مغالطے و مفروضات تحریر :نود بندگ بلوچ

جمعہ 8 مئی, 2015

دوران تحریک مشترکہ مقاصد رکھنے کے باوجود پھوٹ و تقسیم نا کوئی انہونی عمل ہے اور نا ہی حیران کن ، جدید تحریکوں کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے ہی ہمیں ایسے کئی مثال مل سکتے ہیں، لیکن اس امر کا ادراک کہ آیا یہ پھوٹ مثبت نتائج کا حامل ہوگا یا اسکے اثرات منفی مرتب ہونگے یقیناًپیچیدگیوں کا حامل ہے اور بادی النظر میں اسکا اندازہ لگانا قطعی آسان نہیں ، یقیناًکوئی معنی خیز نتیجہ اخذ کرنا یہاں تناظر و محرکات پر غور کرنے کا متقاضی ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر اگر اس وقت نیشنل پارٹی کے اندر ایک گروہ آزادی کی حمایت کرتے ہوئے اختلاف رکھے اور نیشنل پارٹی پر تنقید کرے ، اسے تقسیم کرکے ایک نئی آزادی پسند پارٹی بنائے تو پھر یہ عمل سر سری جائزے سے پھوٹ اور تقسیم ہی کہلائے گا لیکن قومی مفادات کے تناظر میں ہم اس پھوٹ کو خوش آئیند اور مثبت ہی کہیں گے وہیں یہی عمل نیشنل پارٹی کے گروہی و تنظیمی مفادات کے تحت ایک منفی و نقصاندہ نتائج کے حامل عمل ہوگا ، اس مثال کو ہم آسانی سے اسلئے جذب اور تسلیم کرپاتے ہیں کیونکہ یہاں ہمارے پاس اس پھوٹ کو جانچنے کا ایک با اعتبار پیمانہ ’’ قومی مفادات ‘‘ موجود ہے ، اسی لئے ہم اس مسئلے کو قومی مفادات کے تناظر میں سمجھ سکتے ہیں ۔ایک پیمانے کے بعد اسکے پیچھے چھپے محرکات پر بھی غور کرنا ضروری ہے تاکہ اخذ شدہ پیمانے کے ساتھ انصاف ہوسکے، محرکات میں وہ مخصوص معروضی حقائق شامل ہوتے ہیں جو کسی مخصوص وقت میں سیاست کے تقاضوں میں شامل ہو اور اس پر اثر انداز ہوتا ہو یعنی اگرنیشنل پارٹی میں پھوٹ قومی مفادات کے تحت مثبت عمل ہے تو پھر اس کے پیچھے محرکات میں موجودہ قومی تحریک آزادی ہے جو اس پیمانے کو جواز فراہم کرتا ہے ، مثال کے طور پر بلوچ لبریشن آرمی میں اختلافات پیدا ہوتے ہیں اور ایک گروہ یو نائیٹڈ بلوچ آرمی کے نام سے قومی مفادات کو جواز بناکر الگ ہوتی ہے لیکن یہاں محرکات پر اگر غور کریں تو ’’قومی مفادات‘‘ کے پیمانے سے انصاف نہیں ہورہا ہے ، کیونکہ یہاں حقیقی محرکات ذاتی فوائد اور فرار ہیں۔یقیناًمحرکات کا تعین بھی تحقیق کا محتاج ہے ۔ ایک عمل کے بابت تحقیق کرکے محرکات کو پہچاننا پھر اسے متعین شدہ پیمانے ’’ قومی مفادات ‘‘ کے تناظر میں پرکھ کر ہم اس کے مقاصد کا آسانی سے اندازہ لگاسکتے ہیں اور مقاصد کی سادہ سی جانچ ہم پر اسکے منفی و مثبت اثرات یا نتائج عیاں کرتی ہے یہ میکانیہ نا مجرد ہے اور نا ہی قطعی لیکن مسائل کو سمجھنے میں ضرور مددگار ثابت ہوسکتی ہے اسی لیئے یہ محض پھوٹ و تقسیم پر ہی موقوف نہیں بلکہ اختلافات کی قلعی بھی اس میکانیہ پر کھل سکتی ہے ۔بلوچ قومی سیاست میں اختلافات کا وجود اب راز نہیں رہے۔ ان اختلافات کو گر مختصراً بیان کیا جائے تو وہ روایتی انفرادیت پسند ، گروہ پرست سیاست سے نکل کر قومی مفادات کو مقدم جان کر انہیں اپنا مطمع نظر مان کر جدوجہد کرنا ہے ۔ایک سادہ سی تحقیق سے اس کے محرکات اخذ کرنا بھی مشکل نہیں ۔ بی ایل اے کے ہوتے ہوئے مختلف پلیٹ فارم تشکیل دیکر جدا جدا حیثیت سے لڑنا ، بی این ایم و بی ایس او کے ہوتے ہوئے بی آر پی و بی آر ایس او کا قیام ، بی این ایف کو توڑنا ، یو بی اے کا بننا اور اسکے بننے کو روکنے کے بجائے بی ایل ایف و بی آر اے کا اس سے گروہی فوائد کا حصول ، بلوچستان لبریشن چارٹر کو مسترد کرکے اپنے اپنے پارٹی منشوروں پر اکتفاء کرنا وغیرہ اسکے چیدہ چیدہ محرکات میں شامل ہیں ،یہ تمام محرکات گروہیت پرستی ، ذاتی مفادات کے حصول کی طرف اشارہ کرتے ہیں ، اب اختلافات کی نوعیت کو دیکھیں تو وہ بھی اسی چیز کا تقاضہ کرتے ہیں کہ اس منفی روایتی سیاست اور گروہیت سے نکل کر قومی دھارے کو مطمع نظر بنایا جائے ، اگر قومی مفادات کے تناظر میں ان اختلافات کا جائزہ لیں تو ہم بلا توقف یہ کہہ سکتے ہیں کہ قومی آزادی کیلئے قومی دھارہ گروہیت سے زیادہ مقدم ہے اور قدیم و روایتی کے مقابلے میں جدید زیادہ اہمیت کا حامل ہے ، اس سادہ سے جانچ سے اب ان اختلافات کے مقاصد بھی ہمارے سامنے عیاں ہیں کہ وہ قومی تحریک کو روایتی و گروہی سیاست سے نکال کر جدید و قومی دھارے کے بنیاد پر استوار کرنا چاہتے ہیں ، اس نتیجے کے بنیاد پر ہم بلا شک اخذ کرسکتے ہیں کہ ان اختلافات کے نتائج و اثرات مثبت ہی ہونگے ۔ میرے خیال میں کوئی بھی صحتمند ذہن ان اختلافات کو نا صرف جذب کرسکتا ہے بلکہ تسلیم بھی کرسکتا ہے ۔ لیکن وہ طبقہ ہائے فکر جو موجودہ طریق سے انفرادی و گروہی فوائد اٹھانا چاہتی ہے ، شروع سے ہی یہ کوشش کرتی رہی ہے کہ ان اختلافات کے بابت مبہم مفروضات گھڑ کر مغالطے پیدا کیئے
جائیں اور عوام میں اسکے بھیانک انجام کا منفی پروپگینڈہ کرکے اختلاف رکھنے والے اور اس کے اظہار کے طریقے کو متنازعہ بنایا جائے۔ ان مفروضات کو گھڑنے کے پیچھے اپنے منفی عزائم( جو اختلاف کے موجب ہیں)کے اوپر انقلاب کی ملمع سازی کرکے انہیں چھپانے کی سعی ہے، لیکن اپنے منفی کردار کو چھپانے کیلئے جو بھیانک منظر کشی کی جارہی ہے اس سے وہ ایک اور منفی عمل ’’ عوامی مایوسی پھیلانے ‘‘ کا بھی موجب بن رہے ہیں ۔اگر غور کیا جائے ابتداء میں جن سے اختلاف رکھا جارہا تھا ( بی این ایم ، بی ایس او ،بی ایل ایف ، بی آر پی) انکی یہی کوشش رہی تھی کہ کسی طور یہ حقائق عوام کے سامنے نا آپائیں اسلئے وہ اختلافات کے اظہار کے ذریعے ( سوشل میڈیا) کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے رہے اور اختلافات کے وجود سے ہی انکار کردیا ، حتیٰ کے میڈیا میں مخالفین (حیربیار و ہم فکر) کے بابت ایک بار بھی یہ ظاھر نہیں کیا کہ ان سے کوئی اختلاف ہے ،لیکن ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کو روکنے کیلئے کارکنان کے ذریعے گالم گلوچ ، اپنے پارٹیوں سے سوشل میڈیا کے خلاف فتویٰ جات ، اور اظہار کرنے والوں کو غداری کے سرٹیفکٹ بانٹنے کا بازار گرم رہا لیکن جب ایک بار اختلافات طشت ازبام ہوگئے اسکے بعد سوشل میڈیا مزید مسئلہ نہیں رہا اسی بی ایس او نے ان اختلافات پر سوشل میڈیا میں لکھنے کا اعلان کردیا، بی این ایم آرٹیکل شائع کرنے لگا اور ڈاکٹر اللہ نظر بذات خود سوشل ویب سائٹ ٹویٹر پر اکاونٹ کھول کر حیربیار پر کئی دفعہ تنقید کرنے لگے یعنی جو عمل حرام تھا اچانک انکے ہاتھوں آکر حلال ہوگیا اس سے ظاھر ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا کبھی بھی مسئلہ نہیں تھا بلکہ مسئلہ ہمیشہ سے یہ رہا تھا کہ ان اختلافات کی نوعیت کو کبھی بھی عوام کے سامنے ظاھر نہیں کیا جائے کیونکہ انکی نوعیت کے سامنے آنے سے انکی گروہی و مفاداتی سیاست کی پول کھلتی اور انکی ساکھ متاثر ہوتی ۔ جب ایک دفعہ سب کچھ ظاھر ہوگیا تو پھر ڈاکٹر اللہ نظر اور بی این ایف اپنے پرانے موقف کو یکسر بھول کر مخالفین ( حیربیار و ہمفکروں) پر الزام تراشی کرنے لگے اور اپنی دستیاب قوت ( انکے اختیار میں پارٹیوں) کو استعمال کرتے ہوئے ، ان پارٹیوں اور تنظیموں کے ناموں سے ایسے من گھڑت بیانات جاری کرنے لگے جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا ، جن کا مقصدمحض مخالفین کو متنازعہ بنانا تھا ۔ اس دوران اختلافات کے مقاصد کو منفی پیش کرنے اور مخالفین کو متنازعہ بنانے اور ساتھ میں جھوٹ کی ملمع سازی کرکے اسکے پیچھے چھپنے کیلئے ہر وقت نت نئے مفروضات سامنے لائے گئے اور مغالطے پیدا کیئے گئے ۔ ان زبان زد عام مغالطوں و مفروضات کی تشریح لازم جان کر میں ان میں سے چیدہ چیدہ کی تشریح کرنا چاہوں گا تاکہ پھیلائے گئے ابہام کو رفع کیا جاسکے
*۔ اداروں میں مداخلت
ان اختلافات کو لیکر جب سے سنگت حیربیار مری اور اسکے ہم فکروں کی جانب سے برملا تنقید کا آغاز ہوا اس وقت سے ایک مفروضہ قائم کیا جارہا ہے کہ ’’ یہ تنقید ان اداروں کے داخلی امور میں مداخلت ہے ‘‘۔ ایک طرف دیکھا جائے تو یہ مفروضہ بھی مغالطے پیدا کرنے کی سعی ہے لیکن دوسری طرف در اصل یہ انکے گروہی سوچ کی بھی نشاندہی کرتا ہے ۔ موجودہ قومی تحریک کا جب آغاز ہوا تو اس وقت نا بی ایس او اور بی این ایم وجود رکھتے تھے نا ہی بی آر پی اور بی آر ایس او اور نا ہی بی ایل اے کے سو ا کوئی مسلح تنظیم یعنی تحریک نے ان تنظیموں کو پیدا کیا ان تنظیموں نے تحریک کو پیدا نہیں کیا اور نا ہی تحریک ان تنظیموں کے وجود یا نام کا مرہونِ منت ہے ، تحریک ایک مقصد کیلئے ہے اور یہ تنظیمیں اس مقصد تک پہنچنے کے مختلف ذرائع اب مقصد کے خاطر وقت و حالات کے مطابق ذرائع تو تبدیل کی جاسکتی ہیں لیکن ذرائع کے خاطر مقصد تبدیل نہیں کی جاسکتی اگر تبدیل کی گئی تو ان ذرائع کا بھی جواز ختم ہوجاتا ہے مطلب یہ کہ ان ذرائع کے سامنے مقصد کئی گنا زیادہ مقدم ، محترم اور اہمیت کا حامل ہے جس کی خاطر ذرائع کو کبھی بھی قربان یا تبدیل کی جاسکتی ہے پھر یہاں مداخلت کا مفروضہ اپنی حیثیت کھو دیتا ہے کیونکہ قومی مفادات آپ کو یہ جواز فراہم کرتے ہیں کہ آپ کسی بھی گروہ کے اعمال و افعال کو احتساب کے کٹہرے میں لاسکتے ہیں ، جہاں مقصد قومی آزادی کی خاطر ذرائع تنظیم کو قربان یا تبدیل تک کی جاسکتی ہو وہاں اگر انہی قومی مفادات کے تحت کسی بھی تنظیم کے داخلی امور میں مداخلت نا کوئی بڑی بات ہے اور نا ہی عمل مانع ۔ یہاں یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ کسی ادارے کے اندرونی معاملات میں آخر مداخلت کیوں کی جائے؟ بلوچ قومی تحریک آزادی میں اس وقت درجن بھر سے زائد قابلِ ذکر عسکری و غیر عسکری تنظیمیں وجود رکھتے ہیں ان سب کا مقصد قومی آزادی ہے اور حصول کا میکانیہ بلوچ عوام کو مائل و قائل کرکے متوجہ کرنا اور اس تحریک میں زیادہ سے زیادہ شامل کرنا اور اسکی طاقت سے قابض کو اپنے ذمین سے بیدخل کرنا ہے یعنی سب میں بہت سارے تضادات اور ہیت میں تنوع ہونے کے باوجود قومی آزادی اور بلوچ عوام دو مشترکہ چیزیں ہیں ، اسی لیئے اگر کوئی بھی تنظیم قومی آزادی کے بابت کوئی مثبت کام کرتا ہے یا بلوچ عوام میں شعوری بیداری کیلئے کوئی اچھا قدم اٹھاتا ہے تو اسکے اثرات باقی تمام کے تمام تنظیموں اور قومی مفاد ات پر مثبت پڑتے ہیں لیکن اسی طرح اگر کوئی بھی ایک تنظیم کوئی ایسا کام کرے جس سے عوامی حمایت کو نقصان پہنچے یا قومی مقصد آزادی کے حوالے سے عالمی یا علاقائی سطح پر ہزیمت اٹھانا پڑے تو پھر اسکے منفی اثرات بھی تمام تنظیموں اور قومی مفادات پر منفی پڑتے ہیں ۔ جب ایسے عوامل تواتر سے ہونے لگیں جس سے قومی مفادات و مقصد اور عوامی حمایت کو مسلسل نقصان مل رہا ہو تو پھر ان عوامل کو روکنا انتہائی ضروری ہوجاتا ہے ، اب روکنے کیلئے مذاکرات ہوسکتے ہیں جیسے کہ بی ایل اے کے نمائیندے بابا خیر بخش مری اور ڈاکٹر اللہ نظر و دیگر سے کئی بار اس بابت ملاقاتیں کرتے رہے ، روکنے کیلئے نقصاندہ تنظیموں کی داخلی معاملات میں مداخلت کرکے تنقید بھی کی جاسکتی ہے جیسے کہ گذشتہ ایک عرصے سے حیربیار مری سے فکری طور پر منسلک لوگ سوشل و پرنٹ میڈیا میں کررہے ہیں تاکہ عوام کو ان منفی اعمال سے آگاہ کرکے انکے دباو سے ان تنظیموں کو روکا جائے ، اب کیونکہ کسی تنظیم کا وجود ہی
قومی مقصد کیلئے ہوتا ہے اور اگر قومی مقصد کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ رہا ہو تو پھر روکنے کیلئے وقت و حالات کے مطابق آخری حد طاقت کے استعمال تک بھی جاسکتے ہیں جیسا کہ یو بی اے کے خلاف بلوچ لبریشن آرمی طاقت کا استعمال کررہا ہے ، طاقت کا استعمال ناگزیر صورت میں ہی کی جاتی ہے کیونکہ اگر قومی مقصد کو ہی ناکام بنادیا گیا تو پھر کسی بھی تنظیم یا ہمارے صورتحال میں بی ایل اے کے اپنے وجود کا کیا فائدہ ۔آج اگر بی ایل اے مسلح محاذ پر بندوق سے اور حیربیار مری سے فکری طور پر منسلک لوگ اپنے تحریروں و تقریروں میں باقی ماندہ تنظیموں کے سامنے اکیلے کھڑا ہوکر ان کے داخلی امور میں مداخلت کررہے ہیں تو یہ ایک بہت بڑا قدم ہے ، اسکے نتیجے میں ایک طرف بی ایل اے کو باقی سب کے مشترکہ عسکری قوت کے خطرے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے تو دوسری طرف باقی تمام پارٹیوں کے منفی پروپگینڈوں اور پھیلائے گئے مفروضات و مبالغوں سے حیربیار کے فکری دوستوں کو متنازعہ ہونے و تنہائی کا بھی سامنا ہوسکتا ہے ، لیکن قومی مقصد و مفادات کے آگے نا بی ایل اے کا وجود اہمیت رکھتا ہے اور نا ہی کوئی خوشنامی ، اگر یہ سب ختم ہوجاتے ہیں لیکن قومی تحریک سلامت رہتی ہے تو یہ مہنگا سودا نہیں کیونکہ پھر کوئی نا کوئی کہیں نا کہیں سے اٹھ کر اس کاروان کو آگے بڑھائے گا لیکن اگر تحریک ختم ہوجاتی ہے تو پھر بی ایل اے سمیت باقی سب کا وجود و نام کسی کام کا نہیں
*۔ اپنا اپنا چارٹر
بلوچستان لبریشن چارٹر کو پیش کرنے کا بنیادی مقصد گروہی مقاصد سے نکل کر پوری دنیا کے سامنے بلوچ قوم کا ایک مشترکہ موقف پیش کرنا اور بلوچ عوام سے آزادی کے بعد حقیقی جمہوریت و خوشحالی کا وعدہ و معاہدہ تھا ۔پہلے اس چارٹر کے بارے میں تمام تنظیموں اور پارٹیوں نے مثبت رائے دی لیکن جیسے جیسے وقت گذرتا گیا تو اس سے انکاری ہوکر ڈاکٹر اللہ نظر اور براہمداغ سمیت باقی سب نے یہ مفروضہ قائم کرکے مغالطہ پھیلانا شروع کردیا کہ ’’ ہر پارٹی کا اپنا اپنا چارٹر ہے اس لئے اسکی ضرورت نہیں اور ہم اسے قبول نہیں کرتے ‘‘۔ چارٹر ایک بین االادارتی ، بین الاقوامی یا بین الالبراعظمی معاہدہ ہوتا ہے جس کے تحت مشترکہ مفادات کے تحت اکھٹا ہوا جاتا ہے جیسے کے اٹلانٹک چارٹر، انٹرنیشنل ڈیکلیریشن آف ہیومن رائٹس یا سینٹو و سیٹو وغیرہ اور ایک پارٹی منشور اپنے کارکنوں اور اپنے پارٹی کی جانب سے قوم کے ساتھ ایک وعدہ یا معاہدہ ہوتا ہے جیسے کہ بی این ایم یا بی آر پی کے منشور ہیں جو اپنے کارکنوں کو ایک روڈمیپ دیتے ہیں اور اپنے پارٹیوں کی جانب سے بلوچ قوم سے یہ اقرار کرتے ہیں کہ وہ آزادی کیلئے جدوجہد کریں گے لیکن بلوچستان لبریشن چارٹر کے پیش ہونے سے پہلے پورے قومی تحریک کے حوالے سے بلوچ قوم کے ساتھ نا کوئی معاہدہ یا کمٹمنٹ تھی اور نا روڈمیپ اور نا ہی دنیا کے سامنے ایک موقف یعنی کوئی منشور اور چارٹر اپنے ہیت ، مقاصد اور متن میں بالکل جدا جدا دستاویزات ہوتے ہیں ۔ اس سے یہ ثابت ہوتی ہے کہ اپنا اپنا چارٹر کا یہ شوشہ محض ایک مفروضہ ہے لیکن پھر بھی غور کیا جائے کہ یہ مفروضہ کیوں زبان زد عام کرنے کی سعی کی جارہی ہے ۔ ہوسکتا ہے ان کو چارٹر کے نکات سے اختلاف ہو ؟ لیکن نہیں چارٹرسب کو یہ کہہ کر پیش کیا گیا کہ آزادی اور جمہوریت کے علاوہ باقی تمام نکات میں رد و بدل کی جاسکتی ہے ۔ ہوسکتا ہے انہیں یہ شک ہو کہ وہ اس چارٹر کے ذریعے سے سنگت حیربیار کے پابند ہونگے ؟ لیکن نہیں اس چارٹر میں کوئی ایک شق بھی ایسی نہیں جس سے ان تنظیموں کے داخلی امور پر حیربیار اثر انداز ہوسکے بالفرض ہوتی بھی تو پھر وہ اس شق کو بدلنے کا پورا استحقاق بھی رکھتے تھے ۔ ہوسکتا ہے ڈاکٹر اللہ نظر اور خلیل و کریمہ بلوچ سوشلسٹ ہیں اور انہیں چارٹر کے جمہوریت والے شق سے اختلاف ہو جو نا قابلِ ترمیم و تنسیخ ہے کیونکہ سوشلزم میں جمہوریت نہیں بلکہ پرولتاری آمریت ہوتی ہے ؟ ایسا ہوسکتا ہے لیکن اگر ایسا مسئلہ تھا تو پھر انہیں اپنا موقف واضح طور پر قوم کے سامنے پیش کرنا چاہئے کہ ہم جمہوریت نہیں چاہتے لیکن پھر بھی نہیں کیونکہ انکے سوشلزم کے نعروں کو اگر انکے کردار و اعمال اور سرمایہ دارانہ ممالک سے امداد کے اپیلوں کے تناظر میں دیکھیں تو یہ نعرہ بھی ایک مفروضہ لگتا ہے ۔ بہت سے قیاسات کی جاسکتی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ چارٹر کو نا مذکورہ وجوہات کے بنیاد پر مسترد کیا گیا اور نا ہی اسلئے مسترد ہوا کہ سب کا اپنا اپنا چارٹر ہے بلکہ اسکی واحد وجہ یہ تھی کے چارٹر کو تسلیم کرکے قومی تحریک سے نا کوئی گروہ ، پارٹی یا تنظیم بالا ہوتی اور نا کوئی عالمی سطح پر خفیہ طریقے سے اپنے لیئے گروہی مفادات حاصل کرپاتا مختصراً یہ کہ چارٹر گروہیت کی نفی کرتی ہے اور قومیت کی وکالت اسی لیئے یہ چارٹر ان گروہیت پسندوں کی طرف سے مسترد ہوا اور باقی یہ اپنا اپنا چارٹر والی بات محض ایک مفروضہ ہے تاکہ بلوچ عوام میں مغالطے پیدا کرکے حقائق چھپائے جائیں ۔
*۔ سنگت حیربیار ایک فرد ہیں
گذشتہ چند سالوں سے سنگت حیربیار کی طرف سے چارٹر کا پیش کرنا ہو یا تیرہ نومبر کو بلوچ شہدا کا دن قرار دینا یا کوئی بھی اور مثبت قدم اسے باقی ماندہ لیڈرشپ مختلف ہیلوں اور بہانوں سے مسترد کرتی رہی ہے اور ان بہانوں میں ایک اور مفروضہ کہ’’ حیربیار کا کوئی بھی ادارہ نہیں بلکہ وہ ایک فرد ہیں اور انفرادی حیثیت سے کام کررہے ہیں اسلئے انکے اقدامات قابلِ قبول نہیں ‘‘ قائم کرکے مغالطہ پھیلایا جارہا ہے۔ یہاں کچھ حقائق اور ہمارا سیاسی کلچر غور طلب ہے ۔بلوچ سیاست میں ابتداء سے سیاسی ادارے کا تصور کمیونسٹ نظریے خاص طور پر بالشویک پارٹی سے مستعار لیا گیا ہے یعنی ہم سیاسی ادارہ اس جماعت کو سمجھتے ہیں جس کی ساخت سینٹرل ڈیموکریسی پر مبنی ہو اور قیادت و رینک ظاھر ہوں مطلب وہی اوپر ایک چیئرمین ہوگا پھر ایک کابینہ ، پھر کوئی سینٹرل ایگزیٹو کمیٹی ، پھر کچھ زون اور پھر ان زونوں کے یونٹ یا اسی سے ملتا جلتا ۔ کمیونسٹ پارٹیاں اس طرز کو اسلئے
استعمال کرتے رہیں کیونکہ ان کا مقصد مسند اقتدار سے ایک گروہ کو ہٹا کر اختیارات پارٹی کے ہاتھ میں لیناہوتا ہے اور اقتدار پر قبضے کے بعد پارٹی کا رینک حکومتی رینک بن جاتی ہے یعنی چیئرمین صدر بن جائے گا کابینہ وزیر بنیں گے اور باقی اسی طرح ذیلی اختیارات کو سنبھالتے جائیں گے لیکن بلوچ کے معروضی حالات و ذمینی حقائق اس سے مختلف ہیں۔ یہاں اقتدار پر قبضہ و تشکیل کی جنگ نہیں بلکہ قوم و ریاست کی تشکیل کی جنگ ہے ، ایک تو یہاں کم اور بکھری آبادیاں ہیں جس کی وجہ سے سرفیس پر کوئی معنی خیز تحریک آج تک چلائی نہیں جاسکی ہے اور دوسری طرف غیر جمہوری دشمن کسی طور پر آپ کے ظاھری سرگرمیوں کو پنپنے نہیں دیتا یہی وجہ ہے کہ گذشتہ پانچ سال کے دوران دشمن نے ظاھر سیاسی کارکنان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سے لیکر لیڈرشپ تک سب کا صفایا کردیا لیکن ہمارے سیاست میں روایت پسندی اتنی راسخ ہوچکی ہے کہ بار بار ایک رستے پر چلنے سے نقصان اٹھانے کے باوجود وہ بضد نظر آتے ہیں کہ رستہ تبدیل نہیں کیا جائے۔ سنگت حیربیار کا موجودہ تحریک کا آغاز کرنے میں ایک بہت بڑا کردار رہا ہے ، وہ آج کے موجود باقی ماندہ قیادت سے پہلے ہی نا صرف اس تحریک کا حصہ تھے بلکہ اسکی قیادت بھی کررہے تھے لیکن انہوں نے روایتی طرز سیاست کو مسترد کرتے ہوئے ایک غیر روایتی اور مخفی طریقے سے اداروں کی تشکیل کی ، ایک در آمد کردہ ماڈل پر ساخت کو استوار کرنے کے بجائے ، اسے تجربات اور معروضی حالات کے مطابق تشکیل دی گئی اور اتنی لچک پیدا کی گئی کے یہ وقت و حالات کے مطابق اپنی ہیت بدلتے ہوئے تجربات کے بنیاد پر ایک ایسی حقیقی شکل اختیار کرے جو باہر سے درآمد کردہ نہیں بلکہ بلوچ نفسیات و ضروریات کے مطابق ہو اور دوسری طرف نمود و نمائش کے بجائے گمنامی و رازداری کو بنیادی اصول بنایا گیا ۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ریاستی آپریشنوں ، کئی ساتھیوں کے اغواء و قتل ، مھران اور بابا مری کی طرف سے دو لخت کرنے کی کوششوں ، اسلحہ و مڈی سے محروم ہونے اور تمام عسکری و غیر عسکری بلوچ تنظیموں سے اختلاف رکھنے کے باوجود نا صرف بی ایل اے 17 سال گذرنے کے باوجود مضبوطی سے اپنی جگہ کھڑا ہے بلکہ آج تک دشمن تک کو اسکی درست تعداد ، نیٹورک ، قیادت اور فیصلہ ساز اداروں کے بارے میں علم نہیں، لیکن دوسری طرف براہمداغ و ڈاکٹر اللہ نظر برملا اپنے ناموں کے ساتھ سربراہ کا لاحقہ لگاتے ہیں ، ڈاکٹر اللہ نظر انٹرویو کے دوران اپنی تعداد میڈیا کو بتاتے ہیں اور انڈر گراونڈ تنظیم کے مرکزی اجلاس کے بیانات اخباروں کے سرخیوں کی زینت ہوتی ہیں ، آج مکران کے کسی بھی علاقے میں جائیں تو وہاں ان مسلح تنظیموں کے علاقائی کمانڈروں کے نام پوچھیں تو کمانڈر کیا ہر ایک کارکن کا بھی نام پتہ سب پر ظاھر ہیں ، ایسا بھی نہیں کے اس روایتی ، شوشائی سیاست سے خاطر خواہ فوائد حاصل ہورہے ہیں بلکہ کئی مخلص کارکن اس نمود کے بھینٹ چڑھ چکے ہیں لیکن روایت اور نام کو زندہ رکھنے کیلئے شاید ان جانوں کو قیمت کے طور پر ادا کی جارہی ہے۔ اب اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یار لوگ اپنے ظاھری خدو خال کو ادارے سے تشبیہ دیتے ہیں اور حیربیار کو ایک فرد قرار دیتے ہیں حالانکہ ظاھریت ہرگز ادارے کیلئے شرط نہیں بلکہ ادارہ کوئی بھی ظاھر و مخفی ڈھانچہ جو قوم پروگرام کو آگے بڑھائے ہوسکتا ہے ، حتیٰ کے ادارے کیلئے افراد بھی لازمی شرط نہیں ہیں بلکہ کچھ غیر تحریری سادہ سے روایات ، رسم ، قانون یا اصول بھی ادارہ کہلائے جاسکتے ۔ ظاھریت کو ادارے کا شرط قرار دینا محض سیاسی نابالغی بھی نہیں بلکہ دانستہ طور پر باقیوں کو بھی اس کیچڑ میں کھینچ کر میلہ کرنا ہے جس میں وہ خود اٹے ہوئے ہیں اور سنگین نقصانات کا موجب بنتے جارہے ہیں ۔ بالفرض اگر حیربیار کسی ادارے کا حصہ نہیں بلکہ ایک فرد کی حیثیت سے کام کررہے ہیں تو پھر ہمیں ان کے دیوتائی صلاحیتوں کا لوہا ماننا ہوگا کہ وہ ایک شخص ایک طرف پوری ایک تنظیم کامیابی کے ساتھ دو دہائیوں سے چلا رہے ہیں اور دوسری طرف بیرون ملک ایک انتہائی
موثر سفارت کار کی حیثیت سے بھی فرائض سر انجام دے رہے ہیں ، اسی طرح وہ تن تنہا تنظیم کو اندرونی خلفشار سے نکال کر واپس ایک مضبوط پوزیشن میں کھڑا کردیتے ہیں اور باقی درجن بھر تنظیموں اور لیڈروں سے اصولی اختلاف رکھ کر تنہاسامنے کھڑے ہوجاتے ہیں ، سب سے بڑھ کر یہ کہ آج جتنی بھی عسکری و غیر عسکری تنظیمیں وجود رکھتے ہیں ان سب کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے میں سنگت حیربیار کا سیاسی ، اخلاقی ، عسکری اور مالی کمک شامل ہوتا ہے ۔ یقیناًسنگت حیربیار قائدانہ صلاحیتوں کے مالک ہیں لیکن وہ ایک فرد نہیں بلکہ ایک ادارے کے سربراہ کے حیثیت سے اور ایک ادارے کے پالیسیوں کے تحت ہی یہ فرائض سر انجام دیتے رہے ہیں اب ضروری نہیں کے ان اداروں کی ساخت یا طریقہ کار ان رایتی طریقوں پر استوار ہو جو ہمیں سمجھ آتا ہے ، یہ بھی ضروری نہیں کے جو ہمیں سمجھ نہیں آتا وہ وجود نہیں رکھتا ۔
*۔ پرامن جمہوری جدوجہد
بی ایس او آزاد کے متنازعہ مغوی چیئرمین زاہد بلوچ کی ریاستی اداروں کے ہاتھوں اغواء کے بعدبی ایس او آزاد ایک مشکوک طریقے سے اچانک پر امن جمہوری جدوجہد اور عدم تشدد کا نعرہ لگانے لگا ۔ اس دوران بی ایس او کا موقف بلوچوں کے اس دیرینہ موقف کے منافی رہا اور تردید کرتا رہا جو ہمیشہ سے بلوچ مسلح محاذ کا جواز رہا ہے یعنی بی ایس او آزاد نے نا صرف بلوچ مسلح مزاحمت کی اعلانیہ حمایت چھوڑ کر پر امن جمہوری جدوجہد اور عدم تشدد کا دم بھرنے لگا بلکہ اسی ضمن میں پاکستانی برینڈ کے سوشلسٹ جماعتوں سے تعلقات استوار کرکے مشترکہ پروگرام بھی کرنے لگی یہاں سے دانستہ طور پر یا نا دانستہ طور پر ایک ایسا مفروضہ قائم ہوگیا جو بلوچ مسلح جدوجہد کی نفی کررہا ہے یعنی یہ مغالطہ سیاسی کارکنان میں عام ہوگیا کہ جو سرفیس پر جلسے جلوس کرتی ہے وہ سیاست ہے اور جو بندوق ہاتھ میں لیئے لڑرہا ہے وہ تشدد یا جنگ ہے۔یہاں اس بات کی وضاحت لازم ہے کہ بلوچ مسلح جدوجہد اس دلیل کے ساتھ چل رہی ہے کہ پاکستان ایک غیر جمہوری ملک ہے ، جس نے پر امن سرفیس یا کھلی سیاست کی راہیں مسدود کردی ہیں ، یہاں پر امن طریقے سے اٹھائے گئے آواز کو نا صرف ان سنی کی جاتی ہے بلکہ اسے بندوق کے زور سے خاموش کیا جاتا ہے ، ہمارے سینکڑوں پر امن سیاسی کارکنان کو شہید اور ہزاروں کو اغواء کیا جاچکا ہے ، اسی لیئے ہم نے مجبوراً پر امن سیاست یا جدوجہد کا راستہ چھوڑ کر مسلح سیاست یا جدوجہد کا راستہ اپنایا ہے تاکہ ہم بندوق کے آواز سے اپنی بات سنا سکیں اور اپنا تحفظ کرسکیں ۔ اس کے ساتھ یہ جواز بھی کہ بلوچستان پر قبضہ بھی پاکستان نے اسلحہ و ٹینکوں کے زور پر ممکن بنایا اب اپنے سرزمین کے دفاع اور دشمن کو نکالنا اس غیر جمہوری قابض ملک میں احتجاجوں سے ممکن نہیں اسلئے سر زمین کے دفاع اور قبضہ ختم کرنے کیلئے بندوق کا سہارا لیا گیا ۔ یعنی آج بلوچ کے ہاتھ میں جو بندوق ہے اور اس سے چلنی والی گولی بھی سیاست ہے اور سیاسی مقاصد رکھتی ہے اور یہی دلیل بلوچ مسلح محاذ کو دہشتگرد ی نہیں بلکہ دفاع ثابت کرتی ہے ، ایک مسلح جہد کار کو دہشت گرد سے انقلابی بناتی ہے ۔ یعنی اگر آج بی ایس او عدم تشدد کا دم بھر کر رحم کی اپیلیں کررہا ہے تو پھر وہ اس مسلح محاذ کا دفاع کیسے کرسکے گا جو عدم تشدد کے سیاست کو نا ممکن قرار دیکر اپنے پرتشدد سیاست کو جواز فراہم کرتا رہا ہے ، جو پہلے سے اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ پاکستان میں پر امن جمہوری جدوجہد ناممکن ہے اسلئے ہم نے ہتھیار اٹھایا ہوا ہے اور اگر آزادی کے کھلم کھلا موقف اور مسلح محاذ کی حمایت پر بی ایس او کمپرومائز کرکے سرفیس سیاست کرتی بھی ہے تو پھر اس سیاست کی کیا ضرورت وہ تو بی این پی اور نیشنل پارٹی کے طلباء ونگ پہلے سے کررہے تھے ، یعنی بی ایس او اگر حقیقی سیاست کرنا چاہتی ہے تو وہ مسلح محاذ کے پرتشدد راستے کا دفاع کرکے ہی اس پر گامزن ہوگا اور مسلح محاز کے دفاع کی صورت میں وہ روایتی سرفیس سیاست نہیں کرسکتی ، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کے بجائے وہی روایتی سیاست کے نقش قدم پر چلنے کیلئے بی ایس او اپنے حقیقی موقف اور پوزیشن سے دستبردار ہوسکتی ہے مطلب یہ کہ اس وقت یا بی ایس او ظاھری سیاست کرسکتی ہے یا سچ اور حقیقت کی سیاست اور بی ایس او اپنے لیئے اول الذکر کا چناو کررہا ہے پھر ظاھر ہے وہ سچ اور حقیقت سے کٹ جائے گا اور اگر بی ایس او اس سے کٹ جاتی ہے تو پھر بی ایس او کے سو زون ہوں یا ہزاروں کارکنان ، لاکھوں کے جلسے کرے یا کروڑوں کا چندہ جمع کرے وہ قومی تحریک کیلئے بے سود بلکہ نقصاندہ ہی ثابت ہوگا ، کم از کم میں بی ایس او کی موجودہ اصولی موقف سے روگردانی کو مشکوک نظر سے دیکھ رہا ہوں مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستانی خفیہ ادارے غیر محسوس انداز میں بی ایس او کے اندر بلوچ طلباء کی صورت میں داخل ہوچکے ہیں اور اب اسکے پالیسیوں پر اثر انداز ہورہے ہیں کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ سینکڑوں فرزند مارنے کے باوجود بی ایس او کو ریاست ختم نہیں کرسکا لیکن اگر ریاست آسانی سے بی ایس او کے موقف کو بدل دے تو یہ از خود اسکی موت ہے ۔ بہت سے سیاسی کارکنان نادانستہ طور پر بھی اس مغالطے کا شکار ہیں اور بلوچ مسلح جدوجہد کو سیاست سے الگ کرکے دیکھتے ہیں ۔ نقطہ نظر اور ضرورت کے حساب سے اس جدوجہد کو عسکری و غیر عسکری ، سرفیس و انڈر گراونڈ ، مسلح و غیر مسلح سیاست کے نام سے پکارا یا تقسیم کی جاسکتا ہے لیکن روڈوں پر نعرے لگانے والا کوئی کارکن ہو یا پہاڑوں پر بندوق اٹھایا ہوا کوئی سرمچار دونوں بلوچ آزادی کی سیاست کررہے ہیں اور دونوں ہی سیاسی کارکن ہیں
*۔ اتحاد
سنگت حیربیار اور اسکے فکری رفقاء بلوچ سیاست میں جو اصولی اختلاف رکھتے ہیں اس کا اظہار وہ نا صرف شروع دن سے کرتے آئیں ہیں بلکہ سوشل میڈیا میں اس کی تشریح و جواز بھی بارہا بیان ہوچکی ہے ،یہاں انکی مزید وضاحت ضروری نہیں لیکن ان اختلافات اور انکے طریقہ اظہار کو لیکر یار لوگ شروع سے ایک اور مفروضہ گھڑ کر بلوچ عوام میں مغالطہ پیدا
کررہے ہیں کہ سنگت حیربیار اور اسکے رفقاء بلوچ سیاست میں اتحاد کے خلاف ہیں یا اتحاد توڑنا و انتشار پھیلانا چاہتے ہیں لیکن حقائق اس مفروضے کے بالکل برعکس ہیں سنگت حیربیار شروع دن سے ہی گروہیت کی نفی کرتے ہوئے بلوچ سیاست میں اجتماعیت کے قائل رہے ہیں جو اسکے طرز عمل سے بھی واضح ہوتا ہے ۔آج جس طرز اتحاد کی باتیں ہورہی ہیں وہ یہ ہیں کہ مختلف تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر جوڑ کر جدوجہد کیا جائے ، لیکن سنگت حیربیار کا شروع سے ہی موقف یہ رہا ہے کہ جدوجہد کا بنیاد ہی قومیت و اجتماعیت پر ہو ایسے گروہ ہی تشکیل نہیں دیئے جائیں کے جن کو بعد میں جوڑنے کی ضرورت پڑے ، یعنی ضروریات کے مطابق پارٹی یا تنظیم ضرور بنائے جاتے لیکن ہر ایک کا راستہ و فکر الگ نہیں ہوتا ، سب الگ الگ ملکیت کے دعویدار نہیں بلکہ ایک موقف کے اظہار کے مختلف طریقے ہوتے ، اگر ایسا ہوتا تو آج اتحاد کی باتیں دور کی بات اسکی ضرورت ہی نہیں ہوتی ۔ سوال یہ نہیں ہے کہ اتحاد کیسے اور کیوں قائم کی جائے حقیقی سوال تو یہ ہے کہ ہم اتنے ٹکڑوں میں بٹے کیسے کہ آج اتحاد کی ضرورت پڑے ؟ اس سوال کے جواب کے بعد میرے خیال میں راستہ مزید واضح ہوجاتا ہے ۔ ابتداء میں جب تحریک کا آغاز ہوا تو صرف بی ایل اے وجود رکھتی تھی لیکن بعد ازاں جو بھی بلوچ جہد کرنے میدان عمل میں آیا اسکے جدا شناخت و حیثیت کے باوجود اسکی پوری مدد کی گئی اگر حیربیار گروہیت کے قائل ہوتے تو پھر بی ایل اے کے سوا کسی اور تنظیم کو پنپنے کیوں دیتے ؟ اسی طرح جب برہمداغ بگٹی بی آر اے بنانا چاہتے تھے تو اسے باقاعدہ پیشکش ہوئی کے علیحدہ تنظیم کے بجائے آپ بی ایل اے کی قیادت سنبھالیں ، اسی طرح بلوچستان لبریشن چارٹر پر غور کیا جائے تو وہ کیا ہے ؟ وہ بھی تمام بلوچوں کو اکھٹا رکھنے اور ایک موقف پر لانے کی کوشش ہے ، تیرہ نومبر کا تمام شہداء کو بلا تفریق گروہ ایک ساتھ یاد کرنے کیلئے حیربیار کی طرف سے یا مشورے سے مختص ہوا، بی ایل اے کا بیرک جب عام ہوا تو وہ بلوچستان کا بن گیا بی ایل اے نے اس پر اپنا گروہی دعویٰ نہیں کیا ، یہاں تک کے بقولِ بشیر زیب بلوچ 2010 میں جب وہ اتحاد کیلئے ڈاکٹر اللہ نظر کے پاس گئے تو اس حد تک راضی ہوئے کہ اگر ڈاکٹر اللہ نظر چاہتے ہیں تو اتحاد کے بعد بی ایل اے کا نام ختم کرکے صرف بی ایل ایف کے نام سے جہد کیا جائے گا ۔ جب بی این ایف کا قیام عمل میں آتا ہے تو اسکاحصہ نا ہونے کے باوجود اسکے سب سے بڑے حمایتی حیربیار ہوتے ہیں حتیٰ کے ان اختلافات اور تضادات کے بیچ میں بھی ان مسائل کو حل کرنے کے خاطر چند ماہ پہلے تک سنگت حیربیار اتحاد کے غرض سے مھران مری اور براہمداغ بگٹی سے ملنے جنیوا جانے تک راضی ہوتے ہیں غرض آپ سنگت حیربیار کے ہر عمل کو پرکھیں آپ کو اس میں اجتماعی اور قومی سوچ نظر آئے گی حتیٰ کے وہ اپنے پوزیشن تک کو گھٹاتے ہوئے ڈاکٹر اللہ نظر کو لیڈر اور خود کو محض بیرونی ملک ایک ادنیٰ سیاسی کارکن و سفارت کہتے رہے ، آج اگر سوشل میڈیا پر تنقید و سوال کا جو سلسلہ چل رہا ہے اس سے بھی نا انکے گروہ کو کوئی فائدہ ہوگا نا اسکے شہرت میں اضافہ بلکہ اسکا مطمع نظر ہی یہی ہے کہ ہمیں اگر گروہی لحاظ سے کوئی نقصان ہوتا ہے پرواہ نہیں لیکن قومی مسائل کے بابت خاموشی اختیار نہیں کی جائے لیکن شروع سے ہی نا صرف سنگت حیربیار کے اجتماعیت کی کوششوں کو رد کیا گیا بلکہ باقی سب کی کوشش ہمیشہ سے یہی رہی کہ اپنے اپنے گروہوں اور لیڈروں کے قد و کاٹ میں اضافہ کیا جائے ۔لیکن یہاں ایک سوال بھی اٹھتا ہے کہ اگر سنگت حیربیار اتحاد پر راضی ہیں اور باقی سب اپنے اخباری بیانوں میں اتحاد کی باتیں کرتی رہتی ہیں اور ہاتھوں کی زنجیر بناکر اتحاد کا تصویری مظاھرہ بھی کرتی ہیں تو پھر اس اتحاد کے سامنے رکاوٹ کیا ہے؟یہاں سب سے پہلے ان موقفوں کو سمجھنا پڑے گا کہ کون کیسا اتحاد چاہتا ہے ، سنگت حیربیار کا موقف یہ رہا ہے کہ ایسا اتحاد قائم ہو جس میں گروہیت کی نفی ہو ، اگر ایک اتحاد میں رہنے کے باوجود ہر گروہ اس کوشش میں رہے گا کہ میرا نام زیادہ چمکے یا مجھے زیادہ فائدہ حاصل ہو تو پھر اس کا انجام ماضی کے اتحادوں کی طرح ہوگا ، اتحاد کو کچھ اصولوں سے نتھی کیا جائے تاکہ اسے کوئی توڑ نا سکے ، اتحاد کا مطلب صرف پارٹیوں کو باندھ کر رکھنا نا ہو بلکہ اسکا مطلب و مقصد سوچ اور طرز عمل میں اجتماعیت و قومیت ہو لیکن یار لوگوں کا اتحاد کا خواب مختلف ہے پہلے تو یہ اتحاد کی باتیں اور ہاتھوں کی زنجیر بنانا خواہش سے زیادہ مجبوری ہیں یہ اس دباو کا نتیجہ ہے جو سوشل میڈیا پر تنقید کی صورت میں سامنے آرہی ہے در حقیقت کوئی بھی اپنے گروہی حیثیت کو قربان کرنا نہیں چاہتا ہر کسی کا خواہش ہے کہ اسکا اپنا گروہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جائے اور باقی تنظیمیں کمزور ہوں اب بادل نخواستہ اتحاد کرنا بھی پڑے تو ان کے ذہن میں اتحاد کا خاکہ پارلیمانی جماعتوں کے الیکشنوں کی اتحاد جیسی ہے جہاں لیڈران ایک اسٹیج پر ساتھ بیٹھے تو ہوتے ہیں لیکن سب کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ اتحاد کی وجہ سے آنے والی ہجوم سے ہر کوئی اپنے گروہ کیلئے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائے ، غرض یار لوگوں کے اتحاد کا مقصد ہی ایک عارضی تنقید کو روکنا اور ساتھ میں اپنے گروہیت کو بھی جاری رکھنا ہے وہ کبھی بھی حقیقی اتحاد پر نا پہلے راضی تھا اور نا اب ہے ،لیکن بلوچ عوام کے بڑھتے دباو کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ یہ مفروضہ گھڑ کر مغالطہ پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ حیربیار اتحاد کے خلاف ہے یہ صراصر جھوٹ اور لغو ہے
*۔فیس بک پر ہتک آمیزی
میں مختصراً ایک اور مغالطے کی تشریح اور وضاحت کرنا چاہوں گا جسے بہت تیزی سے بلوچ عوام میں پھیلایا جارہا ہے، وہ یہ کہ فیس بک پر سنگت حیربیار اور اسکے ساتھی دشنام طرازی ، گالیوں اور ہتک آمیزی کا مظاھرہ کررہے ہیں ، یہ سراسر جھوٹ اور الزام ہے ۔ فیس بک کو حیربیار کے فکری رفقاء نے اسلئے چنا کیونکہ یہ بلوچ عوام سے رابطے کا فوری اور محفوظ طریقہ تھا، اس ضمن میں ضرور روایتی احترام اور لحاظ کا خیال نہیں رکھا گیا اور بابا خیربخش مری سے لیکر ایک مجھ جیسے ادنیٰ سیاسی کارکن تک سب پر سوالات اٹھائے گئے لیکن ان تمام سوالات
کی نوعیت مکمل طور پر سیاسی اور قومی معاملات سے جڑے ہیں لیکن یار لوگوں کا شروع سے یہ کوشش رہی ہے کہ کسی بھی طور اس عمل کو روکا جائے تاکہ انکے منفی اعمال کبھی منظر عام پر نا آسکیں اسی ضمن میں ایک طرف وہ لیڈروں اور پارٹیوں کے بیانات میں لوگوں سے دور رہنے اور کا مشورہ دیتے رہے اپنے کارکنوں پر پابندی لگاتے رہے تو دوسری طرف اس تنقیدی سلسلے کو روکنے کیلئے ایک قبیح عمل کا مرتکب یوں ہوئے کہ مختلف فرضی آئی ڈی تشکیل دیکر گالیوں اور ہتک آمیزی کا بازار گرم کرتے رہے تاکہ ماحول کو پراگندہ کرکے یہ تاثر دیا جاسکے کہ فیس بک پر غیر سنجیدہ لوگ باتیں کررہے ہیں اسلئے ان پر توجہ نا دی جائے ، یہ محض ایک منفی سیاسی حربہ تھا اب اپنے اسی قبیح عمل کو جواز بناکر وہ مسلسل الزام فکری دوستوں پر دھر رہے ہیں تاکہ اس عمل کو متنازعہ بنایا جاسکے حالانکہ جو شخص بھی فیس بک باقاعدگی سے دیکھ رہا ہے وہ جانتا ہے کہ حیربیار کے فکری رفقاء ایک سنجیدہ بحث آگے لیجارہے ہیں اور یہ ہتک آمیزی مخالف سمت سے انکے جواب میں آرہا ہے ۔ یار لوگوں کے اس منفی سیاسی حربے سے تنقید و سوال کا سلسلہ تو نہیں رکے گا لیکن بلوچ عوام کو اپنے پرکھ کا معیار بہتر کرکے اس قبیح سیاسی حربے اور ان مفروضات کو پہچاننا ہوگا تاکہ ہم کسی مغالطے کا شکار ہوئے بغیر سچائی تک پہنچ سکیں ۔جب کسی عمل یا کمٹمنٹ کا بنیاد کسی مفروضے یا مغالطے پر ہوگی تو وہ بالآخر انتشار ، تضاد اور مایوسی پر ہی منتج ہوگی ، مندرجہ بالا مفروضات و مغالطوں کو دانستہ طور پر گھڑنے کا مقصد موجودہ اختلافات کے حقیقت اور وجود سے انکاری ہوکر اپنے گناہوں پر پردہ ڈالنا رہا ہے لیکن اگر ہم اپنے بلوچ سیاست کا کلی تجزیہ کریں تو ہمیں ایسے مفروضات و مغالطوں کے انبار نظر آتے ہیں ، یعنی بابا مری ، ڈاکٹر اللہ نظر اور براہمداغ بگٹی کو ہم آج جن القابات اور جس حیثیت سے نوازتے ہیں کیا واقعی انکا کردار اتنا ہی تھا یا ہے ؟ یا پھر ہم نے مفروضات قائم کیئے ہوئے ہیں ؟ ۔ موجودہ بی این ایم کو غلام محمد کا پارٹی سمجھنا کہیں کوئی مغالطہ تو نہیں ؟ کیونکہ آج بی این ایم جن کے ہاتھوں میں ہے یا جس سوچ کے تحت چل رہی ہے غلام محمد تو پوری زندگی پارٹی کے اندر بھی ایسے لوگوں کے خلاف ایک الگ جہد میں مصروف تھے ۔ بی ایس او کے بارے میں یہ مفروضہ عام ہے کہ بی ایس او تحریک کا ہر اول دستہ اور ریڑھ کی ہڈی ہے لیکن بی ایس او کے قیام کے بعد آزادی کی دو بڑی تحریکیں چلتی ہیں اور دونوں کے آغاز میں بی ایس او کا کردار صفر ہوتا ہے ، پھر بھی ہر اول دستہ ؟ کیا موجودہ تحریک میں بلوچ طلباء میں شعورآزادی پھیلانے والے ڈاکٹر اللہ نظر تھے یا کچھ ایسے گمنام
نام ہیں جو آج تک خود کو ظاھر نہیں کررہے اور ڈاکٹر اللہ نظر بس صحیح موقع پاکر صرف سامنے آنے والے اور نظر آنے والے تھے ؟73 کے تحریک کے ناکامی کے جو اسباب و علل آپ اور مجھ تک پہنچے وہ حقیقت ہیں یا پھر مفروضات ؟کامیابی کے آفاقی شرائط ہوں یا پھر فطری و سائنسی اصول ہمیں ایک چیز سکھاتی ہیں کہ صحیح انجام کیلئے صحیح آغاز و صحیح راستہ ہی شرطِ لازم ہیں ، جب تک ہم ان مفروضات اور مغالطوں کے دنیا سے باہر نہیں نکلتے تب تک ہم نا صحیح آغاز کرسکتے ہیں اور نا ہی صحیح راستہ اختیار کرسکتے ہیں ، اس تنقید سلسلے کا مقصد بھی اور کچھ نہیں سوائے اسکے کہ صحیح و غلط ، سچ و جھوٹ اور حقیقت و مفروضات کو الگ الگ کرکے سامنے رکھا جائے جنہیں مفاداتی سیاسی شعبدہ بازوں و طالع آزماوں نے اس حد تک مدغم کیا ہوا ہے کہ ہم انکے بیچ فرق کرنے سے قاصر ہیں ، جب یہ الگ الگ ہونگے اور انکی پہچان ہوجائیگی پھر نا کامیاب و صحیح راستہ ہمارے نظروں سے اوجھل ہوگی اور نا ہی منزل دور ہوگی

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0