مکران کی پکار تحریر ؛ داد شاہ بلوچ

جمعرات 6 نومبر, 2014

مکران بلوچستان کے دیگر علاقوں کے نسبت سے قومی سیاست کے جدوجہد کے لحاظ سے تاریخی حوالے سے بلکل مختلف واقع ہوا ہے،یہاں سرداری اور نوابی کے نظام اپنے جڑ کو مضبوط کرنے میں ناکام ثابت ہوا ہے،اسلئے یہاں کے لوگ اپنے سیاسی فیصلے کرنے میں خود مختار رہے ہیں اور کسی سردار ،کسی نواب کے دباوُ کے شکار نہیں رہے ہیں ،بلکیں آزادانہ طور پر اپنے سیاسی لیڈر اور رہنما کا انتخاب کیا ہے اور اس کی پیروی کرنے لگے ہیں،80 ،70 کی دہائی سے پہلے قومی جدوجہد میں مکران کے لوگوں کا عملی جدو جہد میں کردار نہ ہونے کے برابر ہے ،( قطعاََ نظر بقول نواب خیر بخش مری آج مکران کے لوگ عملی جدو جہد میں بلوچستان کے دوسرے علاقوں کی نسبت سے آگے نکل گئے ہیں ) اگر حقیقت پسندی اور سچائی کی دنیا میں دیکھا جائے تو مکران کے لوگوں کو ہمیشہ قومی جدو جہد کی سیاست کے نام پر دھو کے میں رکھا گیا ہے،( اس دھو کے کا سلسلہ غوث بخش بیزنجو سے شروع ہو کر ڈاکٹر اللہ نظر کی شکل میں ہنوز جاری ہے )غوث بخش بیزنجو نے مکران کے لوگوں کی سادہ لوحی سے فائدہ اٹھا کر بلوچ قومی جدو جہد اور مڈل کلاس کے نام پر یہاں لوگوں کو اپنے گرد میں جمع کر نے اور پیروی کروانے میں کچھ وقت تک کامیاب ثابت کیا اور ہمیشہ یہاں کے لوگوں کو اپنے سیاسی جدو جہد کے گرداب میں خیالی جنت کا خواب دیکھا تا رہا ،یہاں تک کہ لوگوں کی سادگی اور پوجا گری نے غوث بخش بیزنجو کو با بائے بلوچستان کے اعزاز کے نام سے نوازا اور غوث بخش نے اپنی مکاری اور چالاکی سے خوب یہاں کے لوگوں کے جزبات اور احساسات کا استحصال کرتا رہا ،بعد میں جب غوث بخش کی دھوکہ دہی اور مکاری کا علم یہاں کے لوگوں کو ہوا و وہ بہت مایوس ہو کر سیاسی جدو جہد سے کنارہ کش ہو گئے ،کیونکہ غوث بخش کی وفاداریاں بلوچوں سے کم اور پاکستان سے زیادہ تھیں ،وہ یہاں لوگوں کی سادہ لوہی سے فائدہ اٹھا کر خود کو بڑا سیاسی اور قومی لیڈر ثابت کر نا چاہتا تھا جو کچھ وقت اپنے مکاری کی وجہ سے کامیاب ہوا، جس کے دھوکہ دہی کے اثرات آج تک لوگوں کے زہنوں پر نقش ہیں ،( بعد میں غوث بخش بیزنجو کی بلوچ تحریک کے خلاف کام کرنا ،آئی ایس آئی اور ساواک کے ساتھ مدد و کمک کرنا زیر بحث نہیں) آج تاریخ غوث بخش کو دھوکہ دہی اور مکاری کی وجہ سے اچھے رہنما کے بجائے برے اور غلط رہنما کے نام سے جانا جاتی ہے۔غوث بخش کے بعد شوقِ لیڈری پورا کرنے کی خواب کے تسلسل کو بر قرار رکھنے کے لئے ڈاکٹر حئی اور ڈاکٹر مالک نے خود کو سیاسی معصوم متعارف کر کے میدان میں اتر آئے کہ ہم غوث بخش بیزنجو کی طرز سیاست سے زرا مختلف یہاں کے لوگوں کی سادگی اور جذبات سے فائدہ اٹھا کر اپنے آپ کو بڑے سے بڑے لیڈر متعارف کر وائینگے ،اس کھیل میں ان دونوں نے بی ایس او کو شامل کیا ،یہاں تک ڈاکٹر مالک نے کہہ دیا کہ ہم ووٹ نہیں خون دیتے ہیں،لفظوں کی مختلف اصطلا حات سے لو گوں کو بے وقوف بنانے کی کو شیشں کی گئی اور یہ کہا گیا کہ ہم سردار نواب نہیں سردار بلوچوں کے وفادار نہیں ،ہم آپ کی طرح غریب گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں،ہم سب آپس میں غریب ،مظلوم اور محکوم ہیں اور ہمارے مفادات بھی مشترک ہیں ہم چاہتے ہیں ہم تمام مظلوم اکٹھے ہو کر سرداروں اور پاکستان سے اپنے قومی حقوق چین لیں،یہاں لو گ پھر ان کے جھانسے میں آکر ایک نئی امید کے ساتھ ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو گئے ،ان کو اپنے رہبر اور رہنما مانے گئے،اس دہائی میں بی ایس او کا بھر پور استعمال کر کے لو گوں کو بی ایس او کے فلیٹ فارم کے زریعے سے اپنے پالور بنائے گئے لوگ ان کے خوشنما نعروں سے ان گرد جمع ہو گئے اور اپنے بہتر مستقبل کے خواب دیکھتے رہے ،عوام نے ان کے باہر کے غریبی کی حالت کو دیکھ کر ان کو اپنے حقیقی لیڈر سمجھے گئے،خالانکہ یہ اندر سے کسی بڑے پاکستانی ہمنواز سردار سے زیادہ خطر ناک تھے ۔مگر بدقسمتی سے لوگ ان کے مزاج کی اصلیت سے واقف نہیں تھے،پھر اسی دوران فدا بلوچ کو راستے سے ہٹانے کے لئے ایک سازش کے تحت شہید کیا گیا ،تاکہ پارلیمنٹ میں جانے کا راستہ ہموار ہو سکے کیونکہ شہید فدا ایک مخلص اور ایماندار سیاسی سنگت تھے وہ شارکٹ مارنے والوں کے خلاف ایک بڑے رکاوٹ تھے۔پھر ان سیاسی یتیموں نے شہید فدا کے خون کا سہارہ لے کر عوام کو بے وقوف بنانے کی کو شیشں کی گئی تاکہ عوام ہمارا ساتھ نہ چھوڈے اور ہم ان پر حکمرانی کرتے رہیں، جس دن ڈاکٹر مالک نے اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ پارلیمانی سیاست کارخ کیا گیااور شہید فدا کے قتل میں ملوث سازشی عناصر کا عوام کو پتہ چلاتو عوام بہت بدظن اور مایوس ہو کر سیاسی جدو جہد سے دستبردار ہو گئے ۔ایسا لگا کہ اب عوام کی مایوسی کی وجہ سے مکران میں قومی سیاسی جدو جہد کبھی سر نہیں اٹھائے گا،پھر تقریبا 15 سال بعد مکران کی سیاست میں نئی تبدیلیاں رونما ہو نے لگیں چنانچہ لوگ پہلے سے نام نہاد اور سابقہ رہنماوں کی وجہ سے بدظن اور مایوس تھے لیکن اس دفعہ ان کو قومی جدو جہد کے دھارے میں لانا ،مایوسی اور بے چینی کی کفیت سے نکالنا بہت تکلیف دہ کام تھا،لہاظہ شہید غلام محمد نے بی این ایم کے فلیٹ فارم سے اپنے دیگر دوستوں کے ہمراہ پارٹی کی قیادت کر تے ہوئے غیر پارلیمانی سیاست کا آغاز شروع کیا اور حقیقی جدو جہد آزادی کے نعرہ لگا کردن رات عوام پر محنت کرنا شرو ع کی اور ان کی سیاسی تربیت کی مہم کا آغاز نہایت نیک نیتی سے جاری رکھا ،دوسر ی طرف ڈاکٹر اللہ نظر نے بی ایس او کو مکران ہی میں پارلیمانی پارٹیوں کی چنگل سے نکال کر آزادی کا نعرہ دے کر درست سمت میں لا کھڑا کر دیا ،پھر مکران کی سیاست میں نیا جوش اور جزبہ پیدا ہوا ،تیسری جانب بی ایل ایف استاد واحد کمبر کی سربرائی میں اپنی مسلح کاروائیاں کا آغاز شروع کیا گیا تھا ،ان تینوں عوامل بی این ایم ،بی ایس او اور بی ایل ایف کی جدو جہد نے اس دوران مکران کی سیاسی اور مسلح جدو جہد میں ایک نیا جوش اور ولولہ پیدا کیا ،شہید غلام محمد کی گران قدر خدمات اور دن رات کی محنت نے یہاں کے لوگوں پر یہ ثابت کر دیا کہ شہید غلام محمد ایک حقیقی قومی رہنما ہیں چنانچہ لوگ سیاسی اور شعوری طور پر بیدار ہو کر شہید غلام محمد کے ساتھ چلنے لگے،دوسری طرف بی ایل ایف واحد کمبر کی قیادت میں عوامی امنگوں کی مطابق اپنی کاروائیاں تیز کر نے لگیں،جس میں لوگ بہت خوش ہو کر ماضی کے تمام مایوسیاں پیچھے چوڈ کر جوق درجوق تحریک کا حصہ بنے لگے،کہ اب ہم اپنی منزل کو حاصل کر لینگے،شہید غلام محمد اور استاد واحد کمبر کی کم وقت جدو جہد سے تحریک کو بے پناہ کامیابیاں ملیں،ڈاکٹر اللہ نظر اور ان کے ہمراہ دوستوں کی آئی ایس آئی کے ہاتھوں اغوا و بعد میں رہائی نے خاص کر نوجوانوں میں ایک نیا جوش پیدا کیا تھا ،پھر بی ایس او کے تمام دھڑوں کے انضمام نے بی ایس او میں ایک نئی جان ڈالی تھی ،(بعد میں پھر پارلیمانی پارٹیوں کی وجہ سے بی ایس او کی دھڑوں میں تقسیم ہو نا زیر بحث نہیں ) مکران میں بی ایس او بشیر زیب کی قیادت میں عوامی سیاسی و شعوری تربیت میں بہت سرگرم ہو ئی جس سے عوام تحریک میں پر جوش انداز میں عملاََ شامل ہو نے لگے۔
بد قسمتی سے کچھ وقت بعد پاکستانی فوج نے واحد کمبر کو گرفتار کر لیا ،واحد کمبر کی گرفتاری کے دوران ڈاکٹر خالد اور دلوش بھی پاکستانی فوج کے ہاتھوں ایک جھڑپ میں شہید ہو گئے تھے،پھر بی ایل ایف کی قیادت کر نے کی زمہ داری ڈاکٹر اللہ نظر نے اپنے ہاتھوں لے لیا ،ڈاکٹر اللہ نظر کی قیات میں بی ایل ایف میں اختلافات نے جنم لے لیا ،جس سے آخر کار بی ایل ایف کی پالیسیوں سے اختلافات رکھ کر ستار کھتری ،ماسٹر سلیم اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ نکل کر بی این ایل ایف بنا ڈالے۔پھر اسی دوران نوجوانوں کی چیک اینڈبیلنس کے بغیر بی ایل ایف میں بھرتیوں کا دوڈ شروع ہوا جس میں ہر قسم کے لوگ شامل ہو گئے،ان کی سیاسی ،جنگی و شعوری تربیت کی بوجھ سے زیادہ ان کو ناجائز اختیارات اور زمہ داریاں سونپی گئی،پھر ان پر نظریں رکھنے کے بجائے بے مہار کیا گیا جو ان کے جی میں تھا وہی انھوں نے شروع کیا ،جب بی ایل ایف کے کچھ مخلص دوستوں نے اپنے سرمچاروں کے ناجائز اختیارات کے استعمال کی شکایتیں بی ایل ایف کے مرکز کی قیادت تک پہنچائی مگر بد قسمتی سے ان کا کسی نے سنا تک نہیں، پھر ان میں افضل دلبر اور مقبول شنمبے زئی جیسے لوگ اور دلیر ہو گئے کہ ہم کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہم اپنی مرضی کے مالک خو د ہیں جو ہمیں کرنا ہے ہم کرینگے،پھر ان جیسے بے مہار لوگ جو ابھی تک بی ایل ایف کی صفوں میں شامل ہیں ،نے قومی آزادی کی بندوق کے نام پر کامل تحقیق اور جاندار ثبوت کے بغیر بے گناہوں کا قتل شروع کیا،گوکہ ان میں غدار اور گناہ گار شامل تھے اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا بلکل غدار کی سزا موت ہے، مگر یہاں غدار اور گناہ گار سے زیادہ بے گناہوں کا قتل شروع ہو کر ہنوز جاری ہے،اس طرح محسوس ہو تا ہے کہ بی ایل ایف کی قیادت کا اپنے سرمچاروں پر کنٹرول ختم ہوا ہے ،کیونکہ جب علی جان قومی کے گھر پر بی ایل ایف کے ایک کمانڈر نے نشے کی حالت میں حملہ کیا چادر و چاردیواری کی پامالی کی گئی، جب خواتین کی مزاحمت سے ان کی بندوقیں چھینی گئی پھر مسلہ بہت دور تک چلاگیا عوامی سطح پر بی ایل ایف کے خلاف ایک تشویش پائی گئی اور عوام کا موقف بی ایل ایف کے بر عکس آیا مگر بد قسمتی سے بی ایل ایف نے اپنے اس سر مچار کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جو عوام کو اطمینان بخش تسلی مل جاتی ۔بی ایل ایف کے ان جیسے بے مہار سرمچاروں کی وجہ سے اب مکران میں ایک مایوسی کی لہر بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے،اگر اس پر کنٹرول نہیں کیا گیا تو پھر یہاں کے لوگوں کو تحریک کا حصہ بنا نا اور ان کی ہمدردی اور حمایت حاصل کرنا نا ممکن ہو گا ۔آ ج ویسے ہم دیکھ رہے ہیں بی ایل ایف کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ایسے بے گناہ لوگ جو بی ایل ایف کے ہاتھوں قتل ہوئے ہیں ان کے رشتہ دار بی ایل ایف کے خلاف ریلی نکال رہے ہیں اور پریس کانفرنسوں اور اخباری بیانوں کے زریعے سے ان پر لگائے گئے الزامات کی ثبوت مانگ رہے ہیں،لیکن ابھی تک بی ایل ایف کوئی تسلی بخش ثبوت پیش نہ کر سکا ہے ،ایک ایسا تاثر عام ہو رہا ہے کہ بڑے بڑے غدار راشد پھٹان ،مقبول شنمبے زئی ،خدارخم شنمبے زئی،اور سعود پر کوئی کاروائی نہیں ہو تا ہے جنہوں نے عوام کا جینا خرام کیا ہے، مگر جو غریب اور بے گناہ ہیں سن سنی باتوں پر ان کو غداری کا الزام لگا کر آسانی سے ان کے قتل کر تے ہیں ،جس سے لوگ تحریک سے بدظن اور دلفروش ہو رہے ہیں،چنانچہ بلوچ قوم کی فطرت میں بدلہ لینا ،ضدی اور حسد پیوست ہے، پھر ان کے رشتہ دار ضد اور عناد کی بنیاد پر اپنے رشتہ داروں کا بدلہ لینے کے لئے راشد پھٹان ،مقبول اور سعود کے گینگ میں جاکر شامل ہو تے ہیں پھر ان گرہوں کو ان کی وجہ سے مذید طاقت ملتی ہے پھر یہاں ہر کوئی دوسرے کی طاقت اور سہارہ سے ان کے خلاف باقاعدہ کام کر تاہے جو تحریک کے لئے بہت نقصان کا با عث بنتا ہے،یہاں ہمارے آزادی پسند عام لوگوں کو اتنا کیوں مجبور کر تے ہیں کہ وہ اپنے دفاع کے لئے خود بندوق اٹھا کر ہمارے خلاف استعمال کریں ؟آج بی ایل ایف اور بی آر اے کے سرمچار اپنے غلط پالیسیوں کی وجہ سے بعض لوگوں کے لئے بندوق اٹھانے کا راہ ہموار کر رہے ہیں جو قومی جدو جہد کے لئے نیک شکون نہیں،یہاں ان تنظیموں نے صرف ایک عدالت قائم کی ہے جس عدالت میں تمام جرائم کا ایک ہی سزا ہے صرف موت یہاں قومی غدار،مخبر،چور ڈاکواوربد معاشوں کے جرائم کا کوئی الگ الگ سزا مقر ر نہیں ،ہونایہ چائیے تھا کہ ہر جرم کی سزا کا تعین ایک دوسرے کے جرم سے مختلف ہوتالیکن یہاں ایسا کچھ نہیں۔
اب کہتے ہیں کہ دشت میں یاسر بہرام ایک بڑا مظبوط طاقت ور گروہ بن گیا ہے جو تحریک کے خلاف اپنی طاقت کا استعمال کر رہا ہے،یاسر کے بارے میں ایک یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ وہ ایک چور تھا مگر مسلح دفاع کا بندہ نہیں تھا،کہتے ہیں کہ بی ایل ایف کے بار بار مسلح دفاع کے بندہ ظاہر کرنا اور غداری کے الزام نے اس کو مسلح دفاع کا بندہ بنایا ہے، اور یاسر اپنے سر پر ان تمام لگائے گئے الزامات کا شاخسانہ زاتی دشمنی قرار دیتا ہے، کہتے ہیں جب یاسر نے کسی لیاقت نامی ایس ایچ او کے ٹانگ پر گولی ماری تھی تو پھر ایس ایچ او نے دشت کے ایک جمعدار کریم بخش نامی شخص کو یاسر کی گرفتار ی کے لئے زور دیا تھا کہ یاسر کو گرفتار کریں پھر کریم بخش نے یاسر کو کافی پریشان کیا تھا کیونکہ کریم بخش سرکار میں تھا پھر یہ معاملہ ایک دوسرے کی جان لینے تک جا پہنچا تھا،جب دونوں کے درمیان علاقائی میر و متعبرین کے زریعے سے صلح کروایا تھا تو معاملہ حل ہوا تھا ،یا سر کے رشتہ دارا کہتے ہیں جب کریم بخش کے رشتہ دار بی ایل ایف میں شامل ہوئے ہیں پھر سے معاملہ دوبارہ گرم ہوا ،اور ایک دفعہ پہلے جب یاسر پر حملہ ہو ا تھا تو حملے میںیاسرکا ایک بڑا بھائی بھی جانبحق ہوا تھا،حملے کی زمہ داری بی ایل ایف نے قبول کیا تھا ،پھر یاسر نے کہا تھا کہ مجھ پر حملہ کریم بخش کے بیٹوں کی سازش ہے وہ مجھ پر اپنا بدلہ لینا چاہتے ہیں لہاظہ بی ایل ایف مجھ پر غداری کا الزام ثابت کر یں میں کیسے غدار ہوں،پھر اس معاملے کی سنجیدہ حل کو بی ایل ایف کی تما م اعلیٰ قیادت پر پہنچایا تھا ،لیکن معاملے کا کوئی حل نکل نہ سکا ہے، آج یاسر،ملاعمر اور راشدپٹھا ن کے ساتھ مل کرا یک بڑی طاقت ور کی حثیت سے تحریک کے آگے رکاوٹ ہے۔
دوست محمد عرف دوستو کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ ایک چور ڈاکو تھامگر سرکار کا بندہ نہیں تھا، کہتے ہیں بی ایل ایف اور بی آر اے کی غلط پالیسیوں نے اس کو سرکار تک پہنچانے میں بڑا کر دار ادا کیا تھا ۔ اور بھی ایسے کئی لوگ ہیں ان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے وہ اپنے پناہ کی تلاش کے لئے سرکار کے پاس جاکر پناہ لیئے ہیں،پھر یہی لوگ سرکار کی پشت پناہی سے بڑی طاقتور گروہ بنتے ہیں ،جو تحریک کے خلاف کام کرتے ہیں ،ایسے کئی لوگ مکران میں ملیں گے جنہوں کو بی ایل ایف اور بی آر اے کی غلط پالیسیوں نے مجبوری کی حالت میں مسلح دفاع میں پہنچانے کا کام آسان کیا تھا ،اور ایسے بھی کئی لوگ ہونگے جو بغیر کسی مجبوری کے اپنی خوشی سے مسلح دفاع میں جا کر شمولیت اختیار کر چکے ہیں یہاں ان کے لئے کوئی پالیسیاں اہمیت نہیں رکھتا تھاکیونکہ یہ بغیر کسی مجبوری کے اپنے خو شی میں مسلح دفاع میں بھرتی ہوئے ہیں،اور کچھ لوگ لالچ اور پیسوں کی وجہ ان کے ساتھ شامل ہوئے ہیں۔ جو لوگ کسی گناہ اورمخبری کرنے کے جرم میں اور جو لوگ بغیر کسی گناہ اور مخبری کرنے کے جرم میں بی ایل ایف اور بی آر اے کے ہاتھوں قتل ہوئے ہیں،اب ان کے رشتہ دار اپنے لوگوں کے بدلہ لینے کے لئے ان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں، یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے جو اپنے خوشی سے مسلح دفاع میں نہیں جاتا ہے ،پھراس کو کیوں اتنا مجبور کر کے دفاع میں جانے کا راستہ ہموار کیا جاتا ہے ؟اس سے صاف ظاہر ہو تا ہے کہ یہاں بی ایل ایف اور بی آر اے کی پالیسیاں مکمل ناکام ہیں،کیونکہ کل وہ لو گ جو تحریک کے لئے ہمدردیاں رکھتے تھے سرمچاروں کی حمایت اور مدد کر تے تھے ہر جگہ ان کے دفاع کر تے پھر تے تھے، آج وہ یہی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے دشمن کے صفوں میں جاکر کھڑے ہیں یا خاموش ہو گئے ہیں یا سرمچاروں کی مخالفت میں سب سے آگے ہیں،وہ خواتین جو کل سرمچاروں کی بہ حفاظت اور کامیابیاں کے لئے اپنے ہاتھ اٹھا کر نیک دعایاں کر تی تھیں آج وہ ہاتھ سرمچاروں کی بر بادی کے لئے اٹھ رہے ہیں ،اگر پھر ہم کہیں کہ بی ایل ایف اور بی آر اے کی پالیسیاں غلط نہیں درست ہیں ،تو مطلب ہم اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں،یہ عذاب اور مشکلات یہی غلط پالیسیوں نے تحریک کے خلاف پیدا کئے ہیں ،خدارا جو شخص مسلح دفاع کا بندہ ہے تحریک کو نقصان پہنچا رہا ہے اس کا اختساب ہونا چائیے اس کو مارو قتل کرو اس کو مارنا قتل کرنا تحریک کے آگے رکاوٹ کوہٹانا اچھااور نیک عمل ہے، کوئی اس عمل کی مخالفت نہیں کرے گا بلکں اس عمل کی حمایت کرتے ہیں اورخوش ہو تے ہیں، لیکن جو شخص مسلح دفاع کا بندہ نہیں ہے پھر اس کو کیوں قتل کیا جاتا ہے ؟یا اس کو کیوں تنگ کر کے تکلیف پہنچا تا ہے ؟اور اس کے لئے مسلح دفاع میں جانے کا راستہ ہموار کیوں کیا جاتا ہے ؟ ایسے غلط ا عمال سر انجام دینے سے نہایت محتاط ہو نا چائیے اور گریز بھی کر نا چائیے تاکہ تحریک کے خلاف کوئی اور بڑا رکاوٹ پیدا نہ ہوں۔
یعقوب بالگتری کے بارے میں ایک یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ پہلے اس کے اور بی ایل ایف کے اچھے تعلقات تھے یعقوب ڈبل گیم کرتا تھا ایک طرف ایجنسیوں کے لئے کام کرتا تھا دوسری طرف بی ایل ایف کے لئے کام کر تا تھا اس گیم میں وہ بی ایل ایف کے کچھ دوستوں سے تعلقات رکھ کر اندر سے بی ایل ایف کو نقصان پہنچا رہا تھا ، خالا نکہ اس وقت یعقوب کو آسانی سے پکڑ سکتا تھا جب وہ بی ایل ایف کے دوستوں سے رابطے میں تھا اور اندر سے دوستوں کو نقصان دے رہا تھا، اس نقصان کا علم بھی بی ایل ایف کو تھا مگر اس وقت اس پر کوئی کاروائی نہیں ہوئی،کتنے سالوں بعد یعقوب کو مارا گیا ان سالوں کے دوران یعقوب نے بی ایل ایف اور قومی تحریک کو بے پناہ نقصان پہنچایا تھا،آخری وقت تک بی ایل ایف کے کچھ دوستوں کا یعقوب بالگتری سے تعلقات تھے جن تعلقات کی بنیاد پرحملہ کیا گیا۔اس حملے میں بی ایل ایف کا ایک سابقہ ساتھی ملا فاضل جو 2010 سے لیکر 2012 تک بی ایل ایف میں بی ایل ایف کے پلیٹ فارم سے قومی جدو جہد کے لئے اپنا فرائض سر انجام دے رہا تھا قتل بھی ہوا۔اب کہتے ہیں بی ایل ایف کا ایک اور ساتھی حسن امام جو بی آر اے کے ایک کمانڈر کا چھوٹا بھائی ہے بی ایل ایف سے نکل کر پنجگور میں مسلح دفاع کے ایک اہم کمانڈر سعود کے پاس بھیٹا ہوا ہے،جس نے بی ایل ایف کے تمام دوستوں کے معلومات سعود اور ایجنسیوں کو بتائے گئے ہیں جن معلومات کی بنیاد پر ایف سی نے بی ایل ایف کو بہت نقصان پہچا یا ہے ،اس وقت حسن اور سعود نے پنجگور خدا بادان میں عوام کا جینا خرام کیاہے،دن دھاڈے لوٹ ماریاں، ڈکیتیاں ،عوام کو تنگ کرنا ،تکلیف پہنچانا اور مارنا روز کا معمول بن گیا ہے،اب یہاں سوال یہ بہت پیدا ہوتا ہے کہ بی ایل ایف کا ڈھانچہ اتنا کیوں کمزور ہے جس کی وجہ سے افضل دلبر،مقبول شمبے زئی ،ملا فاضل اور حسن امام جیسے بی ایل ایف کے سرمچار دو،دو ،چار، چار سالوں بعد بی ایل ایف سے نکل کر پوری معلومات لے کر آئی ایس آئی پاس جا کر پناہ لیتے ہیں،اتنے سالوں تک بی ایل ایف کو پتہ تک نہیں چلتا کہ میرے سرمچار آئی ایس آئی کے بھیجے ہوئے ہیں جو اندر سے بی ایل ایف کو کافی نقصان پہنچا رہے ہوتے ہیں،ان لوگوں کے ہاتھوں کئی بے گناہ قتل ہوئے ہیں جن کی زمہ داری بی ایل ایف نے قبول کی ہے ،خالا نکہ یہ ٹاسک آئی ایس آئی نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ان کو دیا تھا کہ بے گناہوں کو مارو تاکہ بی ایل ایف ان کی زمہ داری اپنے سر پر لے لیں،پھر عوام ان کے خلاف ہو جائے ،بے گناہوں کا قتل کرنا ایجنسیوں کا ایک گہری منصوبہ بندی اور پلاننگ تھا جو تحریک کو نقصان پہنچانے کے لئے طے کیا گیا تھا۔کیا جو بے گناہ ان کے ہاتھوں قتل ہو ئے ہیں جن کی زمہ داری بی ایل ایف نے قبول کیا ہے آج بی ایل ایف کو اپنے بیان واپس لینا نہیں چائیے تاکہ ان بے گناہوں کی فیملیوں سے انصاف ہو سکے کہ آپ کے جگر گوشے غدار نہیں تھے بس غداروں کی جھوٹ اور پروپگینڈوں کی وجہ سے قتل ہو ئے ۔
راشد پٹھان کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس کا ایک رشتہ دار اور بی ایل ایف کا سرمچار خلیل یعقوب کچھ وقت تک راشد کے پاس چھپا ہوا تھا اور راشد پٹھان اس کو پناہ دیتا تھا ،یہاں تک ایک تاثر عام ہوا تھا کہ راشد پٹھان کے بھائی بھی سرمچار ہیں ،اس وقت راشد پر غداری کا الزام لگ رہا تھا مگر خلیل یعقوب کا پناہ گاہ راشد پٹھان کا گھر تھا اور یعقوب راشد کو اپنا ہمدرد کہتا تھا ،کہتے ہیں جب خلیل راشد سے دور جاتا ہے ،بعد میں راشد پر حملے ہو تے ہیں اور خلیل راشد کو کہتا ہے کہ میں نے آپ کو دھوکا دیا ہے،سوال یہ پیدا ہوتا ہے اگر راشد غدار تھا تو خلیل کیوں اس کو اپنا ہمدرد سمجھتا تھا ؟اور ان کے پاس کیوں پناہ لیتا تھا؟ اس وقت خلیل یعقوب آسانی سے راشد پٹھان کو مار سکتا تھا پھر کیوں نہیں مارا ہے ؟ پھر کیوں اتنے طاقت ور بننے کا مو قع دیا گیا ؟اگر غدار نہیں تھا تو اب کیسے غدار بن گیا ؟میرے لکھنے کا مقصد ہر گز یہ نہیں کہ راشد پٹھان اور یاسر اب ایف سی کے بندے نہیں مقصد یہ ہے کہ یہ ایسے معاملات تھے ان کے بہتر حل نکل سکتے تھے اگر اس وقت سنجیدگی کا مظاہرہ کر تے ہوے ان معاملات کے حل نکالا جا تا آج وہ اتنے بڑے طاقت و ر گرہ نہیں بن سکتے تھے اور نہ ان کو ایف سی کی پشت پناہی حاصل ہو تی تھی اور نہ آج چوریاں ڈکیتیاں اور مخبریاں کرتے اور نہ تحریک کے آگے بڑی رکاوٹ بن گئے ہو تے۔آج مکران کا بی ایل ایف اور بی آر اے کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے بہت برا حال ہے،مقبول شنمبے زئی کے بارے میں کہتے ہیں جب وہ بی ایل ایف میں تھا تو بی ایل ایف کے دوستوں کو ایجنسیوں کے ہاتھوں اغوا کروانے میں مدد کرتا تھا،پھر بی ایل ایف سے نکل کر اپنے سربرائی میں مسلح دفاع کا ایک گرہ بناتا ہے لیکن بی ایل ایف ان پر کاروائیاں نہیں کر تا ،مقبول نے بہت دفعہ انپے محفلوں میں کہا تھا کہ بی آر اے اور بی ایل ایف مجھے نہیں مارتے ہیں کیونکہ بی ایل ایف اور بی آر میں مقبول کے رشتہ دار ہیں وہ رشتہ داری کی بنیاد پر مقبول کو مارنا نہیں چاہتے ہیں،ایک دفعہ مقبول کا بھائی فاروق اپنے دیگر ہمراہوں کے ساتھ بی ایل ایف کے گھیرے میں آتے ہیں ،بی ایل ایف ان کے تما م بندوقیں اور راکٹ لانچر زاچھین کر ان پر کوئی کاروائی کئے بغیر چھوڈ دیتا ہے۔آج پنجگور میں مقبول کا بھائی فاروق اور رشتہ دار خدارحم نے عوام کا جینا دوبر کر دیا ہے،لو گوں کومارنا پیٹنا،چوریاں ڈکیتیا ں کرنا ،کاروباری لوگوں سے تعاون وصول کرنا اورجن جن کے رشتہ دار سرمچار ہیں رشتہ داریوں کی بنیاد پران کو پکڑ کر ایف سی کے حوالے کیا جاتا ہے،مگر بی ایل ایف اور بی آر اے کو یہ نظر نہیں آتے ہیں جبکہ بے گناہ غریبوں کو جھوٹے الزامات کی بنیاد پر اٹھا کر اپنوں کیمپوں میں لے جاتے ہیں جہاں ان پر تشدد کیا جاتا ہے،پھر شرم کے مارے چھوڈ دیتے ہیں کہ اس سے کچھ ثابت نہیں ہوا ہے،ہاں اگر کوئی چوری کرنے اور منشیات کی عادی میں ملوث ہے ان کو بار بار تنبہہ کرنے سے پھر بھی باز نہیں آیا ،پھر اس کو اٹھا کر اپنے کیمپ میں لے جائیں وہاں اس کی تربیت کی جانی چائیے سمجھایا جائے کہ اپنے یہ عادات او ردندے چھوڈ کر ایک اچھے شہری کی طرح اپنی زندگی گزاریں یہ اچھا اور نیک عمل ہوگا،مگر جو خود برے دندوں میں ملوث ہوتا ہے وہ کیسے کسی کا تربیت کر سکے گا۔بہت افسوس کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے ایک دفعہ تمپ میں کسی معززسرکاری ملازم کو سرمچاروں نے پکڑا تھا جب اس کے بٹوے،مبائل ،پسٹل اور گاڈی کو اپنے ساتھ لئے گئے پھر ان کے رشتہ داروں نے علاقائی زمہ دار سرمچاروں سے رابطہ کیا تھا کہ یہ کیا ماجرہ ہے کہ آپ کے سرمچاروں نے ایک شریف بندے کے پیسے ،بٹوے ،پسٹل ،مبائل اور گاڈی کو کیوں اپنے ساتھ لے گئے ہیں ؟پھر یہ جواز پیش کیا تھا کہ گاڑی سرکار کی ہے اس لئے چھینا ہے لیکن آپ کو واپس کر ینگے،اچھا بھا ئی پھر مبائل پیسے اور پسٹل تو سرکار کے نہیں ہیں ان کو کیوں چھینا ہے یہ تو اس کے زاتی ہیں، بہت درد ہوتا ہے جب ہمارے غیر شعور یافتہ سرمچار ایسے برے کام کرتے ہیں، پھر اس طرح عوام کیسے تحریک کی حمایت اور سرمچاورں کی مدد کرے گی ایسے معاملات پر بہت غور و فکر کرنا چائیے ،اور تنظیم کی ڈسپلن کو بہت سخت کر نا چائیے، سرمچاروں پر اپنی گرفت مظبوط رکھنا چائیے اگر کوئی سرمچار کسی برے کام میں ملوث پایہ گیا پھر اس کو سزا دینا چائیے تاکہ عوامی حمایت اور ہمدردی کھونا نہ پڑے ،
آج ان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پورا مکران ان سے نالاں ہے،منشیات کی فروخت میں خود ملوث ہیں،ان میں ایسے بھی لوگ ہیں خود منشیات پیتے ہیں ، کئی دفعہ منشیات سے بھری گاڈیوں کو چینا ہے پھر ان کے کئی سرمچاروں نے اپنے لئے ہزاروں کیلوں منشیات چورا کر سستے داموں فرخت کیا ہے، اب جہاں انہوں نے اپنے منشیات تقسیم کئے ہیں جب وہاں کے آڈوں کو بند کر نے جاتے ہیں تو آڈے والے کہتے ہیں کہ یہ آپ کے دئیے ہوئے منشیات ہیں ابھی تک ختم نہیں ہوئے ہیں پھر کہتے ہیں چلو ٹھیک ہے جب ختم ہونگے پھر اپنے منشیات کا کاروبار بند کریں ،ان کا دیا ہوا یہ منشیات ختم نہیں ہوتے ہیں پھر ان کا اپنا اور منشیات دوسرے لوگوں کے زریعے سے ان کے اڈوں پر پہنچ جاتے ہیں اب آپ سو چ لیں ا یسے منشیات کا کارو بار کیسے بند ہو گا ؟اور کون لوگوں کو منشیات کا عادی بنا رہا ہے،آجکل منشیات کے فروخت میں کچھ علاقوں میں بی ایل ایف سے زیادہ بی آر اے سر گرم ہے،ا یک دوست نے کہا تھا ایک دفعہ گچک اور دوراسکی کے درمیان بی ایل ایف کے کسی ایک بڑے کمانڈر کی گاڈی میں (بیئر) برآمد ہوا تھا تو دوست اس پر بہت غصے ہوئے تھے تو کچھ دوستوں نے کہا تھا یار آپ ٹھنڈے ہو جائیں، اس راز کو صرف اپنے پاس تک محدود رکھیں کسی کو بتانا نہیں اصل میں ہمارا ایک کمانڈر گردے کا مریض ہے یہ بیئر اس کے لئے ہیں ،آپ سوچ لیں جو بندہ خود نشہ کر تا ہے پھر نشے کی روک تھام کو کیسے ممکن بناتا ہے،یہ اپنے تنظیمی لوگوں کو ان برے کاموں سے باز نہیں رکھتے ہیں مگر بے سہارہ لوگوں پر ان کا ڈنڈا خوب چلتا ہے۔ مکران کے کچھ ایسے علاقے ہیں جہاں چور اور سرمچاروں کا کسی کو پہچان نہیں کیونکہ سرمچار بڑے لمبے بالوں کے ساتھ اور چہرے کو ڈانپ کر نکلتے ہیں اور چور بھی ایسی طرح کر تے ہیں ،جب دو ہزار ایرانی ڈیزل والا گاڈی مالکان ان کو دیکھ کر ان کے اشاروں سے نہیں روکتے ہیں کہ یہ لوگ چور ہونگے ہمارے پیسے لوٹتے ہیں ویسے کئی دفعہ چوروں نے ان کے پیسے لو ٹے ہیں جب یہ بھاگتے ہیں تو ان پر فائرنگ ہو تی ہے کئی لوگ فائرنگ کی وجہ سے جان بحق ہو ئے ہیں اور کئی دفعہ خواتین کو بھی گولیاں لگیں ہیں ،بعد میں پتہ چلا ہے فائرنگ کر نے والے بی آر اے کے سرمچار نکلے ہیں ،اس لئے انہوں نے ان پر فائرنگ کیا ہے کہ یہ کیوں ہمارے پاس نہیں روکے ہیں،اب یہاں ہم چور اور بی آر اے کے فرق کو کیسے واضح کریں چور بھی نہ روکنے کی صورت میں فائرنگ کرتا ہے اور بی آر اے بھی مگر دونوں کی گولیوں سے ان کی جانیں چلی جاتی ہیں ،کیا جب کوئی اپنے مال کی حفاظت کے لئے کسی کو چور سمجھ کر اس ڈر سے نہ روکے کہ میرے پیسے چوری نہ ہوں پھر کیا ان پر فائرنگ کر کے ان کی جان لینا کوئی جواز ہے کہ ہمارے پاس کیوں نہیں روکا ہے؟ایسے برے اعمال کر نے سے عوام کیسے تحریک کا حمایتی اور ہمدرد بن جا تا ہے ،ایک طرف عوام کو نقصان پہنچانا اور تکلیف دینا دوسری طرف کہنا ہم آپ کے نجات دہندہ ہیں ،کیا ایسے عوام ان کو قبول کر ے گا ،ہر گز نہیں،صرف ایف سی پر حملہ کر نے سے عوام آپ کو اپنا نجات دہندہ تصور نہیں کرے گا ،بلکیں عوام کے مفادات کے تحفظ ،جان و مال اور عزت کی حفاظت کے لئے آپ کو عملی جدو جہد کرنے کی ضرورت ہے۔
کچھ یوں ایک مختصر حقیقی اور اہم مسلہ پہ پڑھنے والوں کو آگاہ کرتا چلوں مکران میں کچھ لوگ اپنے زرائع معاش کو تلاش کرنے کے لئے ایک یہ زرائع استعمال کرتے ہیں چمن اور گردی جنگل سے نئی گاڈیاں خرید کر جن میں بیشتر( لینڈ کروز) ہوتے ہیں پھر مکران کے مختلف شہروں میں بیچ دیتے ہیں تاکہ کچھ پیسے ملے جس سے گھر کا خرچہ پانی ہو جائے، ویسے لینڈ کروزر گاڈیوں پر بی ایل ایف اور بی آر اے کے سر مچاروں کا نظر زیادہ ہے ،کیونکہ ایک دو دفعہ بی ایل ایف اور بی آراے کے سرمچاروں نے ان گاڈیوں کو چھین لئے ہیں اور جواز یہ ظاہر کیا ہے یہ پٹھانوں کی گاڈیاں ہیں ،بھائی اگر پٹھانوں کی گاڈیاں ہیں ان لوگوں نے ان سے خریدی ہیں جس کے زریعے سے اپنے روزگار پیدا کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں،ہاں اگر پٹھانوں کی گاڈیاں ہیں جب کوئی 50,60 ہزار کمیشن کی خا طر چمن سے مکران میں گاڈیاں لاتا ہے، پھر یہاں ہمارے بلوچ ان گاڈیوں کو خرید کر ڈیزل کے کاروبار میں لگاتے ہیں اپنے روٹی روزی کما تے ہیں ،تھوڈی یہ گاڈیاں مسلح دفاع کے کمانڈروں اور ایف سی پر تقسیم ہوتی ہیں ،آپ اپنا جواز پیش کریں آپ کا جواز کیا ہے یہ گاڈیاں چھینے کا؟ اب لوگ آپ کے چھینے کے ڈر کی وجہ سے کانپتے ہوئے چوری چھپکے سے اس کاروبار کو انجام دے رہے ہیں،ایک طرف لوگ نئی اور قیمتی گاڈیوں پر سوار نہیں ہوتے ہیں کہ آپ ان گاڈیوں کو چھین لیتے ہیں دوسری طرف مسلح دفاع کے لوگوں سے ڈر کر گاڈیوں پر سوار نہیں ہوتے ہیں کہ وہ قیمتی گاڈیاں چھین لیتے ہیں اب بیچارہ عوام کیا کرے ایک طرف آ پ کا خوف دوسری طرف مسلح د فاع کا خوف عوام بیچارہ پاتال میں تو نہیں رہ سکتا ،وہ بیچارے اسی امید میں تھے کہ آپ ہمارے حفاظت اور تحفظ کرکے ہمیں روشن مستقبل فراہم کرینگے لیکن ان غلط پالیسیسوں نے ان کو خوف،ڈر میں مبتلا کر کے ان کی بے چینیاں بڑھادی ہیں۔
جب بی ایل ایف کی قیادت اس وقت واحد کمبر کے کندھوں پر تھا تو اس وقت سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا کوئی بے گناہ قتل نہیں ہوتا تھا اور کسی بزگر کو کوئی تکلیف نہیں دیتا تھااور نہ کوئی سرمچار بے مہار تھا ہر جگہ نظم و ضبط قائم تھا ،تحریک کے لئے عوامی سطح پر ایک اچھی رائے قائم تھی ،جب واحد کمبر کے بعد ڈاکٹر اللہ نظر کے ہاتھ میں قیادت کرنے کی زمہ داری آئی ہے ،کچھ سالوں بعد عوامی سطح پر ایک بے چینی شدت کے ساتھ فروغ پا رہی ہے،ڈاکٹر اللہ نظر کی خو ش اخلاقی ،نرم مزاجی اور بے پناہ محبت نے ان کے کارکنوں کو بے راہ روی کی طرف لیجانے میں بہت بڑا کر دار ادا کیا ہے ،کسی بھی لیڈر شپ کو اتنا نرم مزاج ،خوش طبیعت اور رحم دل نہیں ہو نا چائیے جس کے نرم مزاج اور رحمدلی کی وجہ سے اس کے کارکنان بے مہار ہوکر اور تنظیم کے ڈسپلن سے باہر ہوں،ڈاکٹر اللہ نظر کے اپنے کارکنان کو بے پناہ پیار و محبت دینے کے روایتی اصولوں نے انقلابی اصولوں کے تمام حدود مسمار کئے ہیں۔کبھی ایسا محسو س ہو تا ہے کہ ڈاکٹر اللہ نظر اپنے کارکنوں کو اپنے نرم اخلاق ،پیار و محبت میں قید رکھ کر خود کو بڑ الیڈر بنانے کی کو شش کر تا ہے،جس سے لیڈری کی شوق میں وہ اپنے کارکنان کو ناراض نہیں کر نا چاہتا ،کیونکہ جب کارکنان ناراض ہو تے ہیں تو پھر وہ ڈاکٹر کی لیڈری سے انکار کر تے ہیں ۔اب ایسا لگ رہا ہے کہ غوث بخش بیزنجو ،ڈاکٹر حئی اور ڈاکٹر مالک کے بعد شوق لیڈری اور رہنمائی کرنے کی خواہش کے تسلسل کو ڈاکٹر اللہ نظر نے بر قرار رکھا ہے،ان لوگوں نے ووٹ کے زریعے عوام کا استحصال کیااب شہیدوں کے خون کا استحصال ہو رہا ہے،آج بی این ایم اور بی ایس او کا جو برا حال بی ایل ایف نے اپنے گروہی مفادات کے لئے کیا اس کا تاریخ میں سابقہ کوئی ریکارڈ موجود نہیں،آج نہ بی این ایم شہید غلام محمد والا بی این ایم رہا نہ بی ایس او 2006سے 2010 کا بی ایس او ر ہااور نہ بی ایل ایف وہ بی ایل ایف رہا جس کی قیادت استاد واحد کمبر کے ہاتھوں میں تھا ۔اب بی ایس او ،بی این ایم اور بی ایل ایف اپنے تنظیمی اصل ڈھانچے اصولوں اور مقصد سے ہٹ کر کچھ مخصوص مفادات کے لئے ایک ہو گئے ہیں جو کہ قومی مفادات کے بر عکس ہے۔
جو مایوسیاں اور بے چینیاں غوث بخش ،ڈاکٹر حئی اور ڈاکٹر مالک کی وجہ سے عوام میں سرایت کر چکی تھی جن کو اتارنے میں کئی وقت لگ سکتے تھے مگر شہید غلام محمد کی بے پناہ قربانیاں ،مخلصی و ایمانداری ،واحد کمبر کی بی ایل ایف کی درست قیادت کرنے کی کوششوں اور شہیدوں کی لازوال قربانیاں نے کم وقت میں دور کر دیا اور عوام کو تحریک کا حصہ بنادیا۔لیکن آج پھر وہی مایوسیاں اور بد گمانیاں شدت کے ساتھ جنم لے رہے ہیں اگر پھر قوم مایوس ہو کر تحریک سے ہمیشہ اپنا ناطہ رشتہ توڈ کر کنارہ کش ہو گئے پھر ان بے چینیاں پیدا کرنے اور مایوسیاں پھیلانے میں ملوث خود کو لیڈر اور سربراہ کے طور پر پیش کر نے والے عوامی جذبات اور احساسات سے کھیلنے کے جرائم کا احتساب عوامی عدالت میں پیش ہو کر دے سکتے ہیں ؟
آج اس طرح کیوں ہو رہا ہے ؟کیا جو مایوسیاں غوث بخش ،حئی اور ڈاکٹر مالک کے زمانے میں پھیل گئے تھے جن کی وجہ سے لوگوں نے اپنا بندھن تحریک سے ختم کر دیاتھا ،آج پھر وہی بد نصیب تاریخ کو کیوں دہرایا جا رہا ہے ؟کب تک لیڈری کے شوق کی تکمیل اور قیادت کر نے کی شطرنج کا کھیل معصوم عوام کے ساتھ جاری رہے گا ؟کیا اب اس مایوسیاں پیدا کرنے کے سفر کا خاتمہ کرنانہیں چائیے؟
میرے خیال کے مطابق اب سب کو اپنی اپنی غلط پالیسیوں کا اثر نو جائزہ لینا چائیے،بہتر عوامی مفادات کے تحفظ کے لئے جامع پالیسی اور گوناگوں حکمت عملیاں ترتیب دے کر تشکیل دینا چائیے او ر وقت و حالات کی باریک بینی کا جائزہ لے کر عوامی بے چینی کی کیفیت پر قابو پاکر ان کی نفرت کو محبت میں بدل دیں۔اور عوام کو یہ باور کروائیں کہ ہماری کامیابیاں آپ ہی کے ساتھ پیوست ہیں اور ہم آپ ہی کے سہارے سے اپنی منزل کے حصول کی طرف بڑھ سکتے ہیں اور آپ ہمیں ساتھ دے کر ہم دشمن کو شکست دینے میں کامیاب ہو نگیں،کیونکہ عوام کی مدد و کمک اور طاقت کے بغیر فاتح کی منزل تک پہنچنا نا ممکن ہے ،اس لئے عوام کو کسی بے بنیادجھوٹ پر غداری کا نا جائز الزام لگا کر دیوار پر لگانے سے بہتر ہے کہ اس کو بھری پیار و محبت سے اپنے دل و دماغ میں جگہ دیں اور اس کے دل و دماغ میں اپنے لئے عزت کا مقام پیدا کر اپنی جگہ کو یعقینی بنائیں ،تاکہ ہر قسم کی نقصانات سے بچ سکیں۔
بی ایل اے کا زکر اس لئے نہیں کیا کیونکہ مکران کے اس جدو جہد میں بی ایل اے شریک نہیں رہا ہے ،( قطعا نظر بی ایل اے کے بی ایل ایف کی مدد و کمک سے)اب بی ایل اے کو ایک سال سے زیادہ عرصہ ہوا ہے کہ اس نے اپنی کاروائیاں کا آغاز پنجگور سے شروع کیا ہے ،بس بی
ایل اے سے اتنا کہوں گا کہ آپ کے لئے ابھی تک عوامی سطح پر ایک اچھا تاثر پایا جاتا ہے،آپ بہ حثیت ایک سبق کے طور بی ایل ایف اور بی آر اے کے کردار کا مطالعہ کریں تاکہ آپ آچھی پالیسیوں اور حکمت عملیوں کے ساتھ قومی جدو جہد آزادی کو عوامی طاقت کے ساتھ آگے بڑھانے میں کامیاب ہو سکیں اور کسی بھی عوامی رکاوٹ اور دباوُ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0