ممبئی دھماکوں کے لیے 12 افراد مجرم قرار دے دیے گئے

جمعہ 11 ستمبر, 2015

ممبئی (ہمگام نیوز)بھارت کے تجارتی مرکز ممبئی میں سنہ 2006 میں ہونے والے تباہ کن بم حملوں کے لیے 12 افراد کو مجرم قرار دیا گیا ہے۔
ممبئی کی ایک خصوصی عدالت نے 13ویں ملزم عبدالواحد شیخ کو بری کر دیا ہے جبکہ باقی مجرموں کو پیر کے روز سزائیں سنائی جائیں گی۔
یہ حملے 11 جولائی 2006 کو کیےگئے تھے اور ان میں بیک وقت سات مقامی ٹرینوں کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نیتجے میں 189 افراد ہلاک اور 800 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔
دھماکے مضافاتی ٹرینوں کے پہلے درجے کے کمپارٹمنٹ میں رکھے گئے پریشر ککر بموں سے کروائے گئے تھے.
سماعت کے بعد سرکاری وکیل نے عدالت کے باہر موجود نامہ نگاروں کو بتایا، ’12 ملزمان کو مکوکا کے تحت مجرم پایا گیا ہے۔ اس میں موت کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ سزا کے بارے میں پیر کو بحث ہوگی، اس کے بعد فیصلہ سنایا جائے گا۔‘
جن لوگوں پر جرم ثابت ہوا ہے ان میں کمال احمد انصاری، تنویر احمد انصاری، محمد فیصل شیخ، احتشام صدیقی، محمد ماجد، شیخ عالم، محمد ساجد، مزمل شیخ، سہیل محمود، ضمیر شیخ، نوید حسین اور آصف خان شامل ہیں۔
اس مقدمے کی سماعت گزشتہ برس اگست میں مکمل ہو گئی تھی۔
کیس کی تفتیش مہارشٹر کے انسداد دہشت گردی کے محکمے نے کی تھی جس کا الزام تھا کہ ان حملوں کی سازش میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور ممنوعہ تنظیم لشکر طیبہ کا ہاتھ تھا۔
معاملے کی تحقیقات کرنے والے ممبئی اے ٹی ایس کے سابق سربراہ كے پی رگھوونشی نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’جن کی جانیں گئی تھیں، جو زخمی ہوئے تھے اور جو بہت سے خاندان برباد ہوئے تھے، انھیں انصاف مل گیا۔‘
انھوں نے کہا کہ اے ٹی ایس نے صرف ان لوگوں پر ہی الزامات عائد کیے تھے جن کے خلاف ثبوت ملے تھے۔
استغاثہ نے بڑی حد تک ملزمان کے اقبالیہ بیانات کی بنیاد پر اپنا مقدمہ تیار کیا تھا لیکن ملزمان نے بعد میں عدالت میں کہا کہ ان سے زبردستی اقبال جرم کرایا گیا تھا۔
وکیل صفائی وہاب خان کا کہنا تھا کہ ملزمان کے اقبالیہ بیانات کے کئی حصے بالکل ایک جیسے تھے جن سے شبہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ فرضی تھے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0