو بروقت ترتیب دیا۔ مشرقی تیمور کے لیے پرتگیز کے زیر کنٹرول قبضہ افریقی علاقے رول ماڈل تھے۔ ایک وقت آیا کہ قابض نے مشرقی تیمور پر فضائی اور زمینی حملہ تیز کیا جبکہ Falintil کی گوریلا جنگجوں کی لاپرواہی اور عدم توجہی نے انھیں بڑے نقصان سے دوچار کیا اور انکے لوگوں کی مورال کمزور ہوا تو Bacau میں گوریلوں نے قابض کی بڑی ہتھیار قبضہ کرنے کی جھوٹی خبر پھیلائی تاکہ انکے لوگوں کی مورال کو بلند کیا جاسکے لیکن اس دوران بھی خاص تبدیلی رونمانہیں ہوا گوریلوں کے اندر ہم آہنگی ، مطابقت کی کمی اور جنگجوں کی اوپر کی سطح پر مقابلہ بازی اور رقابت کی وجہ اور مضبوط سنٹرل لیڈر کی عدم موجودگی نے انکے لیے مسئلے پیدا کیئے۔ Falintil میں Chain of command نہ ہونے کی وجہ سے انکی مشکلات مصائب بڑھتے گئے اور اوپر سے قابض بھی اپنی درندگی بڑھاتا رہا 20 جون 1976 میں مسلح جہدکار لیڈر شپ نے Soibada کانفرنس Mantatuto ڈسٹرکٹ میں بلائی Falantil صدر Francisco Xavier de admiral نے کانفرنس کی قیادت کی لیکن کانفرنس نظریاتی جھکاﺅ اور میلان کی نظر ہوا اور کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نہ دے سکا،پارٹی صدر نے نظریہ اور خام خیالی کو بے ثمر کیفیت اور بے اثر راہ قرار دیا اور کہا کہ یہ چیزیں ہماری جہد کو نقصان سے دوچار کریںگے۔ ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنہوں نے کہا کہ upper class امیر لوگ اپنے جائیداد ختم کرکے classless سماج کی تعمیرکریں جبکہ Fretilin میں لوگوں نے اسے class suicide کا نام دیا لیکن آخر میں Fretillin نے تمام نظریاتی الجھنوں سے خود کو نکالتے ہوئے Maubere جہد آزادی کو اپنا ایجنڈا بنایا Fretilin نے ایک پالیسی اپنائی ہوئی تھی کہ تمام لوگ جو گوریلوں کے رشتہ دار اور حمایتی تھے انھیں اپنے ساتھ جنگل میں لیکر تحفظ فراہم کرتے تھے اور انکی معاشی ضروریات کو بھی تنظیم پورا کرتی تھی ۔ اس تنظیم کی پالیسی اور باقی نظریاتی الجھنوں میں پھنسنے کی وجہ سے Fretilin کے بانی رہنما Francisco Xavier de Amaral کو شدید اختلاف تھا حالانکہ وہ خود Turiscai کی بااثر خاندان سے تعلق رکھتا تھا اور اپنے علاقے اور لوگوں کو پوری تنظیم کے لیے استعمال کرتا تھا لیکن اس نے تنظیم کی غلط حکمت عملی پر لب کشائی کی
اس نے Soibada فیصلہ کو تنظیم کے لیے مناسب نہیں سمجھا بلکہ کہا کہ پوری آبادی کو معاشی اور ملٹری حوالے سے تحفظ دینا ایک گوریلا تنظیم کے لیے ناممکن ہے اس نے کہا کہ عام لوگ جا کر سرینڈر کریں اور اپنی معمول کی زندگی کی طرف جائیں اس طرح کی رائے دینے کے بعد تنظیم میں موجود لوگوں نے تلخ زبان میں اسے تنقید کا نشانہ بنایا اسے Imperialist lackey کہا یعنی اسے سامراج کا خدمت گزار قرار دیا اور کہا کہ وہ تنظیم کے اندر انتشار پھیلا رہا ہے اور قومی آزادی کی جہد کو سبوتاژ کر رہا ہے لیکن Amaral وہ چنگاری اور انگار تھا جس نے مشرقی تیمور کی مذمت کو شعلہ زن فروزاں اور روشن کیا maral Aکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے تنظیم میں نئی سوچ اور فکر کو ابھارا اس کی Soibada پر اعتراض نے نئی صف بندی کے لیے راستہ ہموار کیا۔ Soibada قرارداد کی مخالفت پر بہت سے گوریلا کمانڈروں کو نکالا گیا جس میں Jose de silva اور Sebastiao Sarmento جیسے تجربہ کار لوگوں کو انکے عہدوں سے ہٹایا گیا لیکن بعد میں Soibada پالیسی کو ختم کیا گیا پھر 1977 میں Laline کانفرنس منعقد ہوا جس میں کہا گیا کہ جنگ دیر تک چلے گی اور اسی کے مطابق پالیسی بنانی ہوگی ۔ نظریہ اور انقلاب پر یہاں بھی مزید بحث ہوا لیکن کوئی متفقہ فیصلہ نہ ہوسکا۔ لیکن عوام اور لوگوں کا رجحان نظریاتی حوالے سے Marxist communist لائین پررہا ان لوگوں نے نظریہ کی زیادہ تر تبلیغ کی ۔ کانفرنس میں ایک چیز واضع ہوا کہ منتشر اور کنٹرول سے باہر تمام لوگ Falintil کی لیڈر شپ کو جواب دہ ہوئے ا ور بعد میں مانا گیا کہ Politics control the gun اور مسلح جدوجہد کو سیاسی لیڈر شپ کنٹرول کر سکتا ہے اور سیاست کے حوالے اسٹوڈنٹس کو منظم کیا گیا۔ Timorese student movement نے جدوجہد میں لوگوں کو آزادی کی خاطر منظم کرنا شروع کیا اور دیگر کئی خفیہ تنظیمیں بھی بنائی گئیںجو آزادی کے لیے آگاہی مہم چلا سکتے تھے اور اسی دوران ژاناناگوزماو سیاسی افق پر نمودار ہوا اس نے طلبا اور عام لوگوں کو اپنی کرشماتی لیڈر شپ کی وجہ سے متاثر کیا اور جدوجہد میں ایک نئی روح پھونک دی۔ 1980 میں Fretilin نے انڈونیشیا کی ظلم و جبر اور بربریت کے خلاف اپنی مسلح کاروائیاں بھی تیز کردی ،ریڈیو اسٹیشن جیل اور فوجی چھا¶نیاںانکے حملوں کے زد میں آئے اور ان پر شدید ترین حملے ہوئے اسی دوران بہت سے گوریلوں نے قابض کے ہاں سرنڈر بھی کیا جس میں مشہور
Lucasdacosta اور Nicolov Lobato سمیت بہت سے لوگ شامل تھے ۔انڈونیشیا نے لوگوں پر گوریلوں کومدد کرنے
کی پاداش میں فصل اور زراعت کرنے پر پابندی عائد کی ان کا معاشی قتل عام شروع کیا ،ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے لیکن لوگ قومی جہد کی حمایت کرتے رہے ۔ بلوچ قومی تحریک مشرقی تیمور سے آغا عبدالکریم کی مسلح جدوجہد کے بعد تھوڑا مختلف رہا اور وقفہ وقفہ سے مسلح جہد اور قومی سوچ کے حوالے کام بھی ہوتا رہا اور ساتھ ہی ساتھ کچھ لوگ پاکستانی سیاست بھی کرتے رہے کچھ مسلح جدوجہد مدافعتی اور ردعمل کے طور پر ہوئے جیسے کہ 1958 اور 1973 کی جہد تھی جبکہ کچھ واضح لائحہ عمل وژن حکمت عملی اور صحیح سمت نہ ہونے کی وجہ سے خاطر خواہ نتائج دینے میں ناکام ثابت ہوئے ماضی سے لے کر آج تک کچھ لوگوں کو انکی قومی غیرت خاندانی اور قبائلی حمیت محکوم بن کر قابض کی چوکھٹ کی سجدہ ریزی کرنے نہیں دیتی تھی جبکہ بہت سے لوگوں نے قبائل در قبائل خاندان در خاندان اسلام آباد اور لاہورو پنڈی کو اپنا قبلہ بنایا ہوا ہے۔ ماضی کی جدوجہد قومی حوالے کم قبائلی اور علاقائی حوالے سے زیادہ ہوئے تھے 1948 کی جہد صرف اور صرف قلات تک محدود تھا 1973 کی جنگ مری علاقے جہالاوان تک محدود تھا جو بعد میں تباین اور تغابن کی نذر ہوئے وہ شور و شیون قبضہ گیریت کی قباحت کو بلوچ قوم میں کچھ وقت کے لیے اجاگر تو کر سکے مگر قومی آزادی کے لئے بدبخت اور بدنصیب ثابت ہوئے اسی جہد کی عاقبت اور نتائج پھر پاکستانی سیاست کی شکل میں ہموار ہوئے ماضی کی تمام جہد اور قومی آزادی کو نقش مراد اور مقصد تک پہنچائے بغیر ختم ہوئے قوم کو نقش دیوار اور سکتے کی عالم میں ڈالتے ہوئے بے یارو مددگار قابض کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیاِحقائق کا بغور جائزہ لینے سے یہ بھید بھی کھل جاتا ہے کہ بہت ساری ان جنگوںکا شاید اس طرح بلوچ قومی تحریک آزادی سے کوئی اس طرح کا واسطہ بھی نہیں تھا، گو کہ پاکستانی قبضہ گیریت کے خلاف نفرت کو ہر کوئی اس چنگاری کو اپنے مفادات کے لیئے استعمال کرتے ہوئے آتے رہے ہیں، مثلا آج کے پارلیمانی لوگ بھی گاہے گاہے اس طرح کی اخباری بیانات دیتے نظر آتے ہیں کہ اگر حقوق نہ ملے تو پہاڑوں کا رخ کریں گے وغیرہ وغیرہ،اسی ضمن میں اگر ہم 1958کی نواب نوروز خان کی مزاحمت کو دیکھیں تو اس وقت کا ون یونٹ ایک ایسا محرک تھا جو کہ اس جنگ کا سبب بنا اور یہ خالصتا ایک ریاست کی اندرونی انتظامی امور کا مسئلہ تھا اگر بلوچ ریاست کی بحالی مطمع نظر ہوتی تو شاید یہ جنگ آغا عبدالکریم کے بعد بھی نہ تھمتی بلکہ جاری رہتی ہاں نواب نوروز خان کے جنگ نے اس حد تک ضرور ہماری تحریک کو فائدہ پہنچایا کہ ہم آج اپنی قومی نفرت کو ان تمام جنگوں کی صورت میں دنیا کہ سامنے رکھ سکتے ہیں کہ کس طرح ہم روز اول سے پاکستانی قبضہ گیریت سے لڑتے ہوئے آرہے ہیں اور کس طرح ہمارے بزرگوں کو دھوکہ سے بہ واسطہ قرآن شریف بلا کرانکو سولی چڑھایا گیا ، مگر تحریک آزادی کے حوالے سے ضرور یہ جنگ یہ مبہم پہلو رکھتی ہے، اسی طر ح 1973 کا جنگ جہاں مری علاقوں بعد ازاں مینگل علاقوں میں اسکا پھیلاو تو ضرور ہو ا اور اس میں بہت سارے ایسے لوگ بھی شامل تھے جو کہ ان تمام قبائل سے تعلق نہ رکھتے تھے مگر چونکہ اس وقت بھی بنیادی محرک ذوالفقار بھٹو کی ہاتھوں نیپ کہ مخلوط صوبائی حکومت کا خاتمہ تھا سو اس طرح قومی جنگ آزادی کے لیئے لڑی جانے والی معرکے سے زیادہ ان جنگوں میں بلوچی روایتی بدلہ لینے کا میلان زیادہ نمایا ں تھے ہاں البتہ اسکے بعد بہت سارے معاملات میں قومی تحریک کے حوالے سے حکمت عملیوں اور تیاریوں کو لیکر کے بہت ساری تبدیلیاں رونما ہوئیں جوکہ آگے چل کر قومی تحریک آزادی کی جنگ میں نہ صرف بنیاد بلکہ براہ راست محرک بنے۔ مشرقی تیمور میں بھی کوسوو ایریٹریا اور مختلف تحریکوں کی ابتدائی زمانے کی طرح اپنے سماج اور دشمن کا ادراک تھوڑا مشکل رہا یہ کوتاہی اور کمی مطلوبہ مقدار تک پہنچنے میں ناکامی، خرخراہٹ ، Unrealisitc ،خام خیالی، بہت زیادہ نظریاتی لائین میں جھکاﺅ نے انھیں اپنے مقامی اور لوکل زمینی سچائی سے متفرق اور پراگندہ کیا جبکہ دوسری طرف ہر ایک کی لیڈرشپ کی دوڑ میں شامل ہونے کی نفسیات نے انکی تحریک میں پراگندگی اور خرابی پیدا کی جبکہ دوسری طرف انڈونیشیا انکی اس کمزوری کا خوب فائدہ اٹھاتا رہا ۔
اس مشکل دور میں ژانانا نے ذمہ داریاں سنبھال لیں ، ژاناناگوژماوُ ، FRETILIN کے قیام کے دوران ہی پارٹی کے ممبر بن چکے تھے ژانانا پارٹی کے سنٹرل کمیٹی کے ممبر، انفارمیشن ڈیمارٹمنٹ کے ڈپٹی ہیڈ بھی رہے بعد میں وہ پارٹی کی مسلح تنظیم میں انڈونیشیا کے خلاف ابتدائی مزاحمت میں کردار ادا کر تے رہے۔ آسٹریلوی تاریخ دان Paul Robert Bartrop کہتے ہیں کہ ۸۷۹۱ تک FRETILIN کی زیادہ تر اعلی قیادت کو ختم کردیا گیا تھا جن میں آزاد مشرقی تیمور کا وزیراعظم Nicolua Lobato بھی شامل تھا۔ تحریک آزادی میں نئے سرے سے روح پھو نکنے کے لیے ژانانا گوژماو نے مجبوراََ قومی مزاحمت کی تمام تر ذمہ داریاں اپنے کندھوں پر لے لیں۔ تحریک میں نیا موڑ اس وقت آیا جب ژانانا نے اپنے ہم خیال دوستوں کے ساتھ مل کر امبریلا آرگنائزیشن National Council of Maubere Resistance تشکیل دی۔ جس میں FRETILIN, FALINTIL, UDT سمیت چرچ کے ارکان بھی شامل تھے، اس سیاسی آرگنائزیشن CNRMکے سربراہ ژانانا بنے اور بیک وقت مزاحمتی تنظیم کے کمانڈر انچیف بھی تھے۔ کئی سالوں کے بعد مسلح جدوجہدکی از سر نو ترتیب اور صف بندی کا اہتمام کرنے کے ساتھ ساتھ دوبارہ فوکس کرنے لگا پہلے انہیں پرانے تنظیمی ڈھانچے اور حکمت عملی کی ناکامی کا تجربہ ہوا اور اس دوران ژانانا کی رہنمائی میں مشرقی تیمور کی تحریک ایسے ابھر ا جیسے کہ کوئی عنقائ( Phoenix) اپنے ہی راکھ سے اٹھا ہو۔ اس نے تحریک کو صحیح راستے اور ٹریک پر ڈالتے ہوئے نصرت اور فتح سے ہمکنار کیا۔ Third world colonialism and stratgies of liberation کتاب میں Weldemichael کہتا ہے کہ
A relatively new generation of leaders emerged to resume the struggle. With them, creative and pragmatic thinking prevailed over ideological dogma
The new leaderships got their movements back in touch with their realities, reenergizing the popular support each had initially enjoyed at the grassroots level
ترجمہ:( تحریک میں دوبارہ روح ڈالنے کو قدرے ترقی پسند اور نئے لیڈر شپ کی کھیپ ابھر کر سامنے آئی ،جنہوں نے اپنے تخلیقی انداز فکر سے کھٹرنظریاتی اعتقادات کی بجائے اپنے زمینی حقائق سے جڑکر تحریک کوایسی جلا بخشی اور لوگوں کو پھر سے ایک نئی ولولہ عطا کرتے ہوئے تحریک کو انکی جڑوں تک پہچایاجو اس سے پہلے بھی موجود تھی)۔
وہ کتاب میں مزید کہتا ہے کہ
East Timorese and Eriterian movement two transformative and enduring figures emerged and while controversial and condemned in some circle they personfied all or significant aspect of thier respective organisation Isaias Afwerki and key
Ralxananna Gusmao entered the national stage at critical
Jumctires of the East Timorese and Eriterean
and ressitance in southereas asia nationalist struggle genocide کتاب میں Ben Kievman لکھتا ہے کہ جب شنانا گوزماو کو ۲۹۹۱ میں گرفتار کیا گیا تو بہت سے لوگوں نے زور دیا کہ ایک Troika بنایا جائے جو مسلح تنظیموں ،ڈپلومیٹ اور خفیہ سیاسی تنظیموں پر مشتمل ہو لیکن اس خیال کی شنانا گوزماو اور کچھ لوگوں نے مخالفت کی شناناگوزماو Falantil کے کمانڈر انچےف ر ہے اور ساتھ ہی ساتھ CNRM کے چیئر مین بھی رہے حالانکہ اسے بیس سال کی جیل کی سزا بھی ہوچکی تھی روز روز کی معمولات کو تین سے چار آدمی کو چلانے کے لیے مامور کیا گیا۔ Taur MatanRuakاور Jose Ramos Horta جو مسلح کاروائی خفیہ سیاسی تنظیم اور سفارتی فرنٹ کو سنبھالے ہوئے تھے Cell/ FC جو Keri laran مز ید تین Adjuntios کے ساتھ چلا رہا تھا Adjuntos کو خفیہ طور پر ملک میں لوگوں کو منظم کرنے کا ٹاسک دیا جاتا تھا Cell/ FC نے علاقائی Directive آرگن بنائے ہوئے تھے جو تنظیم کو ڈسٹرکٹ میں منظم کر رہا تھا وہاں تین کو رنگ Odir تھے جو نیچے کی کام کی نگرانی کرتے تھے۔ 1998 میں جب CNRM کی جگہ CNRT بنائی گئی تو اسی دوران Cell/ FC کی جگہ بھی ٰ Internal political front یعنی FPI بنائی گئی جسکا لیڈر Konis Santana کو بنایاگیا۔پارٹی اوپر الگ اور نیچے الگ طریقہ سے کام کرتا رہا۔ مشرقی تیمور بلوچستان کے مقابلے میں جغرافیہ حوالے سے مکمل طور پر قابض کی کنٹرول میں تھا جیسے قابض نے مکمل طور پر محاصرہ کیا ہوا تھا جسکا رقبہ 15000 سکوائر میل تھا اور قابض کی نیول برتری اور بالادستی نے انکے علاقے کو باقی دنیا سے الگ تلگ کرنے کے لیے ناکہ بندی کیا ہوا تھا گوریلوں کی ملک اور ملک سے باہر محفوظ پناہ گاہیں زیادہ تر موثر نہیں تھیں اور اس صورتحال میں شروع کے دن انکی غلط حکمت عملی اور بقول انکے لیڈر Francisco Xavier Lopezdaruz ہمارے 50 ہزار کے لوگ مارے گئے اور یہ سب لوگ ہماری غلط حکمت عملی Intra fighting کی وجہ سے ہوا تھا پھر انڈونیشیا نے کوشش کی کہ جلدی سے جلدی جنگ کو Timorese کریں جس میں اس نے زیادہ تر مشرقی تیمور کے لوگوں کو اپنی فوج اور انٹیلی جنس میں لینے کی کوشش بھی کی 1977 سے لے کر 1978 میں دو تیموری بٹالین بنائے گئے جس میں زیادہ تر مشرقی تیمور کے آفیسر تھے اور مشرقی تیمور کے لوگوں پر مشتمل Pertahamnsipil اور Hansip/Wanra اور انکے تربیت یافتہ یونٹ Ratih بنائے اور ساتھ ہی ساتھ Operational support personnel (TBO) بنائے گئے TBO زیادہ تر غیر مسلح مشرقی تیمور کے نوعمر بچے تھے انکی عمر 12 سال سے زیادہ نہیں تھی انہوں نے کوشش کی کہ Fretlin کے حمایتی لوگوں کو بھی مجبور کر کے جاسوسی نیٹ ورک میں شامل کر کے ان سے کام لیں ۔ انڈونیشیا نے تمام علاقے کو ایک جیل کی طرح تبدیل کیا اس نے سرنڈر کرنے والے کئی کمانڈروں کو بھی مار ڈالا اور انسانی حقوق کی بہت زیادہ پامالیاں کیں 1982 میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ 1981 یا کہ 1982 میں چار ہزار لوگ اغوا کر کے Atauro جیل میں قید کیے گئے جبکہ جکارتہ اس سے مسلسل انکار کرتا رہا لیکن اس کے اپنے ایک کمانڈر نے بعد میں انکشاف کیا کہ وہ Falintil گوریلا اور انکے حمایتیوں کو Atauro جیل میں تشدد کا نشانہ بناتے رہے ان حالات میں Falantil کو مکمل طور پر کمزور کیا گیا انکی زیادہ تر لیڈر شپ کو ماردیا گیا یا کہ گرفتار کیا گیا جو کچھ بچے تھے وہ اپنے دوسرے ساتھیوں سے بھی الگ تلگ تھے ایک وقت میں وہ اپنے بچے ہوئے گوریلوں کی تلاش میں لگے رہے تمام قیدی Titilari میں دوبارہ مل گئے اور انہوں نے پھر سے جدوجہد کو جاری رکھنے کا عزم بھی کیا پھر شنانا گوزماو نے 1981 میں ایک میٹنگ بلائی جس میں ملٹری کمانڈرز اور Middle ranking سیاسی کیڈرز نے حصہ لیا کہ کس طرح جدوجہد کو از سر نو منظم اور دوبارہ شروع کریں اسے پہلا نیشنل کانفرنس CRRN کا نام دیا گیا جس میں گیارہ سیاسی کیڈرز اور ملٹری کمانڈرز کو اسکا مرکزی ممبر بنایا گیا اس میں پورے ملک کو تین سیکٹرز میں تقیسم کیا گیا اور Falantil کو بھی restructure کیا گیا اور Falintil کے تمام کمانڈر اپنی کاروائی اور عمل کے لیے شنانا گوزماو کو جوابدہ ہوگئے اور دونوں کو بعد میں national political commissar کا نام دیا گیا اور اس میں نئی لیڈر شپ زیادہ تر حققیت پسند او ر نظریاتی تنگ نظری سے پاک ہوکر ابھر کر سامنے آ نا شروع ہوگئے اور 1980 میں مارکسسٹ اور لیننسٹ نظریہ سے خود کو آزاد کیا گیا اور نئی لیڈر شپ نے کہا کہ یہ نظریہ اس وقت اس لئے لیا گیا تھا کہ اپنی قومی آزادی کے لیے کمیونسٹ ممالک سے مدد لے سکیں لیکن اب کوئی بھی کمیونسٹ ملک اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ ہماری مدد کر سکے اور اس وقت بین الاقوامی حوالے سے آزادی کے لیے امریکہ اور مغرب کے بغیر کوئی بھی ملک انسانی ہمدردی اور انکے مفادات کے حوالے آزادی کی تحریکوں کی مدد نہیں کر سکتا ہے۔ ژانانا کے لئے اس کے بعد سب سے بڑا کام قومی آزادی کو حاصل کرنا تھا Weldemichael نے لکھا کہ
This period reinforced Gusamo on the job leadership traning which would later enable him to
shepherd the resistance to independence.
ترجمہ :(اس تمام مراحل نے گوزماو کی لیڈرشپ اہلیت کو مزید مضبوط کیا اور انہی تجربات کو بنیاد بنا کر انہوں نے مزاحمت کو قومی آزادی سے ہمکنار کرایا)۔
اس ٹاسک کو پورا کرنے کے لیے مشکلات تھے جنگ کی حالات کا تقاضہ اور ضرورت ایک کمانڈ کا تھا۔ جس میں زیادہ تر CCF کے ممبرز غیر سیاسی اور نا آزمودہ کار اور نا تجربہ کار تھے اور شنانا انکا لیڈر بنا اور انکی تربیت کی اس نے اپنی سیاسی ہنر وفن کو ترقی دی اور ساتھ ہی ساتھ اپنے ممبران کی ہنر کو بڑھایا اور اس نے اپنی تنظیم میں سختی سے بے حساب بھڑک بازی اور بیان بازی( Rhetoric)
کی سخت حوصلہ شکنی کی اور کہا بھڑک باز جہدکار دنیا کی تمام جدوجہد میں زیادہ تر باتیں کرنے والے بھڑ ک باز رہے ہیں اور ہمیں اس سے خود کو دور کرنا ہے اور اس نے عام سا تیموری قوم کے فردکی طرح سادہ الفاظ میں لوگوں کو اپنی بات سمجھائی اور کہا کہ اپنی قومی آزادی کس طرح حاصل کرنا ہے ۔ اسے مارکسسٹ Terminalogical tangle بھی زیادہ پسند نہیں تھے کسی نے اسکے بارے میں لکھا ہے کہ
He reflected that he was in fact practicing the art of becoming less routinely less dogmatic and less in the revoulitionary style.
ترجمہ :(اس کے(ژانانا)حوالے یہ تاثر قائم تھا کہ وہ حقیقاََ معمول سے ہٹ کر بہت کم اعتقادی اور انقلابی کا تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں)
قابض کی ظلم جبر پرمشرقی تیمور کے مذہبی حلقے نے بھی تحریک کو سپورٹ کیا انکے چرچ کے مغربی پادریوں نے انکی مدد کی اور انکے مسلح جدوجہد کی کھلم کھلا حمایت کی ان پاردریوں کی حمایت کو دیکھتے ہوئے ژانانا گوژماو¾ نے چرچ کی حمایت کو اپنی تحریک کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے انکے ساتھ طویل المعیاد تعلقات بڑھانا چاہا اس نے عارضی Bishop سے بھی ملنے کی درخواست کی تاکہ اپنی تعلقات کو انکے ساتھ مضبوط بنائیںپھر چرچ نے انہیں کہا کہ انکی نظریاتی جھکاﺅ والی سیاست ان کے لیے مشکلات پیدا کرسکتا ہے اسی لیے آپ لوگ اپنی جہد کو مکمل طور پر Inclusive کریں یعنی تمام پارٹیوں اور لوگوں پر مشتمل کریں پھر پادریوں اور چرچ نے انکی کھل کر مدد کی انکے رہنما نے کہا کہ
ایک تنظیم وسیلہ اور سواری ہے جہاں تمام جہد کرنے والے سوار ہوکر قومی جہد کو منزل تک لے جا سکتے ہیں اس نے مزید کہا کہ
Those who had collaboreted with the indonesians appeared on
outrageous suggestion to the resistance leader who is reported to have thought of if as marrying a frog and a corcodille
ترجمہ:(انڈونیشی ریاست کے ساتھ مل جانے والوں کو اس لیڈر نے ایسے تعبیر کیا جیسے کہ وہ کسی مینڈک یا مگرمچھ سے بیاہ کرچکے ہوں)
ژانانا گوژماﺅ نے تمام منتشر قوتوں کو یکجا کرنے کی کوشش کی اور اس نے 1983 کو قومی یکجہتی کا سال قرار دیا ۔ اسی طرح اگر ہم اپنی گزشتہ 15سالہ جد و جہد کا تنقیدی جائزہ لیں تو ہم پر یہ امر واضح ہو جائے گا کہ ہم نے اپنے لوگوں کو بھڑک بازیوں کے علاوہ اور کچھ نہیں دیا زمینی حقائق اور مطلوبہ جنگی و سیاسی معلومات جو کہ اپنے ہی حالات سے تعلق رکھتے ہیں، کی بجائے ہم مارکسسٹ اور لیننسسٹ سے لیکر بایاں بازو کے لیٹریچر کا مطالعہ اپنابنیادی فرض سمجھتے تھے، کیونکہ ہمیں یہی معلوم تھا ان تمام نے خون آشام جد و جہد کے بعد اپنی تحریک کو کامیاب کیا ہے لہذا انکی انداز جہد کے مطالعے سے ہم اپنی راہیں ڈھونڈنے لگے جو حقیقت کے برعکس تھے، دنیا کس طرح بدل چکی تھی اور کس طرح بائی پولر سے یونی پولر دنیا نے طاقت کی توازن کو بگاڑا مگر ہماری بھڑک بازیوں نے ہمیں اس حقیقت سے آشنا نہ ہونے دیا ، بایاں بازو کا لیٹریچر بلوچ قومی تحریک کو لیکر اسکی زمینی حقائق اور دشمن کی اپنی قبضہ گیریت کے نت نئے طریقوں سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا یا پھر یوں کہو کہ انہی محاوراتی بھڑک بازیوں کی ہماری طلبہ تنظیمیں بے وقت کی راگنیاں گاتی رہیں اور نتایج آج صفر ہے ، وہ شاید آج کچھ اصطلاحات کو لے کر بائیں بازو کی طرز سیاست پر کچھ لب کشائی کرسکیں مگر حالیہ سیاست جملہ ضروریات کو لے کر بائیں بازو کی انداز جہد کا تقابلی جائزہ ان کی برداشت سے اسلیئے باہر ہوجاتی ہے کہ وہ اپنے بنائے ہوئے مخصوص دائرے سے باہر قدم رکھنے کی اہل نہیں ہیں، یوں سمجھو کہ انکی پروگرامنگ ایسے کی گئی ہے کہ وہ ایک جامد و ساکت وجود بن جائیں جبکہ قومی آزادی کی تعلیمات اپنے گرد و پیش کی تجزیہ اور ہمہ وقت متحرک رہنے کا نام ہے
جدوجہد کے دوران پھر ژا نانا نے ایک وقت سیز فائیر کیا تو وہاں دشمن نے Kararas نسل کشی کی تو لوگوں نے ژانانا پر سخت تنقید کیا کہ انکی غلطی کی وجہ سے یہ ہوا ہے تو اس کے بعد ژانانا کو احساس ہوا کہ یہ غلطی اس سے سرزد ہوئی ہے اور اس نے کہا کہ اگر وہ زیادہ لوگوں سے صلاح مشورہ کرتے تو اس طرح کی غلطی اس سے سر زد نہ ہوتی بعد میں ژانانا نے چند لوگوں کے بجائے زیادہ تر پارٹی کے وفادار و مخلص اور عام عوام سے صلاح مشورہ کرنا شروع کیا۔ عام لوگوں سے صلاح و مشورہ نے اسے بہت زیادہ معلومات دی اور اسکی سیاسی سوچ
کو بھی بہتر کیا اور عام لوگوں کو بھی ژانانا اور اسکی جہد کے ساتھ بہتر انداز میں منسلک کیا پھر 1984 میں Fretlin نے فیصلہ کیا کہ وہ مارکسسٹ اور لینسسٹ پارٹی کو ختم کرے گا اور پارٹی کی نظریاتی حوالے سخت گیر پالیسی کو بھی ختم کرنا ہوگا اور دشمن کے ساتھ اندرونی اور بیرونی حوالے سے حقیقت پسندی کے تحت دباﺅ برقرار رکھنا ہوگا جبکہ Falantil کے چیف آف سٹاف Kilik Wae Gae اور اس کے ریڈ بریگیڈئیر کے کمانڈر Paulino Gama اوردوسرے لوگوں نے اختلاف رکھا اور انہوں نے ژانانا گوژماو پر الزام لگایا کہ اس نے جہد سے غداری کی ہے کہ انکے آباواجداد کی نظریہ اور فکر کو چھوڑ کر تحریک کو کسی اور ڈگر پر چلارہا ہے جبکہ ژانانا اور دیگر حمایتیوں نے انکی پروا نہ کی اور اپنی پالیسی کو جاری رکھا پھر ژانانا گوژماﺅ نے ان کمانڈروں کو فارغ کیا اور کہا کہ
In the militrary there is no democracy I gave new construction on my own initiative because in the war the commandar gives the orders .
ترجمہ:(عسکری اداروں میں کوئی جمہوریت نہیں ہوتی یہاں صرف میں ایک کمانڈر کی حیثیت سے نئے تعمیری ابتدا کا حکم دوں گا)
کسی ایک نے کہا Mauk Maurk did not have a real plans to lead the company the deputy commander just sat around doing nothing I said if you want to lead a company then you will because of the changed they called me a traitor that I was no longer marxisit but the real problem was the militiry reshuffle.
ترجمہ:(مک مارک کے پاس کوئی واضح منصوبہ نہیں تھا ڈپٹی کمانڈر اےسے ہی فارغ بیٹھا رہتا اور کچھ نہیں کرتا میں نے اس سے کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ اس مجمع کو لیڈ کریں تو وہ تبدیلی کی ہی صورت میں ہوگا مگر انہوں نے مجھے غدار کہا کیونکہ میں ایک مارکسسٹ کٹر نظریاتی نہیں لیکن اصل مسئلہ فوج کو دوبارہ ترتیب دینا تھا)
مزید قتل غارت گری اور قابض کی ظلم و جبر کے بعد مشرقی تیمور کے لوگوں نے سفارتکاری پر بھی توجہ دیا انہوں نے جنگ کو بہتر کرنے کے لیے جرمن جنگی سدگھانتکار Clausewitz کا مطالعہ کیا اور ان کی تحریروں سے استفاد ہ کرنے کی کوشش کی ۔ Clausewitz کہتا ہے
War is merely the continuation of politics by other means.
ترجمہ:(جنگ اور کچھ نہیں بلکہ سیاست کی کسی اور شکل میں تسلسل ہے)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشرقی تیمور کے لوگوں نے انڈونیشیا کی مظالم کی وجہ سے بین الاقوامی حمایت حاصل کی اور انہوں نے اپنے چھوٹے سے چھوٹے مسئلے کو بین الاقوامی حوالے سے خوب اجاگر کیا وہ Diplomacy of oppressed اور Diplomacy of liberation کے بارے میں مکمل جان چکے تھے کسی نے Diplomacy of oppressed کے بارے میں لکھا کہ
Liberation diplomacy involves of least one weak non state actor endeaverouring to overcome a superior adversary by rallying support from as many soure as possible without neccessrily being in a position to give back in return.
ترجمہ:(آزادی کی خاطر سفارتکاری ایک ایسی کمزور اور جدو جہد کرنے والے قوم کے لیئے ہے جو کہ کسی بھی قیمت پر خود سے بہت ہی زیادہ طاقت ور کسی ریاست کے خلاف جتنا زیادہ ہو سکے حمایت حاصل کرسکے اور چاہے وہ بدلے مےں ان تمام حمایتوں کو کچھ بھی نہ دے سکے)
وہ زیادہ تر انسانیت کے گراونڈ میں بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ان کے مفادات دوسری اقوام کے مفادات کے ساتھ ہم آہنگ ہوں اور وہ انکی اس لحاظ سے مدد کرتے ہو ئے انکی آزادی کی سیاسی سفارتی اور جنگی حوالے سے حمایت کریں۔ مشرقی تیمور کے لوگوں نے لبریشن سفارتکاری سے دنیا کو اپنی طرف متوجہ کیا اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1514 (XV) اور 1541(XV) نے آزادی کو مشرقی تیمور کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا اور اقوام متحدہ نے پرتگال کو طاقت دی اور اس بات پر مجاز بنایا کہ وہ مسئلے کو بین الاقوامی مسئلہ بنائیں اس قرارداد نے اقوام متحدہ کو پابند کیا کہ وہ مشرقی تیمور کو ایک آزاد ملک کی طرح ڈیل کریں اور انڈونیشیا کی فوج کو مجبور کریں کہ وہ مشرقی تیمور سے نکل جائیں اور یہ قرارداد اقوام متحدہ کی مشرقی تیمور میں مداخلت کا سبب بنا ۔ 1987 میں شنانا گوزماﺅ نے ایک تقریر کے دوران کہا کہ
We are finally more realistic cirtically analysing Freltlin experiment with Marxist ideology as an adventrours and political infantalism that
tried to defy the world obsessed with our main existent capaicities sensless radicalism that paid no attention to our concrete condtion of limitation.
ترجمہ:(آج ہم زیادہ حقیقت پسندی سے فرٹلین مارکسسٹ نظریات کی تجربات کا تنقیدی تجزیہ کرتے ہوئے جانتے ہیں کہ وہ صرف ایک مہم جوئی اور طفلانہ سیاست تھی جس طرح دنیا ہماری حقیقی اہلیت کو دیکھ رہی تھی وہ اس سے بے پرواہ ہوکر ایک بے ہودہ بنیاد پرستی کی طرف مائل ہوکر اپنی ٹھوس حقیقت حال اور محدودات پر کوئی توجہ نہیں دیتے)۔
CNRM دس ایگیزیکٹو کمیٹی کے ممبرز پر مشتمل تھا جس میں تین Falantil کمانڈ پانچ خفیہ سیاسی تنظیم اور دو Fretlin کی نماہندگی تھی 1985 میں Fretlin اور UDT کے نمائندے پرتگال میں ملے اور یکجہتی اتحاد اور ایک ساتھ کام کرنے کے میکنیزم پر بات چیت ہوئی پھر 1986 میں یکجہتی کا اعلان ہوا اور کہا گیا کہ اب وہ میلان بر مرکز ہوئے اسے nationalist convergence کا نام دیا گیا اس اتحاد نے بین الاقوامی حوالے سے انکی تحریک کو پذیرائی بخشی پھر انھوں نے اسے CCDFRT ،Co-ordinating council of the Diplomatic Front of the Timorese Resistance کا نام دیا تاکہ اپنی سفارتکاری کے کام کو تیز کر سکیں CCDFRT نے اپنے الگ سے سفارتکار اور نمائیندے منتخب کیے کہ وہ سفارتکاری کو منظم و مضبوط کریں اوراس سے ملک میں بھی ان کے لیے آسانی ہوئی اور باہر ان کے باہر کے سفارتکاروں نے یورپ اور امریکہ میں الگ سے دانشوروں صحافیوں اور اثر انداز کرنے والی چند شخصیات کی اپنی قومی کاز کی جانب توجہ مبذول کروایا۔ جس میں Benedict Anderson , Arnold Kohen
Noam Chomsky ,Elizabeth Jraub, Richard Tanter اور کچھ لوگوں کو اپنی جہد کی جانب مبذول کروایا جنہوں نے بعد میں Non state actor کی مدد سے بقول نوم چومسکی انکی جہد کو بین الاقوامی مسئلہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا 1991 میں Santa Cruz نسل کشی نے انکی جہد کو ایک نئی سمت اور رخ دیا اور بین الاقوامی ہمدردی اور حمایت کو مکمل انکی جہد کی طرف لے آیا امریکہ اور یورپ میں انکے ہمدردوں اور سفارتکاروں نے اس مسئلہ کو خوب اجاگر کیا اور انکی جہد میں یہ Turning point ثابت ہوا کوفی عنان جب Boutros Boutros Ghali کی جگہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے تو اس نے مشرقی تیمور کے مسئلے کو زیادہ توجہ دی اور انکی قومی آزادی کی حمایت کی ۔ بعد میں جب شنانا گوزماﺅ کو پابندِ سلاسل کیا گیا تو جیل میں اس نے تعلیم یافتہ اور ہوشیار تجربہ کار لوگوں سے ملاقات کر کے اپنے مشورے دیتے تھے اور اس نے جیل میں باقی دنیا سے اپنا رابطہ بھی بحال کیا ہوا تھا ۔ جیل میں منڈیلا نے ان سے ملاقات کی پھر آسٹریلیا کے وزیر اعظم Howard نے انڈونیشیا کے صدر حببی کو ایک خط مشرقی تیمور کے حوالے لکھا اور کہا کہ مسئلہ کا حل ڈھونڈ نکالیں پھر آزادی مشرقی تیمور میں چکر کھاتی بند ہوا کی طرح آیا پھر 1999 میں ریفرینڈم ہوا جس میں 438968 لوگوں نے اپنا ووٹ کاسٹ کیا اور 78.5 فیصد لوگوں نے قومی آزادی کے حق میں اپنا فیصلہ دیا اور وہ ملک غلامی ظلم و جبر اور استحصال سے آزاد ہوا کسی بھی قومی جہد میں کسی قومی پارٹی اور قومی لیڈر کو ماننے اور اس کے پیچھے چلنے کے لیے اندھی تقلید کی بجائے جو ہر شناسی کی بنیاد پر قومی پارٹی اور لیڈر کو ماننے اور اس کی پیروی کرنے کے لیے شعوری دریافت کی اشد ضرورت ہوتا ہے کہیں قومی جہد میں کچھ لوگ کچھ مدت کے لیے اس کے تلاش اور سراغ لگانے میں ناکام ہوتے ہیں اور قومی پارٹی اور لیڈر شپ کے چناﺅ میں وہ اپنے ذاتی علم کے تحت شعوری فیصلے کرنے کے بجائے اندھی تقلید کرتے ہوئے جذبات کے بہا¶ میں آکر پارٹی اور لیڈرشپ کا چناﺅ کرتے ہیں جس میں بعد میں فائدے کے بجائے نقصانات کا امکان زیادہ نمایاں ہوتا ہے کیونکہ کسی بھی قومی جہد میں اصل اہمیت کے حامل
چیز ذہنی بیداری ہے اور بیدار ذہن اس قابل ہوتا ہے کہ وہ حالات و واقعات مشکلات مصائب اور قومی آزادی کی جہد میں موجود کمزوریوں اور کوتاہیوں کو سمجھ سکیں اور پھر ان کے لیے بہترین حل بھی تلاش کر سکیں جس طرح مشرقی تیمور میںتحریک ژانانا گو ژماﺅ سے پہلے کئی ہزار لوگوں کو قربان
کرنے کے باوجود عدم یقین اور غیر یقینی صورت حال سے گزر رہا تھا بالکل اسی طرح کی صورت حال سے بلوچ قومی تحریک گزر رہی ہے ۔ 1973 – 1988 اور ماضی کی تمام قومی جہد اسی ہی غیر معین اور ، غیر یقینی صورت حال کی نذر ہوتے ہوئے قوم کو کوئی فائدہ دینے میں ناکام ہوئے جیسے پہلے کہا گیا کہ ان تمام ماضی کی جد و جہد کی دورانیے میں کوئی واضح اور متعین منزل کی حصول کی جدہ جہد نہیں ہورہی تھی سو آج بھی بلوچستان میں بہت ساری قوتیں ایسی ہیں جو حالات کا ادراک کےئے بغیر جد و جہد ایک مشغلے کے طور پر کررہے ہےں جو کہ تمام اصولی بندھنوں سے آزاد ہے اور اسی لیئے ماضی میں قومی آزادی کی جہد کو نقش مراد اور منزل تک پہنچانے سے پہلے چند آزاد مزاج لوگوں کی ضد اوراختلافات کا شکار ہو کر نا کامی سے دوچار کیا گیا اسکے بعد پھر موجودہ جدوجہد شروع ہوا جس میں پہلی بار تمام بلوچ علاقوں میں دشمن کے خلاف یکساں نفرت کا اظہار ہونے لگا اور تمام بلوچ علاقے ہم پلہ اور برابر قابض کی ظلم جبر اور استحصال کا سامناکرتے رہے اور بلوچ قومی جہد کی بازگشت بلوچستان سے باہر بھی سننے لگا مشرقی تیمور کی Fretlin دور کی طرح لوگوں نے قربانیاں دی اور بیس ہزار کے قریب لوگ غائب ہوئے اور ہزاروں شہید ہوئے گھر ویران ہوئے بلوچ قوم ہر طرح کی قربانی دینے پر تیار تھا لیکن پھر سوال وہیں آکر رک گیا اور پھر سے قومی تحریک میں لیڈرشپ و پارٹی اور گروہی حوالے غیر سنجیدگی ،پارٹی بازی اور ذاتی گروہی مفادات کی خاطر تحریک کو غیر ےقینی صورتحال کا شکار کیا گیا تحریک میں جدید دور کی تقاضوں کے برخلاف سوشلزم کمیونزم کے بے موسمی نعرے اور سیاسی اجڑ پن Fool Hardy کا شکار ہو کر قوم کو سو سال تک جنگ لڑنے کی تلقین جیسے بھڑک باز نعرے کا سہارا لینا حقیقت پسندی کے بجایے آیڈیلیسٹ بن کر بڑی بڑی باتیں کرنا مشرقی تیمور کے شروعات کے دور کی طرح بلوچستان میں بھی فیشن بن چکا ہے ہمارے ہاں جو بھڑک بازی کرتا ہے 100 سال تک قوم کو جنگ لڑنے کی تلقین کرتا ہے سوشلزم مارکسسزم کو نیشنلزم کے ساتھ آمیزش کر کے مذہب جیسی حساس معاملات کو بلاوجہ چھیڑا جاتا ہے اور یہ تلقین کی جاتی ہے کہ جو سب سے زیادہ حساس چیزوں کو چھیڑے گا وہی بڑا انقلابی اور جہدکار ہے جبکہ ایسے لوگوں کے بارے میں شنانا گوزماﺅ نے بہترین الفاظ کہے تھے کہ آج کے دور میں ایک جہدکار جتنا ہے جیسا ہے ویسا بولے تو وہی اصل جہدکار ہے ورنہ بھڑک باز اور دھوکہ باز میں کوئی فرق نہیں ہے ہم باتیں انصاف ، عدل ، آزادی اور برابری کی کرتے ہیں لیکن در حقیقت مکران میں اپنے غدار عزیز رشتہ داروں کو چھوڑ کر دیگر لوگوں کو مخبری و غداری کے نام پر مارتے ہیں اس طرز انصاف اور عدل نے توحضرت عمر کے نظام انصاف کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ قومی آزادی کی بندوق لے کر غریبوں کی گاڑیاں موٹر سائیکل چھیننا اور معمولی سی بات پر خاندانی دشمنی پر دوسروں کو موت کے منہ میں ڈالنا سب سے بڑا انقلابی عدل بن چکا ہے کہ جس نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کی ریکارڈ بھی توڑ دیے ہیں ۔ وہ سرمچار ر جہدکار جو غریب ہے جسکا کسی لیڈر سے مضبوط تعلق نہیں ہے جب وہ شہید ہوتا ہے اسے فراموش کر کے صرف لیڈر و با اثر لوگوں کی برسی منانا اور انھیں یاد کرنا بلوچ سیاست میں برابری کا اصول بن چکا ہے ۔ جہاں چند تنظیموں کی وجہ سے لوگ بلوچ جہدکاروں اور سرمچاروں کو اپنا محافظ، نگہبان اور اپنا دفاع کرنے والے کی بجائے بگاڑ و، زیاں کار، غارت گر اور برباد کرنے والے سمجھنے لگیں ۔ کیا کسی بھی قومی تحریک میں قومی طاقت اور قوت کی اسطرح سے غیر ذمہ داری سے چلانے کی نظیر ملتی ہے ؟مشرقی تیمور کے لوگوں نے شروع کے وقت اپنی ناتجربہ کاری اور عدم واقفیت اور سیاسی ناپختگی سے کئی ہزار لوگ مروائے اور جہد کو نقصان دیا لیکن یہاں بی ایل ایف، بی آراے اور سیاسی پارٹیوں میں ناتجربہ کاری، حالات سے عدم واقفیت اور نا پختگی کے ساتھ ساتھ اپنی قومی طاقت کو اپنے لوگوں کے خلاف استعمال معمول بن چکا ہے ۔
پاکستان بلوچ قوم کا دشمن ہے جو اپنے آپ کو نہ کسی جنگی قوانین کا پابند سمجھتا ہے اور نہ کسی مقبوضہ علاقے کے حوالے عالمی قوانیں کو مانتا ہے۔ پاکستان جیسا دہشتگرد ریاست بلوچستان میں کاروائی کے دوران بلوچ شہری اور سرمچار میں فرق نہ کرتے ہوئے بمباری اور فوجی جاریت کرے تو کسی دشمن کا یہ عمل جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ بلوچ کا جانی و مالی نقصان ہو سمجھ میں آسکتا ہے ۔ مگر اپنے ہی سرزمین پر اپنے ہی لوگو ں کے درمیان اگر یہ فرق نہ ہو تو یہ عمل حکمت عملی کے حوالے سوالات جنم دیتا ہے۔ کیا کبھی پنجاب میں فوج کے خلاف کسی عسکری کاروائی کے نتیجے میں کبھی پنجاب میں بلا امتیاز کاروائی کی گئی جس سے عام پنجابی شہری کو نقصان کا سامنا ہو؟
مگر جب اس ضمن بی ایل ایف اور بی آر اے کی کاروائیوں کو سامنے رکھیں تو یہی نتیجہ سامنے آتا ہے انکی طرز سیاست اور جنگی حکمت عملی پاکستان جیسے ناکام ریاست سے بھی بد تر ہے ، جہاں ان تنظیموں کے سرمچار دشمن کی طرح آبادی کی سالمیت کو زیادہ اہمیت نہیں دےتے ہیں ۔ انکی عسکری کاروائیاں بھی اسی طرح کی منظر کشی کرتی ہیں مثلا آبادیوں میں آکر گھروں کے پیچھے چھپ کر دن دھاڑے عسکری کیمپوں پر داوا بول کر الٹے پیروں بھاگ جانا اورعام نہتے آبادیوں کو پھر پاکستانی قابض کی فائرنگ اور راکٹوں کے زد میں چھوڑ دینا ، اب یہ بات زبان زد عام ہے کہ وہی گوریلہ تنظیم (بی ایل ایف اور بی آر اے ) جنہیں لوگ اپنا نجات دہندہ سمجھتے تھے وہ خود پاکستانی طرز کی سیاست تو نہیں کررہے ہیں۔
سیاسی تجربہ کاری واقفیت اور تحقیق کے حوالے ہم سب میں کمزوریاں اور کوتاہیاں ہیں بقول ایک دوست کے اس میں ہمیں پٹ و پول ،اور تحقیق کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہم اپنی قومی جہد کو اس بحران سے باآسانی مشرقی تیمور کوسو و اور ایریٹریا کی طرح نکال سکیں یہ مسئلے مسائل جو آج بلوچ قومی تحریک کو در پیش ہیں تقریبا زیادہ تر قومی جہد میں ایسے مسئلے مسائل پیدا ہو چکے ہیں لیکن انکا بہترین حل ڈھونڈ نکالنا تعلیم یافتہ اور حالات و واقعات سے باخبر جہدکاروں کا ہے مشرقی تیمور کی ژاناناگوژماﺅ سے پہلے اور بعد کی جہد بلوچ قومی جہد میں پارٹیوں اور لیڈر شپ پر اندھی تقلید کے بطلان اور اس کی قباحت پر معمولی سا تجزیہ ہے ۔میں خود کندن نہیں ہوں تو میں یہ رائے کسی دوسری پارٹی اور گروہ کو بھی نہیں دے سکتا ہوں کہ وہ قومی جہد میں کندن بن جائیں۔ کیونکہ کندن بننے اور نہ بننے سے تحریک پر اثر نہیں ہوتا ہے لیکن اگر تحریک قوم کی قربانیوں کی وجہ سے جس چھت پر کھڑ ا ہو اور کوئی جہدکار یا تنظیم اس چھت کی ستونوں کو بلڈوز کرنے کی کوشش کرئے تو وہ نقصان ایک فرد کا نہیں بلکہ پور ی بلوچ قوم کا ہوگا ۔
قومی جہد میں لوگ ان تمام تنظیموں اور لوگوں پر اعتماد کر کے قربانیاں دے رہے کہ یہ لوگ جہد کو قومی منزل تک لے جاہیں گے لیکن منزل کے لیے ہموار راستہ کو اپنی غلط اعمالوں کی وجہ سے غیر ہمورا کیا گیا ہے اور قومی جہد میں سمت، حکمت ،عملی اور رخ کا صحیح معنوں میں اب تک تعین نہیں ہوا ہے یہ جہدکار قومی جہد کو نقصان دینے کے ساتھ ساتھ خود بھی ایک تنگ کونے میں پھنس چکے ہیں کیونکہ داﺅ گیر اور دھوکہ بازی سے قومی آزادی کے جہد کو آگے نہیں لے جایا جا سکتا ہے ۔ مشرقی تیمور کی جہد سے ظاہر ہے کہ قومی تحریک کو صرف قربانی اور بہت زیادہ لوگوں کی شہادت اور اپنے قوم کی تباہی و بربادی سے آزادی نہیں دلوایا جا سکتا ہے قربانی شہادت ٹارچر جدوجہد کا حصہ ہیں مگر اس میں لیڈرشپ اور پارٹی کے حوالے حکمت عملی اپنے حالات واقعات اور بین الاقوامی حالات کو اپنے جہد کے لیے ہموار کرنا بھی سب سے بڑا کام ہوتا ہے ۔ ایک حقیقت پسند، قوم دوست ژانانا کی طرح Santa Cruz جیساواقعہ جہاں 200 افراد کے قریب لوگوں کی قتل کو بین الاقوامی حوالے اپنے قومی تحریک کے لیے Turning point بنا سکتا ہے جبکہ اس سے پہلے کے آئیڈیالسٹ و بھڑک باز اور مارکسسٹ کٹر نظریاتی 50 ہزار کے قریب جانی قربانی کو اپنے قومی جہد کے حق میں ہموار کرنے میں ناکام ہوگئے ۔ قربانی قومی تحریک میں قوموں کو دینی پڑتیں ہیں لیکن ا گر صرف قر بانی اور شہادت سے قومی آزادی ملتی تو اس وقت فلسطین تامل سمیت بہت سے اقوام آزادی حاصل کر چکے ہوتے اس لیے بہترین طریقہ اپنے حالات کو بین الاقوامی حالات سے ہم آہنگ کرتے ہوئے Realpolitik کے تحت جہد کرتے ہوئے قومی آزادی کے کاروان کو کم سے کم قربانی پر منزل سے ہمکنار کیا جاسکتا ہے بلوچستان میں توتک کا واقع بلکل Santa Cruz جتنی اہمیت کا واقع تھا اور بوسنیا میں اس طرح کے واقعات کو انہوں نے بین الاقوامی حوالے سے خوب اجاگر کیا ۔ بلوچ قومی تحریک کے بین الاقوامی حوالے مشرقی تیمور کی طرح چند حمایتی لوگ ہیں جس سے قومی تحریک کے حوالے سے کام لیکر جہد کو فائدہ پہنچایا جا سکتا تھا لیکن بی این پی کے نمائیندوں نے انھیں قومی تحریک سے دانستہ بد زن کیا اور باقیوں کو اپنے اندرونی بحران کے ردعمل میں بہت سے لوگ تحریک کے لیے نئے دوست بنانے کے بجائے پہلے سے موجود بلوچ تحریک کے حمایتیوں کو قومی جہد سے دورکر رہے ہیں ۔ بلوچ قومی تحریک کو بھی مشرقی تیمور کوسوو اور ایریٹیریا کی جہد کی طرح کوئی ایک پارٹی اور گروہ آگے نہیں لے جاسکتا ہے اس کے لیے سب کو شامل ہو کر مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا لیکن اس کے لیے پارٹی بازی گروہیت اور قومی تحریک کو غیر ذمہ د اری سے چلاتے ہوئے قومی طاقت کو عام بلوچوں کے خلاف استعمال سے روکنا بھی ضروری ہے وہ لو گ جو مشرقی تیمور کے شروعات کے دور کی طرح غیر ارادی طور پر تحریک کے خلاف استعمال ہورہے ہیں انھیں بھی حقیقت کو تلاش کر کے اسی کے مطابق اپنی قومی ،سیاسی وابستگی کا اظہار کرنا ہوگا ورنہ اس طرح کی اجڑ پن غیر یقینی صورتحال سے کسی بھی قومی تحریک کے لیے جھوٹا اور غلط خیال زہر سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے اس خیالی پلاوُ کو بڑھانے اور اس کی حوصلہ افزائی سے قومی تحریک کا نقصان ہو سکتا ہے اور قومی تحریک میں کوئی غلط فیصلہ پوری قوم اور تحریک کے لیے اجتماعی قومی تباہی اور بربادی کا سبب بن سکتا ہے قومی لیڈری کے نام پر ایک فرد یا گروہ کی غلط حکمت عملی اور فیصلہ کا خمیازہ پوری نسل کو بھگتنا پڑے گا جس طرح مشرقی تیمور کی ژانانا گوژماﺅ سے پہلے اور بلوچ قومی تحریک میں, 1958, 1962, 1988 اور 1973 اور بعد میں یکے بعد دیگرے لیڈر شپ کی غلط پالیسی اور فیصلہ کا اثر پوری بلوچ قوم پر ہوا۔ پہلے کے دور میں جب قومی جہد سوشلزم اور قومی آزادی کے لیے ہوتا تھا تو وہاں کہا جاتا تھا کہ سچا انقلابی وہ ہے جو قول و عمل میں انقلابی تعلیمات کا عمدہ نمونہ ہو اورایسے ہی افراد کامل اور حقیقی انقلابی کہلاتے ہیں اور یہی انقلابی لشکر قوموں کو آزادی دلواتی ہیں۔ لیکن درحقیقت یہ فقط خیالی خاکہ اور جزبات سے زیادہ کچھ بھی نہیں کیونکہ دنیا میں زیادہ تر جو تحریکیں کامیاب ہوئی ہیں
ان میں بھی دو ےا زیادہ سے زیادہ چار Hardcore نہیں نکل سکے لیکن جدید دور میں یہ قومی جہد کے حوالے نظریہ تبدیل ہوا ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ تمام لوگ قومی جہد میں حصہ لے سکتے ہیں اور جہد کو ٓآگے لے جاسکتے ہیں جو قومی جہد کے سامنے جسمانی و مشق الفظی اور پوشیدہ طور پر رکاوٹ نہیں ہیں بلوچ قومی تحریک کے لیے Hardcore بننے اور آج کل کے دور میں انقلابی بھٹی سے گزرنے کے شرائط بھی قابل عمل نہیں ہیں اور حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو اس آزمائش پر ناچیز سمیت بہت سے لوگ کسی بھی طرح نہیں اتر سکتے ہیں لیکن قومی جہد کو جسمانی و مشق لفظی اور پوشیدہ طریقہ سے کون نقصان دے رہا ہے پوری قوم جو تحریک کے حق میں تھا ان کو قومی تحریک سے کس نے پوشیدہ ایجنڈے اور جسمانی اور مشق الفظی کے تحت قومی تحریک سے دور کیا اس پر بحث مباحثہ اور گفت و شنید کی اشد ضرورت ہے میرے نزدیک کسی بھی لیڈر یا سیاسی ذمہ دار کے لیے قومی پروگرام کو آگے لیجانے کے لیے اصول بنیادی چیز ہے جس کے بغیر سوچ، پلاننگ وغیرہ تحریک میں
مثبت کردار ادا نہیں کر سکتے اور کسی بھی تحریک کے مسائل کے حل کی راہ تلاش کرنے کے لیے تحقیق ، حقیقت پسندی اور تعمیری سوچ ضروری ہے۔ مگر کچھ لوگ قلم کی آواز کو بھی گالی اور بلیک میلنگ سے بند کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ دلائل کے مقابلے میں ظن گمان کی کوئی حیثیت نہیں وہ لوگ جو قومی تحریک میں موجودہ مسائل کو دلائل تحقیق پٹ وپول سے نکالنے کے بجائے طعن بازی اور طعنوں بد ظنی سے دبانے کی کوشش کر رہے ہیں انکی مثال غیر عاقل بہرے کی طرح ہے جو بالکل ہی بے بہرہ رہتا ہے کیونکہ عقل مند بہرہ بھی اشاروں سے کچھ سمجھ رکھتا ہے ۔بے عاقل بہرے قومی جہد میں موجود مسئلے مسائل کو حل کرنے کے بجائے باقی ماندہ ناکام تحر یکوں کی طرح خود مسئلے بن چکے ہیں جہدکاروں نے بھی غیر عاقل بہرے کی طرح اپنے پارٹی ورکروں اور حمایتیوں کی عقل کو ہلکا سمجھا ہے وہ اندھی تقلید سے صرف پیروی کر رہے ہیں جبکہ دوسرا کوئی طریقہ کار غلط حکمت عملی طاقت و قوت کی غلط استعمال اور اجڑ پن کے حوالے سوال کرتے ہیں تو انہیں پروپیگنڈے اور الزام لگاتے ہوئے انکی بے توقیری کی جاتی ہے تاکہ لوگ انکی رعب دبدبہ سے مرعوب ہوکر خاموش رہیں ۔ جس کسی کی عقل سرزدہ اور مختل ہے جو مقصد کے اصول کے بغیر صرف کھوتا رہتا ہے جس طرح مشرقی تیمور کے شروعات اور ژاناناگوژماﺅ سے پہلے کے دور میں ہوا تھا اور بلوچ قومی تحریک میں تواتر کے ساتھ یہی عمل دہرا یا جارہا ہے لیکن آجکل کے جدید دور میں قومی جہد آزادی کے تقاضوں کے مطابق ہر چیز کو اپنی جغرافیہ حیثیت دشمن کی طاقت اور انکی کمزوریاں اور اپنی طاقت و قوت کے حساب سے تخمینہ اور اندازہ لگاتے ہو ئے زیادہ سے زیادہ قومی جہد کے لیے ہمدرد ڈھوندنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی حوالے سے بھی مشرقی تیمور اور باقی ماندہ کامیاب جہد وںکی طرح حمایتی لوگ ڈھونڈنے کی کوشش مطمع نظر ہونا چاہیے ۔ مشرقی تیمور کے لیے non state actor کے توسط سے چھ حمایتی لوگوں نے کس طرح انکی جہد کو بین الاقوامی مسئلہ بنانے میں مدد کی اور ہم بلوچ ابھی تک opressed سفارتکاری سے واقف بھی نہیں ہیں اور جہاں کوئی ہمدرد ہے اسے خود ہی اپنی قومی تحریک سے دور کر رہے ہیں۔ ہمارے یہاں ہر ایک کوشش کر رہا ہے کہ بین الاقوامی حوالے سے Oppressed سفارتکاری میں قومی تحریک کے غیر بلوچ حمایتی انکے گروہ اور پارٹی کی ترجمانی کریں جو کہ ناممکن ہے بلکہ اسی عمل سے ہم خود ا نہیں اپنی قومی جہد سے دور رکر ہے ہیں ۔ قوموں اور ملکوں کے تعلقات پارٹی سیاست سے بالا ہوتے ہیں ۔ انڈیا اور امریکہ میں بہت سے سیاسی پارٹیاں ہیں جو کہ ایک دوسرے کے مخالف ہیں مگر قومی مفادات پر انڈیا کا کوئی اپوزیشن پارٹی امریکہ اور
انڈیا کے تعلقات اور مفادات کو اپنی حکومتی پارٹی سے اختلافات کی بنیاد پر نقصان نہیں پہنچاتا اسی طرح قومی تحریک بھی عبوری ریاست کی طرح ہوتی ہیں جہاں Oppressed سفارتکاری کے ذریعے پارٹی مفادات کے بجائے قومی مفادات کو دیکھا جاتا ہے ، پارٹی کے بجائے قوم کو پروجکٹ کیا جاتا ہے لیکن کچھ جہد کار جو آزادی کی سفارتکاری سے عدم واقفیت کی بنا پراس تعلقات کو بھی پارٹی کی نذر کرتے ہوئے قومی جہد کے حمایتیوں کو پوری جہد سے مایوس کرتے ہیں اور وہ قومی جہد کو فائدہ پہنچانے کے بجائے نقصان دے رہے ہوتے ہیں اس لیے بلوچ قومی تحریک کے اندرونی مسائل جتنا بھی ممکن ہو بین الاقوا می حوالے قومی تحریک کے ہمدردوں اور حمایتیوں کو بد ظن کرنے کی وجہ نہ بنیں۔ ورنہ کوئی نادان ہی قومی جہد کے تین چار حمایتیوں کو جہد سے پارٹی اور گروہ پالٹیکس کی بنا پر قومی جہد سے دور کرنے کی حمایت کر سکتا ہے۔ ہمیں بین الاقوامی حوالے سے Oppressed سفارتکاری کرتے ہوئے گروہ و پارٹی سے بالاتر ہو کر قومی تحریک اور قوم کے لئے زیادہ سے زیادہ ہمدرد ڈھونڈ نکالنا چاہیے تاکہ پاکستانی بربریت اور انسانی حقوق کی پامالی کو بہتر انداز میں بین الاقوامی سطح پر اٹھایا جاسکے اب ہمیں اپنی قومی جہد کو بھی بلند حکمت عملی کے تحت تشکیل ریاست اور ملک داری کی جہد کی طرف منتقل کر لینا چاہیے اور اسی کے مطابق اپنی پالیسیاں ترتیب دینا چاہیے اگر ہم نے اپنی غلطیوں اور کو تاہیوں سے سبق سیکھ کر تشکیل ریاست کی جہد شروع کیا تو مشرقی تیمور کی طرح کم وقت اور کم قربانیوں سے اپنے جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے ہم قومی آزادی حاصل کر سکتے ہیں اگر موجودہ طریقہ سے چلے تو فلسطین تامل وغیرہ کی تحریکوںکی طرح سو سال تک لاکھوں لوگوں کی قربانی دے کر بھی ہم اپنی قومی جہد کو کامیاب نہیں کر سکتے ہیں مشرقی تیمور کی تقابلی جائزہ سے تحریکوں میں رہنما کی حکمت عملی اور اس کے قوموں کے مستقبل پر اثرات کا اندازہ ہوتا کہ جہاں پر تنظیم بے پناہ قربانی دینے اورمضبوط ہونے کے باوجود اپنی ہدف حاصل نہیں کرسکے لیکن ایک تجربہ کار سیاسی مدبر اور Realistic سوچ رکھنے والا فرد مردہ تحریک میں پھر سے روح پھونک کر قوم کو آزاد کرسکتا ہے۔ مشرقی تیمور کی تحریک سے ایک بات ثابت ہے کہ ایک فرد بھی اپنی قابلیت،استداد ،تدبیر،عاقبت اندیشی سے آزاد ریاست تشکیل دے سکتا ہے مگر یہ انتہائی ضروری ہے کہ اس شخص کی سوچ گروئی، علاقائی ،دوستی و سنگتی،تعلق داری اور رشتہ داری سے زیادہ قومی نوعیت کا ہو ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0