مشکے میں پاکستانی فوج نےخواتین و بچوں سمیت دس لوگوں کو قتل کیا ۔بی ایس او آزاد

بدھ 6 دسمبر, 2017

کوئٹہ ( ہمگام نیوز)بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان نے اپنےجاری کردہ اخباری بیان میں بلوچستان کے علاقے مشکے ، واشک اور پنجگور میں فوجی آپریشن کے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مشکے میں گذشتہ چار روز سے جاری فوجی آپریشن بھیانک مراحل میں داخل ہوچکا ہے۔ مشکے، واشک اور پنجگور کےکئی گاؤں زمینی و فضائی فوج کے بمبارمنٹ کے زد میں ہیں پاکستان آرمی کےفضائی دستوں کی بمباریوں سے درجنوں گھر صفحہ ہستی مٹ گئے ، مشکے کے علاقےگجلی میں خواتین و بچوں سمیت دس لوگوں کو قتل کیا جبکہ درجنوں لوگوں کےہلاکتوں اور گرفتاریوں کی اطلاعات ہیں جن میں اکثریت خواتین ، بچے وبزرگ
ہیں، آپریشن زدہ علاقے مکمل فوجی گھیرے میں ہونے کی وجہ سے نقصانات کےمکمل تفصیلات موصول نہیں ہورہے ہیں ۔ جبکہ راغے کے علاقے میں پاکستان آرمی نے دوران آپریشن بلوچ رہنماء ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ کی ہمشیرہ نور
ھاتون و کزن صاحب داد کو لاپتہ کردیا ، ایک اور کزن خیر بخش کو دوران حراست شہید کرکے لاش پھینک دی ہے ۔
ترجمان نے کہا کہ گذشتہ روز ہم اپنے اس خدشات کا اظہار کرچکے تھے کہ بلوچستان بھر میں جاری فوجی کاروائیوں میں شدت لانے کی تیاریاں مکمل ہوچکے ہیں اس کی دُرستگی گذشتہ چار روز سے جاری اس جارحانہ فوجی آپریشن سے ہوتا ہے کہ جس میں ان علاقوں کو آمد و رفت کیلئے مکمل سیل کرکے فضائی و زمینی کارائیاں جاری ہیں اور اس آپریشن کو مزید وسعت دیا جارہا ہے۔علاوہ ازیں گذشتہ روز ریاستی فورسز نے تمپ کے علاقے ملانٹ میں سرچ آپریشن کرکے گھر گھر تلاشی لیکر چادر و چاردیواری کی پامالی کرتے ہوئے
خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بناکر درجنوں لوگوں کو گرفتار کرکے لاپتہ کردیا جبکہ ایک اور کاروائی میں پنجگور کے گچک میں دوران آپریشن عبدالرحمن ولد داود اور خلیل احمد ولد زباد کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ۔
ترجمان نے کہا کہ اس طرح کے جارحانہ فوجی کاروائیوں میں لوکل میڈیا ہمیشہ کی طرح مکمل ؒ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں بلوچ عوام لوکل میڈیا کے اس رویے کو ریاستی پالیسیوں کے شریک کار کے طور پر دیکھتے ہیں جبکہ بین القوامی میڈیا کے کردار بلوچستان جیسے ایک جنگ زدہ خطے کیلئے انتائی
مایوس کن ہے کیونکہ بلوچستان میں اس طرح کے سنگین فوجی کاروائیاں بھی بین القوامی میڈیا میں توجہ حاصل نہیں کررہے ہیں ، انٹرنیشنل میڈیا کے لوکل نمائندوں کے اکثریت حب الوطنی کے سامنے اپنے صحافت جیسے عظیم پیشے سے بھی انصاب نہیں کررہے ہیں بلوچستان کے سنگین صورتحال میں ریاستی بیانیہ کو زمینی حقائق قرار دیکر شائع کررہے ہیں ۔بلوچستان میں انٹرنیشنل میڈیا کےلوکل نمائندوں کی سنجیدگی اس امر سے ہوتا ہے کہ بلوچستان میں ان کا دائرہ حدود صرف کوئٹہ تک محدود ہے مکران ، سراوان اور جھلاوان کے ریاستی بربریت سے متاثرہ علاقوں میں ریاستی عسکری ذرائع سے خبر وصول کرتے ہیں۔بین القوامی میڈیا پاکستان میں موجود لوکل نمائندوں کے بلوچستان کے حوالے سے کردار پر نظرثانی کرکے بلوچستان جیسے جنگ زدہ خطے کو عالمی میڈیا میں جگہ دینے کیلئے اپنے صحافتی اصول و ذمہ داریوں سے انصاف کریں ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0