مکران میں نئی خوفناک صف بندیاں : تحریر ساکا خان بلوچ

اتوار 15 نومبر, 2015

مکران میں طاقت کی رسہ کشی نے نہی صف بندیوں کو جنم دیا ہے. بی ایل ایف اور بی آر اے کے سرکش باغیوں نے کم معاوضہ ملنے کے خلاف اپنے تنظیموں کو خیرباد کہکر لشکر بلوچستان میں ڈهیرا ڈال دیا ہے. منشیات سے بهری گاڑیوں اور ڈیزل کی ٹیکس سے برامد خطیر رقم کی غیر منصفانہ بندر بانٹ سے تنگ آکر بی ایل ایف کے جراہم پیشہ عناصر نے اپنی جداگانہ حیثیت قاہم رکهنے کیلیے لشکر بلوچستان جواہن کیا ہے. دوسری طرف بی ایل ایف اور بی آر اے میں موجود مجرمانہ کار رواہیوں کے مرتکب افراد کو یہ سب کچه قبول نہیں. اس لیے خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں مکران میں ایک خوفناک صف بندی ابهر کر سامنے آہیگی. جبکہ بی ایل ایف اور دیگر تنظیموں کے سرینڈر شده عناصر بهی منشیات اور ڈیزل کے کار و بار میں خود کو حصہ دار سمجهتے ہیں. جنکو سرکار کی سر پرستی بهی حاصل رہیگی. قلات خضدار نوشکی کے بعد پنجگور میں بهی مزہبی انتہا پسندی کو ہوا دی جارہی ہے. اور آنے والے دنوں میں جمعیت اور دیگر مدارس کے طلبا کو قومی تحریک کے خلاف کهلم کهلا فری ہینڈ دیا جاہیگا. شفیق، سراج، مقبول اور راشد پٹهان تو ثنا زہری کی حکومت کے منتظر ہیں. یوں ثنا زہری وزارت اعلی پر تخت نشین ہونگے ڈیته اسکواڈ کو ایف سی کے بی ٹیم کے طور پر میدان میں چهوڑ دیا جاہیگا. نواز حکومت اور آرمی بلوچوں کو آپس میں دست و گریباں کرکے اپنے تمام مکرو و ناپاک عزاہم کو تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کریگی. ایسے میں کوئ ایسی فورم یا اداره نہیں جہاں ان تمام پیشبندیوں کو ناکام بنانے کی حل موجود ہو

ایک طویل عرصے سے جاری تنقیدی عمل اپنی منطقی انجام تک پہنچنے کو ہے. گزشتہ چه سال سے جس کوفت و عزاب کی راه روکنے کیلیے شور وواویلا مچایا جا رہا تها . بلآخر وه بیماری وبا کی شکل اختیار کرچکی ہے.اور دوستوں کی خدشات و تحفظات ایک ایک کرکے سچ ثابت ہوتے جا رہے ہیں مکران میں جب بی ایل ایف اور بی آر اے کی عوام دشمن و تحریک مخالف کارواہیاں حد سے زیاده بڑهنے لگیں تو عوامی رد_عمل کو ملحوظ_خاطر رکهتے ہوہے قومی فوج ( بی ایل اے) کے زمےدار دوستوں اور قومی تحریک کے خیرخواہوں نے کسی متصادم و غیر زمہ دارانہ طریقہ_کار کی انتخاب کے بجاہے اصلاح و تنقیدی عمل کے زریعے معاملات کو سمبهالنے کی کوشش شروع کردی. غالبا اس دوران تنظیمی سطح پر بهی قاہدین کا ایک دوسرے سے گفت و شنید اور رابطے ہوچکے ہونگے. جو میرے خیال میں کار آمد و مئوثر ثابت نہ ہوسکے. مکران میں بی ایل ایف اور بی آر اے کی عوام دشمن کارواہیاں جب زور پکڑنے لگیں. تو اتنی ہی شدت کے ساته عوامی شکایات کهل کر سامنے آنے لگے.اور قومی تحریک اور مسلح جد و جہد کی صحت پر سوالات نے سر اٹهانا شروع کردیا. جس سے قومی تحریک اور مسلح تنظیموں کو حاصل عوامی حمایت میں شدت کے ساته کمی آنے لگی جو دم_تحریر تک جاری ہے. چونکہ قومی تحریک سے منسلک کوئ ایسا اداره موجود نہیں جو عوامی شکایات دور کرنےکیلیے کسی مسلح تنظیم پر دباہو ڈال سکے . اس لیے ان مادر پدر آزاد دو مسلح تنظیم کے زمہداران خود کو عوامی عدالت میں پیش کرنے کو اپنی توہین و تذلیل سمجهتے ہیں. اور انکی ہمیشہ یہی خواہش رہی ہے. کہ شہدا کی لہو اور جہد_آزادی کے نام پر انکے ہر ظلم و جرم کو سہ لینا عوام الناس پر واجب ہے.

اس سلسلے میں سوشل میڈیا میں بی ایل ایف کے بہروپیے ہر سوال کے جواب میں لوگوں کو گالیاں دہے کر اس لیے خاموش کرنا چاہتے ہیں . کہ خود انکے ہرجرم اور بد اخلاقی و بد کرداری کو بی ایل ایف کی حمایت حاصل ہے.من ترا حاجی میگویم تو مرا ملا بگو کہ مصداق دو فریقی مجرموں کو اس وقت ایک دوسرے کی مدد و تعاون کی سخت ضرورت پڑ گہی ہے. کیونکہ ان پر عوامی نفرت دن بدن بڑهتی جارہی ہے. اس کی واضح مثال زرین بگ اور بلنگور میں عوامی ریلیاں اور احتجاجی مظاہرے ہیں.

کچه وقت پہلے بی ایل ایف اپنی طاقت کی گهمنڈ میں اس قدر مغرور و متکبر تها. کہ ہر سوال اٹهانے والے اور تنقید کرنے والے کو ریاستی ایجنٹ اور تحریک دشمن غدار قرار دیکر شهدا کے لہو اور قومی تحریک کے آڈ میں اپنے کالے کرتوت اور مجرمانہ کارواہیوں کو دوام دیتا رہا. مکران بهر سے مجرموں ، قاتلوں، منشیات فروشوں اور چور چهکوں کو چن چن کر بطور سرمچار بهرتی کرلیا. اور اسوقت تک یہ تمام جراہم پیشہ افراد فرشتے سے کم نہ تهے جب چوری ڈکیتی اور منشیات کی آمدن کے پیسے بی ایل ایف کے اعلی قیادت کیساته بانٹتے تهے. اب جو ہر ایک نے اپنا اپنا الگ کار و بار کهول دیا ہے. اور بی ایل ایف کا حصہ دینا بند کردیا ہے. تو بی ایل ایف کو پکارا جا رہا ہے.

ہم نے کب کہا تها کہ پورا بی ایل ایف اور بی آر اے مجرموں منشیات فروشوں اور قاتلوں کی تنظیم ہیں. ہم نے بهی تو انہی عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور سزا دلوانے کیلیے شور مچایا تها.کہ آپ کے تنظیم میں منشیات فروش، قاتل اور چور چهکے موجود ہیں . اگر آپ اس وقت سچائ تسلیم کرکے انہیں سزا دیتے تو آج یہ قوم کے لیے ناسور اور آپ کیلیے درد_سر نہ بنتے لیکن آپ نے انہی عناصر کے لیے صفاہیاں دیکر انکے خلاف تنقید و سوالات کو الزام تراشی اور پروپیگنڈے سے تعبیر کیا. اب آپ سب کومکافات_عمل کا سامنا کرنا پڑ رہاہے جو کہ کسی نہ کسی دن تو ہونا ہی تها. اب بهی مجرموں کے تین سرغنہ زاہد عرف مرادک، محمد بخش عرف بہلک، خلیل یعقوب عرف ساچان کے شکل میں آپ کے اندر موجود ہیں. جو چوٹی کی کمانڈر کے حیثیت سے کمان سمبهالے ہو ہے. لیکن آپ اس وقت تک انکو فرشتہ سمجهیں گے جب تک یہ اپنا الگ گروپ نہ بنا لیں یا ہتیار ڈال کر سرکاری نہ بن جاہیں.

گزشتہ ایک سال سے بی ایل ایف کے بہت سارے سپائ انڈر گراونڈ سرینڈر ہوچکے ہیں. مقبول کے بعد الطاف، حمل اور درجنوں نے تو میڈیا کے سامنےہتیار ڈال کر اپنے دس سالہ و پندره سالہ مبہم و مشکوک کردار کو کلئیر کردیا. لیکن خلیل ساچان نے راشد پٹهان اور بہلک نے اپنے بهائ گہرام کے زریعے اآئ ایس آئ اور ایف سی کے ہاں اپنی حفاظت و جان سلامتی کی ضمانت کروائ ہے.

جس وقت ہم نے اور اہل مکران نے بی ایل ایف اور بی آر اے کے قاتلوں اور منشیات فروشوں کے خلاف بی ایل اے سے کاروائ کی اپیل کی تهی .تو سوشل میڈیا میں بی ایل ایف کے بہروپی ہم پر مسلح تنظیموں کو آپس میں لڑانے کی الزام دیتے نہیں تهکتے .اب وه ہمیں یہ بتانا پسند فرماہینگے کہ وه اپنے تنظیم کے باغی مجرموں کو بی ایل ایف اور بی ایل اے کے ہاتهوں کیوں سزا دلوانا چاہتے ہیں. جس وقت بی ایل اے نے  یو بی اے کے باغی مجرموں اور اسلحہ چور عناصر پر اٹیک کیا تو سب سے پہلے ڈاکٹر اللہ نظر صاحب نے بی ایل اے کو برادر کش تنظیم کہکر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا. تو آج بی ایل ایف کے مجرم و چور ڈاکو جرم کی کمائ بی ایل ایف کو دینے کے بجاہے خود ہضم کرنے کیلیے لشکر بلوچستان جواہن کرچکے ہیں. تو زور زور سے چیخنے چلانے کی صداہیں بلند ہو رہی ہیں. کیوں بهائ کل یہ آپ کو منشیات اور ٹیکس کے پیسے کما کر دہے رہا تها تو یہ آزادی کا علمبردار اور شهدا کا ورثا تها. قوم و وطن پر قربان ہونے والا سر مچار تها. اب وہی سب کچه کسی اور تنظیم میں ره کر کر رہا ہے. تو قوم دشمن سماج دشمن اور چور ڈاکو لٹیره ہے. کس کی یاداشت کا امتحان لے رہے ہو.

آپ کی یاداشت کمزور ہوسکتی ہے لیکن قوم کی یاداشت اتنی کمزور نہیں کہ کل کی بات بهول جاہے. کاش آپ ان تحریک دشمنوں کو اس وقت مجرم مان کر سزا دیتے جو آپ میں ره کر جراہم کے مرتکب ہو ہے تهے. اب کسی کو آپ پر بهروسہ نہیں رہا. عوامی شکایات کے پیش نظر ہم نے تنظیم میں موجود ان عناصر کی نشان دہی کی ہے جو آپ کے ہاں کمانڈر کے فراہض انجام دہے رہے ہیں پہلے انکو پکڑ کر عوامی عدالت کے سامنے پیش کریں. پهر شاید قوم کی اعتماد بحال ہو . لیکن اگر آپ ان عناصر کی پشت پنائ نہیں چهوڑتے جنہیں قوم نے مسترد کردیا ہے. تو آپ سمجه لیں کہ قوم تمہاری دوہرے معیار اور دوغلے پن کی جهال میں پهنسنے والا نہیں.

بی ایل ایف میں موجود راشد پٹهان کا کزن خلیل ساچان روز ایک بے گناه کو قتل کرکے اسے راشد پٹهان کا دست راست قرار دیتا ہے. کسی نے کبهی اس مرد_منصف سے یہ پوچهنے کی زحمت فرمائ ہے. کہ بهائ آپ مکران کے طول و عرض میں ڈهونڈ ڈهونڈ کر لوگوں کو اس لیے قتل کر رہے ہو کہ وه راشد پٹهان کے دست راست ہیں. تو آپ نے پندره سال سے خود راشد پٹهان پر کتنے حملے کر چکے ہو. جو ڈگاری کہن اور ڈی بلوچ میں ناکے لگا کر بیٹها ہوا ہے. پورے مکران میں بی ایل ایف کی مضبوط نیٹ ورک کی تعریف کرتے ہوہے بی ایل ایف کے کمانڈر اور انکے حمایتیوں کو شرم نہیں آتی جو راشد پٹهان کو تین بار گیبن پر حملہ کرنے سے نہ روک سکے؟  بی آر اے کے مرد_مکران نے پنجگور اور پروم میں درجنوں بے گناوں کو یہ کہکر قتل کردیا کہ یہ سب مقبول شمبہے زئ کے دست راست ہیں. کوئ ان سے پوچهے کہ پچهلے دس سال سے اس نے مقبول پر کتنے حملے کیے. اور کہاں کہاں انکے راہگزر پر ماہن نصب کیا ہے.

کہیں ایسا تو نہیں کہ خلیل ساچان کیطرح مرد_مکران بهی انکو مار کر ختم کرنا چارہے جو مقبول شمبہے زئ کی زندگی کے لیے خطره ہیں ؟؟

بی ایل ایف اور بی آر اے کے جراہم پیشہ کمانڈروں کو اپنے ان سابقہ دوستوں سے بہت ڈر لگ رہا ہے. جو ان سے بچهڑ کر لشکر بلوچستان کے نام سے متعارف ہو رہے ہیں. کیونکہ منشیات سپلائ کے تمام روٹس کا سب کو یکساں علم ہے. پٹرول ڈیزل کی گاڑیاں کس وقت کہاں سے گزرتے ہیں. کون سے ٹهیکدار اور سیٹه کو کتنا لینا ہے یہ بهی سب کو علم ہے  . اب ٹیکس ادا کرنے والا سیٹه سب کو تو ٹیکس ادا نہیں کرسکتا. اگر وه کسی سے ڈیل کرتا ہے تو ظاہر ہے کہ اپنے کار و بار کی حفاظت کا شرط رکهتا ہے. اس لیےہمیں خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں مکران لیاری کا نقشہ پیش کر دیگا. کیونکہ مکران میں گینگز اور مافیا کی تعداد بڑهتی جا رہی ہے اور ہر ایک کو زنده رہنے اور اپنی قوت بڑهانے کی فکر لاحق ہو گہی ہے. اگر ان گینگ وار میں کوئ بهی کمزور پڑ جاہے تو اسے بہت سے قوتوں کا سامنا کرنا ہوگا.

اب کچه لوگ اپنے آپس کی بندر بانٹ کی جنگ میں بی ایل اے کو پہنسانا چاہتے ہیں. لیکن میرے خیال میں بی ایل اے اس کیچهڑ میں کهودنے کے لیےتیار نہیں. کیونکہ بی ایل اے کا بی ایل ایف اور بی آر اے سے دوری اور اختلافات کی اصل وجہ ان دونوں تنظیموں کی مجرمانہ کاروائ اور تحریک دشمن سرگرمیاں ہیں. دوسرا کوئ ماس پارٹی یا اداره موجود نہیں جو حالات پر قابو کر سکے بی ایس او کو رگڑ رگڑ کر ایک گروه بنا دیا گیا ہے. بی این ایم کی قومی پارٹی ہونے کا دعوی بلکل ویسا ہے جیسے کوئ بے اولاد شخص اپنے ہمساہے کے بچوں کو اپنی نام کردے.

فلحال تو مکران میں بی ایل ایف خوف و دہشت پهیلا کر زنده رہنے کی کوشش کر رہا ہے. لیکن بل نگور اور زرین بگ جیسے حالات مند تمپ کیچ اور گوادر میں بهی رونما ہونے والے ہیں. بل نگور میں ریلی شرکا کے گهیرے میں سرمچار کی ویڈیو سے بخوبی اندازه لگایا جاسکتا ہے کہ بی ایل ایف کتنی کمزور پڑ گہی ہے کہ سینکڑوں لوگوں میں بے چاره سرمچار لوگوں کو شهدا کی لہو کا واسطہ دیکر جان چهڑاتا ہے.

بی آر اے کی مثال مکران میں اس چراغ کی سی ہے جسکی تیل ختم ہونے کے بعد روشنی بجه بجه کر مدہم ہوتی ہے . کچه دنوں سے لشکر بلوچستان نے اس بیمار کی طرح  سر اٹهانا شروع کردیا ہے. جو طویل بیماری کاٹنے کے بعد چہل قدمی کیلیے انگهڑائ لے.

فوج   ایف سی  چین گوادر کوریڈور ڈیته اسکواڈ فلحال مکران میں بلکل پس منظر میں چلے گہے ہیں. اس وقت یہاں طاقت کی مظاہره ، لوٹ مار و قتل اور نمبر ون کی ٹاہیٹل پہلی ترجیحات ہیں.  دیکهینگے کہ کون کس کو کتنی قابو میں رک سکتا ہے.    اپنا  خیال  رکهیے گا

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0