مشکے:پاکستان آرمی کی بلوچ آبدی پہ حملہ۔ خاتون اپنے پانچ بھائیوں سمیت شہید

جمعہ 2 جنوری, 2015

مشکے۔ہمگام نیوز۔۔۔قابض پاکستان آرمی کی آج صبح مشکے میں سابق گوریلا کمانڈر میر محمود کے گھر پہ حملہ کردیا جس کے نتیجے میں مرحوم محمود کی بیٹی اپنے پانچ بھائیوں سمیت شہید ہوئیں ، جبکہ اس حملے میں کئی معصوم بچوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔
دریں اثنا بی این ایف نےاپنے مذمتی بیاں میں کہا کہ
مشکے میں نئے سال کی شروع میں خاتون سمیت چھ لاشوں کا تحفہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہم دشمن کا سامنا کرنے و شکست دینے کیلئے ہر روز نئے عہد و یکجہتی کیساتھ صبح کا آغاز کرکے صف بندی و پالیسیاں مرتب کریں۔ مرکزی ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں جاری آپریشن کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مشکے میں بمباری اور شیلنگ سے خواتین ، بچوں اور بڑوں کی شہادت و زخمی ہونے کو سڑسٹھ 67سالہ قبضے میں مظالم کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچ قوم پر ہرروز گھیرا تنگ کرکے غیر انسانی مظالم ڈھائے جا رہے ہیں جس میں خواتین و کمسن بچوں سمیت نہتے عوام کو بھی نشانہ بناکر تمام عالمی جنگی و انسانی قوانین و اخلاقیات کو پاؤں تلے روندا جا رہا ہے ۔ دُنیا نئے سال کی خوشیان منا رہی ہے مگر بلوچ ہر روز نئی قبریں کھود رہے ہیں ، نئے سال کی شروع میں خاتون سمیت چھ لاشوں کا تحفہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہم دشمن کا سامنا کرنے و شکست دینے کیلئے ہر روز نئے عہد و یکجہتی کیساتھ صبح کا آغاز کرکے صف بندی و پالیسیاں مرتب کریں۔ آج جمعہ کی صبح مشکے میں ایک گاؤں پر حملہ اور ایک خاندان کے چھ افراد کو ایک خاتون سمیت گن شپ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے نشانہ بنا کر شہید کرنا پاک فوج کی درندگی کا ثبوت ہے ، اسی صبح پنجگور کے کئی علاقوں میں بھی بمباری کی گئی ، اس انسانیت سوز عمل کے خلاف بی این ایف چار 4جنوری بروز اتوار پورے بلوچستان میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کرتی ہے ۔ مرکزی ترجمان نے کہا کہ مشکے سُنیڑی میں ستّر کی دہائی کے جہد کار میر محمود کے فرزنداں بانک ثمینہ بلوچ و ستّار بلوچ کو دیگر چار بھائیوں سمیت شہید و کمسن بچوں کو زخمی کرکے پاکستانی آرمی بنگلہ دیش کی تاریخ دہرا رہا ہے ، بلوچ بھی ضرور بنگالیوں کی طرح اپنی دیش آزاد کرانے میں کامیاب ہونگے مگر اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے ادارے ایسے حربوں کا نوٹس لیکر ایک خونی جنگ کا تدارک کرکے بنگلہ دیش جیسی صورتحال سے پہلے بلوچ قوم کو اسکی چھینی ہوئی سرزمین واپس دلانے میں مدد کریں ۔ جبری قبضہ سے لیکر آج تک ہزاروں بلوچ شہید اور ہزاروں غائب کئے گئے ہیں ۔ اسی آرمی نے بنگلہ دیش میں تیس لاکھ بنگالیوں کا قتل اور سات سے ستر سال کی بچوں و خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنا یا، بلوچستان میں اگر بھر وقت عالمی مداخلت نہیں کی گئی تو یہ درندہ صفت پاکستانی آرمی ایک اور انسانی المیے کو جنم دے گا ۔ آخر میں ترجمان نے تاجر برادری اور عوام سے ہڑتال کامیاب بنانے کی اپیل کی ۔

ساتھ ہی بی آر ایس او کے مرکزی ترجمان نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ
میر محمود بلوچ کے گھر پرفوجی بمباری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ریاستی درندگی اور فرعونیت قرار دیا ۔بمباری میں میر محمود بلوچ کی بیٹی ثمینہ بلوچ اور چار بیٹے شہید ہوئے جبکہ گھر میں موجود باقی لوگ بھی شدید زخمی ہوئے ہیں۔ترجمان نے مزید کہا کہ بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن میں اب تک لا تعداد بلوچ فرزند اغواء اور شہید کیے جاچکے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں بلوچ اب بھی ریاستی عقوبت خانوں میں شدید نوعیت کی اذیتیں برداشت کر رہے ہیں جن کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں لیکن بلوچستان کی بد ترین صورتِ حال پر عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سمیت اقوام متحدہ کی خاموشی گمبیر صورتِ حال کو جنم دے رہی ہے جو پورے خطے کے لیے نقصاندہ اور خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ترجمان نے مشکے آپریشن میں شہید ثمینہ بلوچ اور انکی چار بھائیوں کو سرخ سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریاست بلوچ قوم کے فرزندوں کو شہید کرکہ ہمیں نہیں ڈرا سکتی اور اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹا سکتی موجودہ تحریک بلوچ گلزمین کی مکمل آزادی تک جاری رہیگی

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0