مشکے میں سول آبادی پہ بمباری ریاستی بربریت کی انتہا ہے۔ بی این ایم /بی ایس او

ہفتہ 3 جنوری, 2015

بلو چ اسٹوڈنٹس آرگنائز یشن آزاد کے مرکزی ترجمان نے اپنے ایک جاری کردہ بیان میں کہا ہیکہ گزشتہ دنوں مشکے، پنجگور، کوہلو اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آپریشن اور بلوچ خواتین بانک ثمینہ بلوچ، سمیت نوجوانوں کی شہادت سے دشمن نے سال نومیں بلوچ قوم کو یہ واضح پیغام دیا ہیکہ یہ سال بھی گزشتہ سال کی طرح دشمن کی بربریت اور ظلم جبر کے سائے تلے گزر ے گا،اور دشمن بلوچ قومی جہد کو ختم کرنے اور بلوچ وسائل کی لوٹ مار میں شدت لانے کے لئے مختلف حربوں کا استعمال کرے گا۔ترجمان نے کہا کہ گزشتہ روز مشکے میں میر محمود کے گھر پر حملہ اور خواتین و بچوں کی شہادت ریاستی دہشتگردی کا تسلسل ہے جوکہ 1947سے تاحال جاری ہے۔بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیاں شدت کے ساتھ جاری ہیں خواتین و بچوں کو اغواء کرنا و گھروں میں چھاپوں کے دوران انہیں شہید کرنا روز کا معمول بن چکا ہے ،ریاستی فورسز دیہی آبادیوں پر فضائی حملہ کر کے کئی پر امن و نہتے بلوچوں کی شہادت کا ارتکاب کر چکے ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں شادی کی تکاریب ہوں، عید ہوں یا کہ نئے سال کے آمد کی تکاریب ہوں بلوچ عوام ان مواقع پر خوشیاں منانے کے بجائے ریاستی فورسز کے ظلم و جبر کا سامنہ کررہی ہے،مہذب دنیا کی خاموشی سے فائدہ اٹھا کر قابض ریاست بلوچستان میں بلوچ عوام کی قتل عام آزادی سے کررہی ہے اور پوری دنیا میں دہشت پھیلانے والے دہشتگردوں کی سرپرستی کررہا ہے،جبکہ اقوام متحدہ سمیت دوسرے عالمی اداروں کی اس حوالے خاموشی ریاستی فورسز کو جواز فراہم کررہے ہیں۔ اگر اب بھی عالمی ادارے پاکستان کے خلاف عملی اقدامات اٹھانے کے لئے پس و پیش سے کام لیں گے اور ریاستی فورسز کی دہشت گردی کا راستہ نہ روکیں گے تو پورا خطہ سنگین صورتحال سے دوچار ہو گا۔ ہم اقوام متحدہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ خطہ سمیت پوری دنیا کا امن بحال کرنے کے لئے ایک آزاد بلوچ ریاست کی فعالی کے لئے اپنا فوری کردار ادا کرے۔

بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے مرکزی ترجمان نے مشکے میں ریاستی فورسز کی بمباری، بلوچ بیٹی ،بچوں اور فرزندوں کی شہادت پر انھیں سرخ سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ قابض ریاستی فورسز اور نام نہاد حکومت کی جانب سے بلوچ آبادیوں پر آپریشن و بمباری کے جس سلسلے کو شروع کیا گیا ہے وہ ریاستی بربریت ہے اور عالمی جنگی قوانین کی کھلم کھلا پامالی ہے۔مشکے،کاہان،پنجگور،ڈیرہ بگٹی سمیت مقبوضہ بلوچستان کی پوری سرزمین اس وقت غیر فطری ملک پاکستان کی بدنام زمانہ آئی ایس آئی کی دہشت گردی کا شکار ہے۔گزشتہ روز مشکے میں عام آبادی کو نشانہ بنانا قابض ریاستی قبضہ کو قائم رکھنے اور نام نہاد مالک اینڈ کمپنی کی بلوچ کش پالسیوں کا حصہ ہے۔ترجمان نے کہا کہ عالمی ادارے مقبوضہ بلوچ سرزمین پر جاری پاکستانی جارحیت پہ خاموش رہ کر ایک خطرناک حکمت عملی پر گامزن ہیں، ایک ایسی ریاست جہاں شیرخوار بچوں سے لیکر نوجوان،بزرگ اور خواتین آئے روز ریاستی بمباری کا نشانہ بن رہے ہوں وہاں انسانی حقوق کے ادارے و انکے ذمہ داروں کی خاموشی ایک معمہ ہے جس پر قابض ریاست شے کا مظاہرہ کر کے بلا خوف بلوچ فرزندوں کو اغوا اور بمباری کا نشانہ بنا کر شہید کر رہی ہے۔2013 سے ریاستی خفیہ اداروں و پاکستانی آرمی کی ایما پر جن لوگوں کو اقتدار میں لایا گیا آج وہ بلا خوف عالمی قوانین کی دھجیاں اُڑا کر بلوچ قوم کو اپنی سفاکیت کا نشانہ بنا رہی ہیں۔مگر واضح رہے کہ انقلابی ادوار اور آزادی کی جنگیں قوموں کو ایسے حالات میں مضبوط بناتی ہیں،قابض ریاست اور اسکے آلہ کاروں کی یہ بھول ہے کہ وہ بلوچ خواتین و بچوں و بزروگوں،نوجوانوں کو شہید اور عام آبادیوں پر بمباری سے بلوچ قومی جہد آزادی میں رکاؤٹ یا خوف پیدا کر پائیں گے ۔بلکہ غلامی کا دارک رکھنے والی بلوچ قوم آج مکمل باشعور ہے اور ریاستی ظلم و جبر آج انقلابی کارکنوں کی ہمت اور تربیت کا باعث بن گئے ہیں۔مرکزی ترجمان نے بی این ایف کی اتوار کے روز شٹر ڈاؤن ہڑتال کو کامیاب بنانے اور دشمن کی چالوں سے قوم کو آگا ہ کرنے کے لیے تمام زونوں کو اپنی حکمت عملیوں میں بہتری کے ساتھ کام کرنے اور دشمن ریاست کی بلوچ کش پالسیوں کا مکمل ادارک رکھنے کی تلقین کی ۔اقوام عالم اور ہمسایہ ممالک بلوچ قوم کی نسل کشی وپاکستانی جارحیت پہ اپنی خاموشی کو توڑ کر اس سنگین انسانی بحران سے نکلنے میں بلوچ قوم کی مدد کریں کیونکہ بلوچ اپنی آفاقی اور قومی تشخص کی بقا کی جہد عالمی قوانین اور اپنی آزادی کااقوامِ متحدہ کی چارٹر کے مطابق مطالبہ کر رہی ہے

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0