مشرق وسطی کی کشیدہ صورتحال اوربلوچ سیاست


ہمگام اداریہ
10 فروری 2018 کو شام کے سرحدی علاقے میں اسرائیل کے f16 جنگی جہاز کو مار گرائے جانے پر اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے حالات کو کشیدہ بنانے کی ذمہ داری ایران پر عائد کر دی کہ ایران نے شام کی سرزمین کو استعمال کرکے اپنے طے شدہ پروگرام کے تحت اسرائیل کی تباہی و بربادی کے لیے کام کر رہا ہے انھوں اس معاملے پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے اس معاملے پر بات چیت کی جبکہ امریکہ نے اسرائیل کے موقف کی حمایت کی ہے اور اقوام متحدہ نے دونوں فریقین کو پرامن رہنے کی اپیل کی ہے ایف 16 جیٹ جنگی جہاز کی تباہی کے بعد اسی رات اسرائیل نے شام میں کئی اہم ٹھکانوں پر حملے کیئے جن میں ایرانی فوجیوں کی ہلاکت بھی ہوئی تھی. ایران و اسرائیل کی اس خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدہ صورتحال کے تانے بانے سعودی عرب،قطر،یمن،لبنان سے جا ملتے نظر آتے ہیں سعودی عرب کے شہزادہ محمد ابن سلمان نے سعودی پالیسیوں میں تبدیلی کے ساتھ بدعنوانی کے الزام میں کئی سابقہ فوجی و کاروباری اہم اشخاص کو گرفتار کرلیا اور ساتھ ساتھ ملک کی قوانین میں تبدیلی و سعودی کی سابقہ انتہا پسند پالیسیوں کو فرسودہ سمجھنے کے ساتھ نئے پالیسیوں کے لیے سعودی حکومت میں تبدیلیاں بھی کی اور انھی دوران لبنان کے وزیراعظم سعد حریری نے سعودی عرب میں جاکر اپنا استعفیٰ دے دیا اور لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا اور اسی طرح 2014 سے یمن میں حوثی قبائل کی حکومت کے خلاف بغاوت جو اب تک کسی نہ کسی صورت جاری ہے اور سعودی عرب کا الزام ہمیشہ سے یہی رہا ہے اور خطے میں کشیدگی کو ایران ہوا دے رہا ہے لبنان میں حزب اللہ و یمن میں حوثی قبائل کو سپورٹ کرکے ایران خطے میں اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو بڑھانے کے ساتھ آنے والے حالات کے لیے اپنی پوزیشن کو مضبوط کررہا ہے اور سعودی عرب قطر کے حوالے سے اپنے سخت موقف کے ساتھ سامنے آیا ہے کہ قطر انتہا پسندوں کو اپنی سرزمین استعمال کرنے دے رہا ہے اور ایران کے ساتھ انکے مضبوط تعلقات پر خلیجی ممالک نے قطر سے اپنے تعلقات منقطع کر لیے پورے خطے میں حالات کی کشیدگی کا اندازہ گزشتہ دن اسرائیل کے جنگی جہاز کی تباہی سے ظاہر ہو رہا ہے کہ ایران روس ترکی ایک صفحے پر ایک دوسرے کی مدد و کمک پر رضا مند ہیں جبکہ دوسری طرف ایران،لبنان ،یمن، شام میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ اپنی طاقت بڑھا رہا ہے جبکہ سعودی عرب اسرائیل و امریکہ ایران کی بڑھتی طاقت کا اندازہ کرنے اسکے خلاف ایک صفحے پر جمع ہورہے ہیں ایران نے اپنی اثر رسوخ بڑھا کر ہندوستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو چاہ بہار پورٹ کے ذریعے بہتر بنا چکا ہے اور افغانستان کے ساتھ چاہ بہار پورٹ کے ذریعے افغانستان کے لیے اشیاء خودنوش و دیگر مواد ہندوستان سے بذریعہ ایران چاہ بہار پورٹ کے ذریعے افغانستان پہنچ رہے ہیں ظاہری طور ایران پاکستان کے ساتھ بھی اپنے تعلقات بہتر بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے جبکہ جہاں بھی اسے اپنی سلامتی کا خطرہ رہتا ہے تو وہ اپنے گروپس اتحادی یا اپنے مخالفین کو دوست بنانے میں ماہرانہ کردار ادا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں افغانستان میں بد امنی کے لیے طالبان کی کمک روس بذریعہ ایران واضع طور سامنے آچکا ہے جبکہ دوسری طرف وہ افغانستان کے لیے طالبان کے ذریعے مشکلات پیدا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا بند کمال خان جسے افغان حکومت گزشتہ تیس سالوں سے بنانے کی کوشش میں ہے لیکن ایران اسکے خلاف ہر وقت سرگرم رہتا ہے ایران افغانستان میں امریکہ کے لیے مسلئے پیدا کر رہی ہے اب امریکہ اسرائیل و سعودی ایران کے حوالے سے کسی منطقی فیصلے پر جاسکتے ہیں اور آثار دن بہ دن اسی طرف جارہے ہیں اگر اسرائیل سعودی و امریکہ کوئی حتمی فیصلہ ایران کے حوالے سے کرینگے تو ایران منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہے اس صورتحال میں بلوچ جو پاکستان ایران افغانستان کے ساتھ جڑے ہیں انھیں وقت و حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنی پوزیشن واضح کرنے کی ضرورت پڑے گی کیونکہ ایران کی پشت پناہی پر روس و ترکی تیار نظر آتے ہیں جبکہ امریکہ نیٹو سعودی خلیجی ممالک و اسرائیل اپنے مضبوط طاقت کے ساتھ میدان میں نظر آرہے ہیں ان حالات میں ایران کے خلاف امریکہ اسرائیل و سعودی نیٹو ایران کے اندر خمینی مخالف لابی و بلوچ قوم کو اعتماد میں لینے کی کوشش کر سکتے ہیں جبکہ ایران اپنے سرحدی علاقوں کی حفاظت کے لیے بلوچوں کو من و عن ان حالات میں اپنے ساتھ اتحادی بنانے کی ہر ممکن کوشش کرے گا کیونکہ مقبوضہ بلوچستان جو پاکستان کے زیر دست ہے اسکے حوالے سے ایران اپنی دوغلی پالیسیوں کو ہر حال میں برقرار رکھے گا ایسے ہی صورتحال سے بلوچ تحریک کا واسطہ سوویت یونین و امریکہ پاکستان کی پراکسی جنگ سے پڑا تھا جہاں بلوچ مکمل ایک طرف نہ جاسکے بلکہ بیچ میں لٹکتے رہے اور روس کی انہدام کے بعد بلوچ بکھرتے گئے اب کی بار ایران و پاکستان کے حوالے سے دنیا کی نظریں اس خطے پر ٹکے ہوئے ہیں اور بلوچ اس بیچ سوچ سمجھ کر جو قدم اٹھائیں گے تو انکے نتائج آنے والے سو سالوں تک انھیں مثبت یا منفی نتائج دیتے رہیں گے ان عالمی طاقتوں کے بیچ جو جنگ چھڑنے کے آثار دکھائی دے رہے ہیں بلوچ کی ضرورت یہی ہے کہ وہ کسی کی اتحادی بننے کے لیے اس بات کا بخوبی جائزہ لے کہ ایران کی دوستی یا ایران کی دشمنی میں قومی فائدہ کس حد تک رہے گا اور ایران کی دوستی یا دشمنی روس کی دوستی و دشمنی کے ہم مترادف ہو گا اور یہی اسرائیل سعودی امریکہ کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے نہ کہ جلد بازی و وقتی فائدے کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا گیا تو عین ممکن ہے کہ آزادی تو دور کی بات ہوگی بلکہ بلوچ وطن مزید کچھ ٹکڑوں میں بانٹ کر دیگر اقوام کو دے دیا جائے گا عقل و ہوش سے کام لیکر آنے والے وقت کے لیے خود کو تیار کرنے ساتھ اپنے صحیح اتحادیوں کا چناؤ قومی آزادی کے لیے پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔