موجودہ حالات اور ہم ، تحریر: حفصہ نصیر بلوچ


موجودہ حاالت میں بلوچ قوم اپنی قربانیوں کی وجہ سے منزل کی طرف کامیابی سےرواں دواں ہے، جبکہ دشمن ریاست اپنی
پوری کوشش میں لگا ہوا ہے کہ آزادی کی اس تحریک کو کسی نہ کسی طرح سے کچل کر ختم کیا جاسکے. لیکن دشمن ریاست اپنی تمام ناکام حربوں سے بلوچ کی آزادی کی قومی تحریک کو نہ دبا سکی اور نہ ہی ختم کرسکی.

پچھلے کئی دنوں سے کوئٹہ، کراچی اور بلوچستان کی دیگر علاقوں سے بلوچ خواتین اور کمسن بچوں کی گرفتاری کے بعد لاپتہ کردینا بھی پاکستانی ریاست کی بلوچ تحریک کو ختم کرنے کی گٹھیا چالوں میں سے ایک چال ہے. اور یہ سلسلہ کچھ دنوں سےزوروں سے جاری ہے.2002 سے لیکر آج تک 20,000 بلوچ نوجوان دشمن فوج کے ہاتھوں لاپتہ نہیں بلکہ قابض کی حوالےکئے گئے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں شہید کئے گئےہیں دشمن ریاست بلوچ قومی تحریک میں سرگرم بلوچ سیاسی کارکنوں کی مسلسل جدوجہد سے خوفزدہ ہوچکا ہے اور اوچھے ہتکنڈوں کے زریعے بلوچ خواتین و بچوں کو نشانہ بنا کر تحریک کو کمزورکرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے. مگر بلوچ فرزند خواتین ہوں یا بچے ایسی غلیظ حرکتوں سے نہ تو خوفزدہ ہوئیں ہیں اورنہ ہی یہ تحریک کمزور ہوئی ہے بلکہ اس کے باوجود آزادی پر ایمان مزید پختہ ہوئی ہے.

قومی آزادی کی تحریک کے حصول کے لیے ہزاروں بلوچ دشمن کے زندانوں میں غیر انسانی تشدد سہہ رہے ہیں اور پورے
بلوچستان میں فوجی آپریشن کا خونی سلسلہ، گھروں کو جلانا، جوان،بوڑھے، خواتین، بچوں کو پکڑ کر مار گرانا روزانہ کا معمول بن چکا ہے. بلوچ قوم کے لیے ایسا کوئی دن نہیں کہ جس دن اس کی سرزمین کی آزادی کے خاطر کوئی بلوچ شہید نہ ہوا ہو یا دشمن ریاست کی فوج کی درندگی و بربریت کا شکار ہوکر لاپتہ نہ ہوا ہو. بلوچ شہدا کی قربانیاں اور ان نوجوان فرزندوں کی قربانیاں جن میں ہماری مائیں بہنیں جو اپنے بھائیوں کے ہمراہ ان کے ساتھ نہ صرف قدم بہ قدم کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہیںبلکہ وہ زندانوں میں قید و بند کی صورت میں اذیتیں بھی برداشت کر رہی ہیں اور دشمن ریاست ایسی بہادر بلوچ خواتین کی سرگرم عمل سے خوفزدہ ہو کر انہیں قومی تحریک سے کنارہ کش کرنے کی کوشش میں اغوا و لاپتہ کر رہا ہے
تاکہ یہ تحریک دم تھوڑ دے مگر جس قوم کی مائیں بیٹوں کے سروں پر اپنے ہاتھوں سے کفن باندھ کر دشمن کے سامنے لڑنےکو بیجھتی ہو تو ایسی قوموں کی تحریک دم نہیں تھوڑتی بلکہ دشمن کی دم نکال دیتی ہے.

اب دشمن اپنی سب سے بڑی اور آخری چال بلوچوں کو آپس میں دست گریبان کرنے کی چال چلے گا جو کہیں سالوں سے چالتےآرہا ہے اور اب بھی چال رہا ہےکہ ان کی اتفاق و اتحاد کبھی نہ ہوسکے کیونکہ دشمن جانتی ہے اس کی شکست بلوچ قوم کی اتحاد میں یقینی ہے. آج بلوچ قوم جس نازک دور سے گزر رہی ہے آج آپس کی آختالفات ختم کرنے اور اتحاد و اتفاق کی جتنی ضرورت آج ہے شاہد پہلے نہ تھی بلوچ کی ننگ و ناموس بلوچ گھروں کی چادر و چاردیورای کی پامالی خواتین کی عزت وگیرت کی پامالی کو روکنے کے لیے متحد ہوکر دشمن کو شکست دینا ہے اور یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی ہم کیوں اپنی تمام ترسیاسی و اجتماعی قوتوں کو یکجا کر کے اپنی یکجہتی اور اتحاد کا مظاہرہ نہیں کرتے جس میں ہماری کامیابی اور دشمن کی شکست یقینی ہے.

آج، میں، آپ، وہ، یہ سب ایک ہی مقصد دشمن ریاست سے نجات آزادی حاصل کرنے کے لیے جہد کر رہے ہیں مگر کس فردنے انفرادی عمل سے آزادی جیسی مقدس مقصد حاصل کی ہے؟ آج تک تاریخ میں ایسی کوئی قوم نہیں جو انفرادی عمل سےوجود میں آئی ہو. ہاں انفرادی عمل ایک حد تک آپکو فائدہ پہنچا سکتا ہے مگر اصل مقصد تک آپ کو نہیں پہنچاتا اگر میں، آپ،وہ، یہ ان سب کو یکجا کر کے ان انفرادی عمل کو ہم اجتماعی عمل میں تبدیل کریں تو اپنے مقصد کو ہم آسانی سے ہی نہیں بلکہ بہت جلد حاصل کر سکتے ہیں.