مہاجرین کا مسئلہ مذاہب اور عقائد سے بالاتر ہے‘، یُنکر

بدھ 9 ستمبر, 2015

اسٹراس برگ (ویب نیوز)یورپی کمیشن کے سربراہ ژاں کلوڈ یُنکر نے اپنے پہلے پالیسی خطاب میں یورپ کو درپیش مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے لیے ایک نیا ’جرأت مندانہ‘ منصوبہ پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ مہاجرین کو ٹھہرانے کا کوئی مستقل نظام وضع کیا جائے۔
اپنے اس پہلے ’اسٹیٹ آف دی یونین‘ خطاب میں ژاں کلوڈ یُنکر نے یورپی یونین کے رکن ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ یونین کی بیرونی سرحدوں پر واقع ملکوں سے ایک لاکھ ساٹھ ہزار مہاجرین کو دیگر ملکوں میں بسانے سے متعلق کسی فیصلے پر جلد از جلد اور ممکنہ طور پر اگلے ہی ہفتے متفق ہو جائیں۔
ایک ایسے وقت میں جب کہ یورپ کو دوسری عالمی جنگ کے بعد سے مہاجرین کے سب سے بڑے سیلاب کا سامنا ہے، یُنکر نے کہا کہ یورپی یونین کے رکن ملکوں کو اپنی تاریخی اَقدار پر نظر رکھنا چاہیے۔ آج کل یورپ پہنچنے والے مہاجرین کی ایک بڑی تعداد خاص طور پر شام کے تنازعے سے بچ کر آنے والوں کی ہے۔
فرانسیسی شہر اسٹراس برگ میں یورپی پارلیمان سے اپنے خطاب میں یُنکر نے تالیوں کی گونج میں کہا:’’یورپی یونین کے لیے یہ وقت خوفزدہ ہونے کا نہیں بلکہ جرأت مندانہ اور فیصلہ کن اقدامات کرنے کا ہے۔‘‘
یُنکر نے، جو لکسمبرگ کے وزیر اعظم بھی رہ چکے ہیں، کہا:’’یورپ نے ان دنوں کے دوران ایک لاکھ ساٹھ ہزار افراد کو پناہ دی ہے۔ اس کام کو ایک ذمے داری سجھ کر انجام دیا جانا چاہیے۔ مَیں یورپی کونسل پر زور دیتا ہوں کہ وہ ان ایک لاکھ ساٹھ ہزار افراد کو آگے دیگر رکن ملکوں میں بسانے کا معاملہ چَودہ ستمبر کو وُزرائے داخلہ کے مجوزہ اجلاس میں زیرِ بحث لائے اور کسی (ٹھوس) حل پر اتفاق کیا جائے۔‘‘
یُنکر اس نئی اسکیم کا حوالہ دے رہے تھے، جس میں مہاجرین کے مسئلے کی وجہ سے حد سے زیادہ دباؤ کے شکار ملکوں اٹلی، یونان اور ہنگری سے ایک لاکھ بیس ہزار مہاجرین کو ہنگامی بنیادوں پر طے شُدہ کوٹے کے تحت مختلف رکن ملکوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ اِسی طرح کی ایک اسیکم کا اعلان یُنکر نے اس سال مئی میں کیا تھا، جس کے تحت اٹلی اور یونان سے چالیس ہزار مہاجرین کو دیگر رکن ملکوں میں بسانے کا ذکر کیا گیا تھا۔
یُنکر نے رکن ملکوں کو مہاجرین کو اپنے ہاں قبول کرنے کا فیصلہ کرتے وقت مذہب کی تخصیص کرنے سے خبردار کیا اور اس حوالے سے یورپ میں ماضی میں مذہبی بنیادوں پر روا رکھے جانے والے ناروا سلوک کی یادیں تازہ کیں۔ یُنکر نے کہا:’’جب مہاجرین کا معاملہ ہو تو پھر کوئی مذہب نہیں ہے، کوئی عقیدہ نہیں ہے اور کوئی فلسفہ نہیں ہے۔‘‘
ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان نے گزشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ یورپ کی جانب آنے والا زیادہ تر مسلمان مہاجرین کا سیلاب اس براعظم کی مسیحی جڑوں کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اس تصور کو مسترد کر دیا تھا۔
یُنکر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مستقبل میں مہاجرین کو دیگر ملکوں میں بسانے کے حوالے سے کوئی مستقل حل تلاش کیا جائے، جس کے تحت بحرانی حالات سے زیادہ تیزی کے ساتھ بھی نمٹا جا سکے۔
یُنکر نے کہا کہ یورپی کمیشن 2016ء کے اوائل میں یورپی یونین کی جانب قانونی طریقے سے مہاجرت کا ایک نیا بڑا پلان متعارف کروائے گا تاکہ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے مہاجرین کی بڑی تعداد کو کنٹرول کیا جا سکے۔
یُنکر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جب مہاجرین کی سیاسی پناہ کی درخواستوں پر غور کیا جا رہا ہو تو اس دوران یورپی یونین میں رائج موجودہ ضوابط کے برعکس مہاجرین کو پہلے روز سے ہی کام کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے تاکہ وہ اپنا روزگار خود پیدا کر سکیں اور اُنہیں یہ احساس نہ ہو کہ وہ کسی پر بوجھ ہیں۔
یُنکر کا یہ بھی کہنا تھا کہ شینگن معاہدے کے تحت یورپی یونین کے زیادہ تر ملکوں کے درمیان ویزے کے بغیر آمد و رفت کا جو فیصلہ کیا گیا تھا، اُسے مہاجرین کی آمد کو روکنے کی کوششوں کے دوران کچھ گزند ضرور پہنچی ہے لیکن یورپی کمیشن سفر اور نقل و حمل کی اس آزادی کو آئندہ بھی برقرار رکھے گا۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0