مغرب نے دوست بن کر دھوکہ دیا۔اردگان

ہفتہ 15 جولائی, 2017

استنبول(ہمگام نیوز) ترکی میں گذشتہ برس ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کا ایک سال پورا ہونے کے موقعے پر مختلف تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ اس واقعے میں کم از کم ڈھائی سو افراد ہلاک اور دو ہزار سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اس موقعے پر ترک صدر طیب اردوغان نے مغربی ممالک پر منافقت کا الزام عائد کیا۔ برطانوی اخبار گارڈین میں چھپنے والے مضمون میں انھوں نے کہا ان ممالک نے ترکی کی دوستی کو دھوکا دیا اور یہ انتظار کرتے رہے کہ بغاوت کا کیا نیتجہ نکلتا ہے۔ انھوں نے کہ کچھ ممالک نے تو فتح اللہ گولن کے ساتھیوں کو پناہ تک دے دی۔ انھوں نے بغاوت کی ناکامی کے بعد بڑے پیمانے پر ہونے والی گرفتاریوں پر کی گئی تنقید کو مسترد کرنے ہوئے کہا کہ یہ ناکامی جمہوریت کی تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ صدر اردوغان کی حکومت کا تختہ الٹے سے بال بال بچا تھا اور آج وہ عین اسی وقت پارلیمان سے خطاب کریں گے جب گذشتہ برس یہ بغاوت ہوئی تھی۔ فوج کے ایک حصے نے صدر رجب طیب اردوغان سے اقتدار چھیننے کی کوشش کی تھی جو ناکام رہی۔ اس کے بعد سے حکومت نے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ لوگوں کو سرکاری ملازمتوں سے نکال دیا ہے اور یہ سلسلہ آج ایک برس پورا ہونے کے بعد بھی جاری ہے۔ ترک حکومت اس الزام کو مسترد کرتی ہے کہ یہ برطرفیاں سیاسی ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ بغاوت کا حامیوں کو نکال باہر کرنا چاہتی ہے۔ تاہم ان برطرفیوں اور 50 ہزار سے زیادہ لوگوں کی گرفتاریوں نے حزبِ اختلاف کو مزید تحریک دے دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اردوغان اس بغاوت کے بعد ابھرنے والے جذبات کا فائدہ اٹھا کر اپنے سیاسی مخالفین کا قلع قمع کرنا چاہتے ہیں۔
گذشہ ہفتے لاکھوں افراد نے استنبول میں اکٹھے ہو کر حکومت کے خلاف 450 کلومیٹر طویل ‘انصاف مارچ’ میں حصہ لیا تھا۔ اس مارچ کے منتظم اور حزبِ اختلاف سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنما کمال کلیچ داروغلو نے بغاوت کی مذمت کی مگر کہا کہ اردوغان نے اس کے بعد سے ایک اور ‘بغاوت’ شروع کر رکھی ہے۔ صدر نے اس مارچ میں حصہ لینے والوں کو دہشت گردی کے حامی قرار دیا تھا۔ اس دن کو سالانہ قومی تعطیل کے طور پر منانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ صدر اردغان استنبول میں باسفورس کے پل پر ایک جلسے سے خطاب کریں گے۔ اسی مقام پر گذشتہ برس لوگوں نے باغی فوجیوں کا راستہ روکا تھا۔ ترک حکام الزام عائد کرتے ہیں کہ اس ناکام بغاوت کے پیچھے امریکہ میں مقیم مذہبی رہنما فتح اللہ گولن کا ہاتھ ہے۔ فتح اللہ گولن اس الزام سے انکار کرتے ہیں۔ امریکی حکومت نے بھی ترکی کے اس مطالبے کو تسلیم نہیں کیا کہ گولن کو ترکی کے حوالے کیا جائے۔ استنبول میں جگہ جگہ بڑے بورڈ لگے ہیں جن میں لوگوں کو فوج سے نبرد آزما ہوتے دکھایا گیا ہے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0