مشکے کھندڑی کے شہدا کو سرخ سلام پیش کرتے ہیں۔ بی این ایم

بدھ 8 اکتوبر, 2014

کوئٹہ(ہمگام نیوز) بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے مرکزی ترجمان نے عید کے روز ریاستی فورسز کی گولہ باری سے مشکے کھندڑی میں شہید ہونے والے خیر بخش بلوچ،دس سالہ قوم کی بیٹی گلناز بلوچ اور بارہ سالہ فرزند جاوید بلوچ کو سرخ سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ عید کے روز جہاں امت اسلامیہ مذہبی تہوار میں شادان رہی وہیں پر قابض پاکستانی فورسز نے اپنی فرعونیت سے بلوچ آبادیوں پر بمباری جاری رکھی۔مشکے میں 6 اکتوبر کو ریاستی فورسز نے عام آبادی پر یکے بعد دیگرے کئی مارٹر گولے فائرکئے جس سے مشکے کے علاقے کھندڑی میں 36 سالہ خیر بخش ولد دلشاد ،10 سالہ گلناز بنت خیر بخش ،12 سالہ جاوید ولد ناکام شہید ہوئے، جبکہ شہید خیر بخش کی زوجہ فیروز بی بی اور چھوٹی بیٹی شدید زخمی ہیں، معصوم بلوچ بچی گلناز بلوچ جو شدید زخمی ہوئی تھیں 7 اکتوبر کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے عید کے دوسرے روز چل بسیں۔ مرکزی ترجمان نے کہا کہ ریاستی فورسز کی سنگینیاں عید کے مقدس تہوار کے دوران پورے مقبوضہ بلوچستان میں جاری رہیں ،مند کے بیشتر علاقوں کو فورسز نے گھیر کر عوام کو تنگ کیا اسی طرح مستونگ،اسپلنجی اور قلات کے کئی علاقوں میں فورسز نے عوام کو شدید تنگ کرنے کے ساتھ عید کی نماز کے بعد ناکے لگائے اور عوام کو شدید ذہنی کوفت میں مبتلا کیا۔مرکزی ترجمان نے کہا کہ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی عید کے دن اورسالوں سے جاری احتجاج اور بی این ایم کے رہنما کچکول علی ایڈوکیٹ کے فرزند کی خفیہ اداروں کے ہاتھوں اغواپر احتجاج بھی ریاستی میڈیا اور انسانی حقوق کے علمبراداروں کی توجہ نہیں پاسکی ہیں جو ایک انسانی المیہ ہے۔بی این ایم اقوام متحدہ سمیت دنیا کے مہذب ممالک کی اس خاموشی کو انسانی جرم سمجھتے ہوئے،انسانی حقوق کے داخلی و عالمی اداروں سے پرزو اپیل کرتی ہے کہ وہ تیزی سے جاری بلوچ قوم کی نسل کشی کے خلاف آواز بلند کریں ۔پاکستان کی اسلامی شدت پسندانہ حکمت عملیاں جہاں بلوچ قوم و اسلام کے لیے تباہ کن ہیں اسی طرح یہ پوری دنیا کی امن کو تہہ و بالا کررہی ہیں۔مرکزی ترجمان نے کہا کہ دنیا کی سکھ و امن کے لیے ضروری ہے کہ عالمی جنگی قوانین کی خلاف ورزی سمیت انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے مرتکب اس ریاست کو انصاف کے عالمی کٹہرے میں لایا جائے تاکہ مظلوم بلوچ قوم سمیت اس خطے کے دیگر اقوام اپنی روایات و تشخص کو بچا پائیں۔

 

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0